41

ربھو

قربانی کا پیالہ وہ دیوتاؤں کی لیے بتایا ہے غالباً چاند ہوگا ۔ جو سوما کا چمکتا ہوا پیالہ ہے ۔ ربھو موسموں کے جنات ہیں ۔ ممکن ہے کہ ابتدا میں صرف ایک ربھو ہو ۔ یعنی سال جس کے رفتہ رفتہ تین بھائی ہوگئے یعنی تین موسم ۔ کیوں کہ ویدک زمانے کے آریا سال کو تین موسموں میں تقسیم کرتے تھے ۔ یعنی گرمی ، جاڑا اور برسات ۔ ربھوؤں کا کار نمایاں یہ تھا کہ انہوں نے سوما کے چار پیالے کر دیئے ، جس سے چاند کی چار حالتوں سے مراد ہے ۔ یعنی اس کا بڑھنا ، پورا ہونا ، گھٹنا اور ڈوب جانا ۔ اس افسانے کا آخری جزو یہ ہے کہ انہوں نے سوتیار کے گھر میں بارہ روز آرام کیا ۔ یہ وہ بارہ روز ہیں جو ہندوستان کے قدیم ہیئت داں راس الجدی کے زمانے میں ۳۵۴ روز کے قمری سال میں جوڑ کر سال شمسی کے مطابق کر دیتے تھے ۔ شمسی سال بعد کے زمانہ میں غالبا وشنو کی پرستش کے سلسلے میں رائج ہوا ہے ۔ یہ زمانہ ہے جب کہ بہ ظاہر آفتاب اور موسم نئے سال کے انتظار میں بالکل غیر متحرک نظر آتے ہیں ۔ سال نو کے شروع ہوتے ہی وہ اپنا کام کو پھر شروع کر دیتے ہیں ۔ یعنی پہاڑوں کو سرسبز کر دیتے ہیں اور وادیوں میں پانی پہنچاتے ہیں ۔ ربھوؤں کے سحر کے دوسرے کرتبوں کی بھی بہ آسانی توضیح ہوسکتی ہے ۔ موسم ہی اندر کے رتھ اور گھوڑوں کو بناتے ہیں ۔ کیوں کہ باد و باراں کا طوفان سال کے ایک خاص موسم میں آتا ہے ۔ اپنے بوڑھے والدین یعنی زمین اور آسمان کو وہ جوان بنادیتے ہیں اور ہر چیز کو پیدا کرنے والی گائے یعنی زمین کو بھی جوان بناتے ہیں ۔ وش وروپ ایک تین سر والا دیو ہے جس کا سر اندر کاٹ دیتا ہے اس سے مراد مختلف طرح کے بادلوں سے ہے جو آسمان کی اولاد ہوسکتے ہیں ۔ جب اس کو ایک خبیث اور بدباطن ساحر خیال کیا جائے ۔ ہیلی برانٹ کا خیال ہے کہ توشتار چاند ہے ۔ برخلاف اس کے لڈوگ کو اتفاق ہے کہ ربھو سے مراد موسموں سے ہے ۔ مگر وہ توشتار کو آفتاب خیال کرتا ہے اور پیالے کو سال جس کو ربھو چار موسم میں تقسیم کر دیتے ہیں ۔ 
 ’’تینوں بھائی رِبھو جو بعض لوگوں کے خیال میں توشتار کے شاگرد تھے اور صناعی میں اس کے حریف تھے ۔ انہوں نے اندر کی رتھ اور گھوڑے اور تین پیئے کی رتھ بنائی تھی ۔ اس عجیب و غریب گائے کو بھی انہوں نے بھی ازسر نوجوانی بخشی تھی ۔ جو ہر چیز مرضی کے مطابق پیدا کرتی تھی ۔ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے بوڑھے والدین کو بھی جوان بنادیا تھا ۔ یہ تینوں بھائی دیوتا نہ تھے بلکہ محض عابد و زاہد آدمی تھے اور بھنٹ چڑھایا کرتے تھے ۔ ایک دفعہ دیوتاؤں کا پیغامبر اگنی ان کے پاس یہ پیغام لے کر آیا کہ تم ایک پیالے سے چار پیالے بنادو میں اس لیے آیا ہوں ۔ تم اگر یہ کام کردو تو تمہار اعزاز دیوتاؤں کے برابر ہوجائے گا ۔ اس دشوار کام کو پورا کرکے وہ اپنی رتھ میں بیٹھ کر بے خوف و خطر مہربان سوتیار کے گھر چلے گئے اور انہیں حیات ابدی انعام میں ملی اور آسمانی سوما کے پینے اور انسان کی سوما کی قربانیوں میں بلائے جانے کا اعزاز حاصل ہوگیا ۔ مگر توشتار کو ان لوگوں کی یہ جسارت بڑی ناگوار معلوم ہوئی اور اس نے اس کو ان کی طرف سے پاپ تصور کیا ۔ یہاں تک کہ اس نے دیوتاؤں سے درخواست کی کہ ان لوگوں کو مار ڈالیں قبل اس کے کہ وہ امرت پیئیں ۔ مگر جب اس کو اس منصوبے میں ناکامی ہوئی تو وہ سخت رنجیدہ ہوا اور آخر روپوش ہوکر دیوتاؤں کی بیویوں میں جا چھپا’’۔ (رگ وید اول ۱۱،۱۶۱) 
رگ وید کا ایک شاعر سوال کرتا ہے کہ وہ پیالہ کس چیز کا بنا تھا جس کو تم نے چار پیالے اپنے صناعی سے بنائے ۔ یہی سوال ہمارے علما کے لبوں پر بھی ہے مگر اس سوال کا جواب دینا سخت دشوار ہے ۔ کیوں کہ توشتار کے خط و خال اس قدر مسخ ہوگئے ہیں کہ اس کی شخصیت کا پتہ لگانا ناممکن ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہایت قدیم دیوتا ہے جس کا اعزاز باقی نہیں رہا ہے ۔ بہت سے ناممکمل افسانے اس کے متعلق مشہور ہوگئے ہیں ۔ جن کو بعد کے زمانے کے لوگوں نے تصرف کرکے اور بھی بگاڑ دیا ہے ۔ مگر اختلاف آرا سے نور پیدا ہوتا ہے اور متعدد تشریحوں کا جن میں تناقص بھی ہے اور مقابلہ کرنے سے حسب ذیل معلومات توشتار اور ربھو کے متعلق حاصل ہوتی ہیں جو مطابق ہیں ان عباتوں سے جہاں ان کا ذکر آیا ہے ۔

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں