74

روایت اور حدیث

ہم نہ حدیثوں سے انکار کرتے ہیں اور نہ ہی ان کی اہمیت سے انکار کرتے نہیں ہیں اور حدیث قران کی تشریح و بیان مانتے ہیں ۔ کیوں کہ رسول اللہ نے خطبہ حج الودع میں کہا تھا کہ میں تمہارے درمیان ایک کتاب قران چھوڑے جارہا ہوں ۔ اگر تم اس پر چلے تو بکھرو گے نہیں ۔ اگر کوئی میری بات ایسی دیکھو جو قران کے خلاف ہے تو جان لو وہ میری بات نہیں ہے ۔ مگر ہم نے رسول اللہ کے دیئے ہوئے معیار کو چھوڑ کر صرف راوی کے معتبر ہونے کو معیار بنایا اور راویوں کے بارے میں ہر دور میں اختلافات رہے ہیں ۔ اس میں رخنے بھی رہے ہیں ۔ جس سے فائدہ اٹھا کر بہت سے لوگ جو بظاہر مسلمان تھے اور انہوں نے حدیثوں کے نام سے بے شمار ایسی باتیں داخل کر دیں جو قران کے خلاف اپنے عقائد کی حمایت اور خرافات بھر دیں ۔

صحابیوں کے نام سے روایوں نے بہت سی حدیثیں وضع کیں ہیں ۔ مثلاً اسرائیلی روایات کو حدیثوں اور تفسیروں کے نام سے داخل کردیا گیا یا بہت فارسیوں نے مسلمان ہونے کے بعد اپنے قدیم عقائد کو حدیثوں کو داخل کیا ۔ اس طرح سے لوگوں نے اپنے فرقہ کی تعائید میں حدیثیں وضع کیں ۔ ان حدیثوں میں خرافات بھری ہوئی ہیں مگر اور قران کے خلاف بھی ہیں ۔ مگر انہیں اس لیے قبول کیا جاتا ہے کہ اس کے راوی مستند ہیں ۔ یعنی ہر وہ بات کو پرکھے بغیر مانیں جو حدیث کے نام سے ہمارے سامنے آئے ؟ چاہے وہ کسی قسم کی خرافات ہی کیوں نہیں ہو تو پھر شیطانی آیات اور رنگیلا رسول جیسی کتابیں کیسے غلط ہوسکتی ہیں ۔ کیوں کہ ان کتب کے ماخذ یہی حدیثوں کی کتب ہیں اور پھر ان کتب میں بہت سی ایسی چیزیں ملتی ہیں جو ہم غلط سمجھتے ہیں مگر ان حدیثوں کی کتب کو مستند مانتے ہیں مثلاً متعہ ۔

جہاں تک راوی کے مستند ہونے کا سوال ہے میرے ساتھ بھی فیس بکس پر ایک واقع پیش آیا ۔ میری کسی بات پر (غالباً میں نے روایت کو نہیں تسلیم نہیں کیا تھا) ایک صاحب نے مجھ سے کہا انصاری صاحب میں آپ سے ایک ایک راوی کے بارے میں بحث کرسکتا ہوں ۔

جواب میں نے عرض کیا محترم آپ کے نام سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کا تعلق مسلک شیعہ ہے اور آپ کے مسلک میں حدیث کی شرط ہے کہ اس کی روایت کسی امام تک پہنچے ۔ اس لیے آپ ان راویوں پر بحث کیوں کر رہے ہیں ؟

دوسری بات یہ ہے کہ راویوں کی روایت پر میں کیسے ایمان لائوں ۔ رضی برادران نے نہج الباغہ لکھی تھی جو حضرت علی کی فہم و فراست کے بارے میں ہے ۔ مگر حیرت ہے اس سے پہلے ایک ایک مستند شیعہ عالم علامہ ابن طباطبائی (میں انہیں شیعہ نہیں مانتا ہوں) نے اپنی شہرہ آفاق کتاب الفجری سیاست پر لکھ چکے تھے ۔ اس کتاب میں علامہ ابن طباطبائی عرب کے چار ذہین افراد کے نام حضرت معاویہ ، حضرت عمر بن العاص ، ابن زیاد اور قاضی شریک کا نام بتائے ہیں اور حضرت معاویہ کی فہم و فراست کے بیسوں واقعات درج کیے ہیں ۔ حیرت ہے علامہ نے حضرت کی فراست کا ایک بھئ واقعہ بھی درج نہیں کیا ہے ۔ اب مجھے بتائیں میں رایوں پر کیسے ایمان لائوں ۔

حدیث کی دو ابتدائی کتب موطا امام مالک اور موطا محمد صرف ایسی ہیں جو ہر قسم کی فواحش و خرافات سے پاک ہیں اور اس میں کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو قران میں نہیں ۔ مگر افسوس ہے ان کتب کو حدیث کی کتب میں شمار ضرور کیا جاتا ہے ۔ مگر ان کتب کا حوالہ نہیں دیا جاتا ہے ۔ ان کتب کو جب آپ پڑھیں گے تو حدیث دوسری کتب کو اٹھا کر کوڑے میں پھینک دیں گے ۔ ان حدیث کی کتب کو آپ کو کچھ چیزیں نہیں ملیں گیں جو حدیثوں دوسری کتب میں ہیں ۔ ان کچھ یہ ہیں ۔

ان کتب میں اہل بیت کی حرمت کی کوئی حدیث نہیں ہے ۔

ان کتب میں قران کی کوئی آیات منسوخ نہیں ہے ۔

ان کتب میں فواحش بالکل نہیں ہے جب کہ دوسری کتب اس سے بھری ہوئی ہیں ْ

ان کتب میں زنا یا متعہ کے بارے میں کوئی حدیث نہیںہے ۔

ان کتب میں خرافات اور داستان گوئی سے پرہیز کیا گیا ہے ۔

میں تفصیل میں جائوں تو بہت لمبی ہوگی ۔ مگر آپ کو خرافات کی کچھ مثالیں دیتا ہوں ۔   بخاری شریف کی مشہور زمانہ معراج والی حدیث جس میں پچاس سے پانچ نمازوں والی حدیث آپ نے پڑھی ہوگی ۔ اس حدیث کے مطابق معراج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ام ہانی کے گھر میں رات کے وقت ہوئی تھی ۔ ام ہانی وہی خاتون ہیں جن کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طالب سے رشتہ طلب کیا ۔ ابو طالب نے منع کرتے ہوئے کہا ہم اپنے برابری کے لوگوں میں رشتہ کرتے ہیں اور ان کی شادی بنی مخزوم میں عکرمہ سے کردی ۔ یہ ام ہانی فتح مکہ پر ایمان لائیں تھیں اور ان کا شوہر بھاگ گیا اور عیسائی مذہب اختیار کرلیا تھا ۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے آپ ان کے گھر رات گزارنے کیوں گئے تھے ؟ دوسری بات یہ ہے راستہ کی جو کچھ داستان بیان کئی گئی ہے اس میں جو لوگوں عذاب کی کہانیاں وہ سب کی سب اوستا سے لی گئی ہیں ۔ پھر معراج کب ہوئی اس کے بارے مختلف روایتیں ہیں جو دو سے پانچ سال ہجرت سے پہلے ہوئی تھی مگر مکہ میں ہوئی تھی ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر نماز فرض ہوگئی تھی تو ہجرت کے دو سال پہلے کیوں فرض ہوئی تھی ۔ اس طرح کے بہت اعتراض کیے جاسکتے ہیں ۔

جب ہم روایات دیکھتے ہیں تو اس میں معراج کا مقام خانہ کعبہ بتایا گیا ہے اور معراج کی بھی کوئی تفصیل بھی بیان نہیں کی گئی ہے ۔ نماز کے بارے میں جو حدیث ہے اس کے مطابق ایک دن حضرت جبریل علیہ سلام ایک صحابی اسلم خزرعی کی شکل میں آئے اور وہ سارا دن آپ کے ساتھ رہے انہوں نے ہی نمازوں کے وقت اور ان کی رکعتوں کی تعلیم دی ۔

یہ سیدھی سادی حدیثیں شاید آپ کو پسند نہیں آئیں گیں ۔ کیوں کہ اس میں کوئی رنگنی اور خرافات نہیں ہے ۔ اس لیے اس پر کسی کو یقین بھی نہیں ہے ۔

خالی حدیثیں وضع نہیں کیں گئی بلکہ حدیثوں کی کتب بھی وضع کی گئی ۔ مثلاً امام ابو حنیفہ جن کے بارے میں الزام ہے کہ حدیثوں کو نہیں مانتے تھے اور صرف سترہ حدیثوں کو مانا ہے ۔ جب کہ امام ابو حنیفہ نے قران کریم کی ، حدیثوں اور دوسرے دلائل کی مدد سے فقہ کا اتنا بڑا مجموعہ تشکیل دیا جس کے بارے میں یورپین کا کہنا ہے کہ یہ رومن لاء کی نقل ہے ۔ مگر جب حدیثوں کے حوالے کثرت سے دیئے جانے لگے تو امام ابو حنیفہ کے عقیدت مندوں امام پر اس الزام کو ہٹانے کے لیے    ان کے نام سے حدیثوں کا مجموعہ منسوب کردیا گیا اس میں وہ سب خرافات ہیں جو دوسری کتب میں ہیں ۔ شبلی نعمانی نے النعمان میں اس مجموعہ کو جعلی قرار دیا ہے ۔

دوسری مثال مسند احمد بن حنمبل کی ہے جو دس جلدوں پر مشتمل ہے ۔ اس کتب کے بارے میں علامہ تمنا عمادی کا کہنا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ دس جلدوں پر مشتمل مجموعہ کو سو سال تک صرف ایک ہی راوی روایت کرتا رہا ۔ جب کوئی حدیث کی کتاب تریب دی جاتی ہے تو اسے بہت سے لوگ روایت کرتے ہیں ۔ مگر کیا وجہ تھی اس دس جلدوں کو صرف ایک آدمی روایت کرتا رہا ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ امام احمد بن حمبل نے اپنا فقہ مدون نہیں کیا اور آخر جو کچھ لکھا ہوا تھا اسے بھی نظر آتش کردیا ۔ پھر کیا وجہ ہے آپ نے اپنی حدیث کی کتب لکھی اور باقی رکھا اور اس کی تعلیم صرف ایک آدمی کو دی ۔ پھر اس میں ایسی حدیثیں شامل ہیں جو کہ ان کے فتوؤں کے برعکس ہیں ۔ اب آپ ہی اس کا فیصلہ کریں کہ یہ حدیث کی کتب کیا امام حمد بن حمبل کی لکھی ہوئی ۔

ہم حدیثوں کے خلاف نہیں ہیں ، لیکن حدیث قران کا بیان و تشریح ہونی چاہیے منسوخ یا ناسخ نہیں اور ہر خرافات کو حدیث کے نام سے چاہے اس کے راوی کتنے مستند ہوں پرکھے بغیر قبول نہیں کرنا چاہیے ۔کسی بھی بات کو حدیث کے نام سے قبول کرنا قران کریم کے اس قول کی صریحاً خلاف ورزی ہے ’کیا تم لوگ عقل نہیں رکھتے ہو’ ۔ حدیث کو پرکھنے کے لیے صرف راوی سند ہی کافی نہیں بلکہ اس کی کسوٹیاں بھی ہونا چاہے ۔ اگر آپ ان ھدیثوں کو مانیں جس سے قران کی خلاف ورزی اور ان عقائد کا ذکر ہے جن کا قران میں ذکر ہے تو وہ وضعی ہے ۔ اب آپ کی مرضی ہے آپ ان خرافات پر ایمان رکھیں یا رد کریں ۔ کیوں کہ آپ نے خطبہ حجۃ الودع پر فرمایا تھا کہ میں تمہارے درمیان ایک کتاب چھوڑے جارہا ہوں اگر اس پر چلو گے تو بھٹکو گے نہیں ۔

عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

روایت اور حدیث” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں