64

رسم الخط اور اس کے مسائل

 
کہنے کو دنیا کی تمام دنیا کی رسم الخط فنیقی رسم الخط سے وجود میں آئے ہیں اور اس وقت دنیا میں استعمال کیے جانے والے رسم الخط کی چند بڑی اقسام میں سامی، رومن اور دیوناگری اسی کی شاخ ہیں یا شاخوں سے نکلی ہیں۔ اب دنیا کے بشتر علاقوں میں یہی رسم الخط مختلف تبدیلیوں کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں۔ ان رسم الخط میں شکلوں کے علاوہ آواز کی تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔ کسی زبان کا رسم الخط صرف اسی زبان کی ضرورتیں پوری کرتا ہے ۔ اس لیے یہ کہنا کہ کوئی رسم الخط مکمل ہے لغو بات ہے ۔ کوئی رسم الخط کسی علاقہ میں رائج ہوتا ہے تو اس میں وہاں کی زبان کے مطابق تبدیلوں کی ضرورت پڑتی ہے ۔ اس لیے کسی بھی رسم الخط استعمال کرنے والے اپنی زبان کے مطابق اس کی شکلوں یا آوازوں میں تبدیلی لا کر استعمال کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کسی رسم الخط کو ایک حروف دوسری زبان میں مختلف آواز دیتا ہے ۔ اس لیے امیریکہ ، آسٹریلیا اور برطانیہ کے لہجے مختلف ہیں ۔ یا جو انگلش پڑھ سکتے ہیں وہ فرانسیسی ، ترکی انڈونیشیا اور اطالوی آواز ادا نہیں کرسکتا ہے ۔ 
بہت سے اردو کو استعمال کرنے والوں کا خیال ہے کہ اردو رسم الخط مکمل ہے ۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے اردو رسم الخط یا دنیا کا کوئی رسم الخط مکمل نہیں ہوتا ہے ۔ اس کے حروف دنیا کی ہر آواز کی ادائیگی درست طریقہ سے ادا نہیں کرسکتے ہیں ۔ دور کیوں جائیں بیشتر پاکستانی زبانوں کو اردو میں لکھا جائے تو ان کی درست ادائیگی اس زبان کو بولنے والا ہی کرسکتا ہے ۔ جس طرح رومن میں اردو الفاظ لکھیں تو اس کی درست ادائیگی صرف اردو دان کرسکتا ہے انگش داں نہیں۔ یا اردو میں کوئی انگلش کا ورڈ لکھیں تو اس کی درست ادائیگی صرف اردو جاننے والوں کے لیے مشکل ہوتی ہے ۔ 
اردو میں عربی رسم الخط استعمال ہوتا ہے اور یہ فارسی کے راستے آیا ہے ۔ اس لیے اس میں عربی کے علاوہ فارسی آوازیں اور ہندی آوازیں بھی ہیں۔ فارسی رسم الخظ میں عربی آوازیں نہیں ہیں ۔ مگر اس میں عربی حروف تہجی بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہی حال پشتو اور بلوچی کا ہے ۔ خاص کر بلوچی میں عربی آوازیں نہیں ہیں ۔ مگر مذہب کی وجہ سے عربی حروف بھی پڑھائے جاتے ہیں۔ پشتو میں دو لہجے ہیں ایک میں ش کے بجائے چ استعمال ہوتی ہے اور ایسی چار تبدیلیاں ہوتی ہیں ۔ اس لیے متبادل طور پر ایسے حروف مروج کیے گئے ہیں جو دونوں لہجے یعنی ش اور چ دونوں استعمال کرتے ہیں۔ 
اردو رسم الخط کا جیسے ذکر ہوچکا ہے کہ یہ عربی ہے اور اس میں فارسی حروف بھی شامل ہیں۔ اس میں ہندی آوازوں کے لیے حروف صحیح کے میں ھ لگا اس آواز کو نکالا جاتا ہے ۔ اگر یہ آوازوں کے حروف صحیح بنائے جاتے تو حروف تہجی کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوتی۔ جیسا کہ سندھی میں الگ حروف کی وجہ سے حروف تہجی کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے ۔
اردو کا رسم الخط اردو کی ضرورتیں پورا کرتا ہے مگر وہ ہماری علاقائی زبانوں کی بیشتر ضرورتیں پوری نہیں کرتا ہے ۔ مثلاً سندھی میں چار دوہرے بولے جانے والے حروف یا بعض سرائیکی اور پنجابی آوازیں بھی دہری بولی جاتی ہیں اور انہیں اردو میں درست طریقہ سے ادا نہیں کی جاسکتی ہیں ۔ یہ آوازیں اگرچہ سنسکرت سے آئیں ہیں مگر اردو میں مروج نہیں ہیں ۔ پنجابی کی مشکل کو حل کرنے کے لیے سکھوں نے گورمکھی رسم الخط ترتیب دیا۔ مگر پنجابی مسلمان اسے استعمال نہیں کرتے ہیں۔ کیوں کہ اس میں عربی یا فارسی آوازیں نہیں ہیں ۔ یہی وجہ ہے پنجابی آوازوں کو اردو میں درست طریقہ سے نہیں لکھا جاسکتا ہے ۔ اگرچہ پنجابی کو اردو رسم الخط میں لکھی جاتی ہے مگر ان کی درست ادائیگی صرف پنجابی بولنے والا ہی کرسکتا ہے ۔  

ان دہری آوزوں کا استعمال سنسکرت میں بہت ہوتا ہے ۔ اردو میں ایک ہی دوہرا حروف ڑ استعمال ہوتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے یہ دہرے حروف پشتو میں بھی استعمال ہوتے تھے ۔ میں نے بعض قدیم اردو کی کتابوں میں دیکھا ہے ان دوہرے حروف کے لیے حروف کے اوپر ایک چھوٹا ط بنا دیا جاتا تھا ۔
چونکہ پنجابی کو چونکہ ذریعہ تعلیم نہیں بنایا گیا اس لیے الگ رسم الخط یا اس کی دوست ادائیگی کے لیے حروف نہیں بنائے گئے ۔ میرا خیال ہے سنجیدیگی سے ان دو مسلوں یعنی پنجابی میں ذریعہ تعلیم نہیں تو کم از کم ایک پنجابی درسی کتاب ثانوی کلاسوں تک ضرور اجزا ہونا چاہیے اور دوسرا پنجابی کی ان آوازوں کی نشادہی جن کے لیے اردو رسم الخط کے حروف تہجی کے ذریعہ درست ادائیگی نہیں ہوتی ہے ان کے لیے نئے حروف کا اختراع ہونا چاہیے ۔ اس طرح سرائیکی رسم الخط اور اس کی تعلیم کی شدید ضرورت ہے ۔ ورنہ یہ لہجے اور الفاظ فنا ہوجائیں گے ۔ ہم دیکھتے ہیں سندھی میں دوہری آوازوں کے لیے الگ حروف موجود ہیں ۔ مگر شہروں میں سندھی بولنے والوں میں ان کی درست ادائیگی نہیں کرتے ہیں ۔ البتہ دیہاتی ان کی درست ادائیگی کرتے ہیں ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان سہل پسند ہے ۔ بہت سی نرم آوازیں ابتدا میں سخت لہجہ میں ادا کرتا تھا۔ مگر رفتہ رفتہ اس کا نرم لہجہ بولنے لگا تو وہ ان کھڑی آوازوں کو ادا کرنے میں دقت محسوس کرنے لگا ہے ۔ اس کی ایک مثال وزیرستان کا یا وزیریوں کا ایک قبیلہ محسود ہے ۔ اب اس قبیلے کے لوگ اپنے کو مسعود کہنے لگے ہیں۔ آج کل بین الاقوامی سطح پر انگلش اور ملکی سطح پر اردو کا چلن ہے ۔ ان دونوں زبانوں میں دوھرے حروف استعمال نہیں ہوتے ہیں یہی وجہ ہے یہ خطرہ موجود ہے کہ یہ دوہرے حروف فناہ ہوجائیں اور ان کے بولنے والے نہیں رہیں ۔
تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں