73

رشی

اس اصلاحات کے اشیقات پر کوئی عمومی اتفاق رائے نہیں پایا جاتا ہے ، لیکن مونیئر ولیمز Monier Williams کی رائے اس کے بیشتر محل استعمال کے حوالے سے خاص معتبر معلوم ہوتی ہے ۔ اس کا خیال ہے کہ رشی کا معتبر ’رس‘ یا ’درس‘ ہے جو دیکھنا کے ہم معنی ہے ۔ یہیںسے رشی نکلا ہے ، جس کا مطلب ’دیکھانے کا سبب ‘ ہے ۔ علاوہ ازیں اسی الفاظ کو ’مقدس گیت گانے والا‘ کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ راہر Rahukar کو اپنی کتاب Seersکے تعرف میں لکھا ہے ، ہندوستانی ثقافت کو رشی اور منی ثقافتوں کی بنت خیال کرتا ہے ۔ ان میں رشی آریائی فکری خطوط کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ جب کہ منی ان کے قبل ویدک دور کے ہم مرتبہ ہیں ۔ رشی کی مثالیں جو لوگوں کو لوگوںکو روحانی طرز عمل فراہم کرتے ہیں ۔ اتھر وید کے مطابق سپت رشی (سات رشی) نوع انسانی کے بدائی خالق ہیں ۔ انہوں نے تپسیا اور دوسری رسوم کی مدد سے گائے پیدا کی ۔
ہمیں رگ میں کئی رشیوں اور ان کے خاندانوں کے حوال ملتے ہیں ، لیکن ویدوں کے بعد کی اساطیر Past .vidid Mythoby میں ان کی درجہ بندی کردی گئی ۔ اس عہد میں ہمیں مہارشی یا سپت رشی ملتے ہیں ۔ انہیں جد امجد بھی کہا جاتا ہے ، پھر راج رشی ہیں ، جن کا شجرہ نسب شاہی خاندانوں سے جا ملتا ہے ۔ برہم رشی پروہتوں کے قریب تر ہیں ۔ پھر دیو رشی ہیں جو اپنی ریاضت اور تپسیا کے باعث دیوتاؤں کا سا درجہ حاصل کرلیتے ہیں ۔ نارو ، اتری اور بعض دوسرے رشیوں پر یہ عنایت ہوئی تھی ۔ معبودیت کا یہ درجہ اشتقافیات اور دیوتا کی افلاکی معنویت دونوں پر پورا اترتا ہے ۔ کیوں کہ موخر الذکر کا تعلق کا دیوس Dyaus یعنی آسمانی نور سے ہے ۔ 
 رگ وید کے رشیوں کو پروہت خاندانوں میں سے بھی چنیدہ سمجھا جانا چاہیے ۔ ان کے متعلق یا ان سے منسوب مقدس کہانیاں رگ وید کی مناجات کا حصہ ہیں ۔ ویدی ثقافت کی تشکیل میں ان کا کردار اپنی جگہ مسلم ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے چقافت کو محفوظ رکھنے کے لیے مثالیں بھی فراہم کیں ۔ انہیں کی تربیت کے باعث بعد میں آنے والے ہند آریائی ثقافت قائم کر پائے ۔ اسے عقیدے کا حصہ بنا لیا گیا کہ ویدوں پر عبور مستقل بینی میں بھی معاونت کرسکتا ہے ۔ اسی وجہ سے آلستمب دھرم شاشتر میں الہام کے ختم ہونے کا اعلان کردیا گیا ۔ ساتھ ہی وجدان کی وساطت سے آسمانی سرچشمہ ہدایت کا سلسلہ بھی منقطع ہوگیا ۔ لیکن شاستر میں بھی تسلیم کر لیا گیا کہ اگر من مقدس متون پر ارتکاز کریں تو اپنے ماضی کے ہم مقاموں کی سی صلاحیت حاصل کرسکتے ہیں ۔
یگیہ کی ادائیگی کے دوران اس کی تاثیر بڑھانے کے لیے پرانے رشیوں کے نام کی چب کی جاتی ہے ۔ ہوں یہ نام یگیہ کے منتروں کا سا مقام حاصل کرنے کے بعد رسوم کا مستقل حصہ بن گئے ۔ اس طرح کے منتروں کے مجموعہ اتھر وید کی بعض مناجات رشیوں کے اس استعمال کی بہت عمدہ مثالیں پیش کرتے ہیں ۔ 
آستمبا شاستر کا اعلان اپنی جگہ لیکن پرانوں اور مہابھارت میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں کہ وید عہد کے بعد بھی کئی لوگوں کو رشی کا خطاب دیا گیا ۔ اسی طرح اور بھی کئی لوگ جو پروہت نہیں تھے اور ازرہ احترام بھگوت اور منتر کے خطاب سے نوزے گئے ۔ اس کی ایک مثال تو بدھ ہے ۔ ذات کے باعث کھشتری ہونے کے باعث بھگوت ( مالک ) اور ساکیہ منی کا خطاب دیا گیا ۔ 
بدھ بذات خود بدھ ، بدھ بزرگ اور رشیوں کے مافوق فطرت بزرگ ایک ہی جست میں بہشت کی جھیل انوپت پت اور رشی ہوا کو چیرتے شویت و دیپ کی پرسرار سرزمین میں جاپہنچے ۔

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں