57

رودر

 
ویدوں میں طوفانوں کا دیوتا۔ اس کی دو خصوصیت کڑک اور بجلی کی چمک اس کے دو القاب ’گرجنے والا‘ اور سرخ یا ’روشنی کے لہریے چھوڑتا ہوا‘ سے ظاہر ہیں۔ دونوں الفاظ کا مصدر ایک ہی یعنی ’رد‘ ہے۔ ویدوں کا ردر اور ڈراوروں کا طوفانوں کا ’سرخ دیوتا‘ ایک دوسرے کا ہم مرتبہ ہیں۔ بہر حال رگ وید کے کئی ایک پیروں سے پتہ چلتا ہے کہ ردر کو بارش لانے والے خیال کیا جاتا تھا۔ اس حوالے سے ردر کا ذرخیزی اور لوگوں کی فلاح سے گہرا تعلق تھا۔ اگرچہ بعض اوقات وہ طوفان برپا کردیتا تھا، لیکن وہ ساوتر کے قوانین سے باہر نہیں ہوتا تھا، کیوں کہ کرہ ہوائی کے سارے دیوتا اپنے اختیارات اسی سے اخذ کرتے ہیں۔ 
رگ وید کی کچھ مناجات ایسی بھی ہیں جہاں ردر کو براہ راست یا بلواسطہ اگنی یا اندر سے متشخص کیا جاتا ہے۔ اس لیے بعض اوقات موخر الذکر کو بھی ’رعد باراں‘ لانے والا خیال کیا جاتا ہے۔ اگنی کے بادلوں سے بارش کی صورت ترواش پانے اور خشک سالی کے ذمہ دار شیطان ورتر پر اندر کے حملے اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اسی طرح ردر بھی مون سون کے بادلوں کو خشکی سے تڑخی زمین کی طرف کی طرف بارش لانے کا اشاررہ دیتا ہے۔ اسی کام میں ردروں کو اپنے بیٹوں ماروتوں کی معاونت حاصل ہوتی ہے، جو آندھی کے تھپیڑوں کے ہمراہ بارش کے لبادوں میں لپٹے شیروں کی طرح ڈھأڑتے چلے آتے ہیں۔ بعض جگہ انہیں ردر سے بھی منسوب کیا جاتا ہے، کیوں کہ انہیں اس کے بیٹوں کی طور پر متشخص کیا جاتا ہے۔ اندر کا سو ہتیاروں سے مسلح ہونا بیان کیا جاتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ اس کے جلو میں بھونکنے والے کتوں کا جلوس ہوتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ ردر اپنی اصل میں وید عہد سے قبل کا دیوتا ہو۔ اس لیے مناجاتوں میں سے ایک میں اس طرح کے اشارے ملتے ہیں۔ اتھر وید میں اس بھوشر سے متشخص کیا گیا ہے اور یہ دونوں مویشوں کے مالک ہیں۔ اکتیسویں اشلوک میں اس کی خادماؤں اور گوسنوں کا کا حوالہ بھی ملتا ہے۔ جنہیں ’شور برپا کرنے والی‘ کہا گیا ہے۔ ردر کا ایک متضاد روپ بھی سامنے آتا ہے، جب اسے ’مویشیوں کے کے مالک‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مویشیوں اور دوسرے پالتو جانوروں کی حفاظت اور ان کے لیے نقصان دہ طوفانی بادلوں پر قابو رکھنا اس سے منسوب کیا جاتا ہے۔ مہا بھارت اور پرانوں میں اس کا ذرخیزی سے وابستگی والا پہلو زیادہ حاوی ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس امر کا اشارہ اس اسطورے سے بھی ملتا ہے کہ تخلیق کے دھیان میں بیٹھے برہم کے کام میں مداخلت کی گئی تو تمام تر غضب اس کے ماتھے سے رور کی شکل میں پھٹا۔ برہما کے حکم پر اس مجسم غضب نے تقسیم ہو کر مرد اور عورت کی شکل اختیار کرلی۔ تقسیم در تقسیم سے گیارہ ردر موجود میں ہوئے۔ ان میں کچھ غضب ناک اور کچھ نرم مزاج تھے۔ وایو پران کی رو سے مونث حصے شیو کی مختلف طاقتیں یعنی شکتیاں ہیں۔ ردر کے مختلف القابات میں کندا (غضبناک)، اگر (خوفناک)، مدھر (سخی)، شرو (کماندار) اور اشن (حکمران) وغیرہ ہیں۔ 
شویتا شویتر اپنشد کے مطابق ایک عہد کے خاتمے پر دنیا کو تحلیل کیا جاتا ہے تو صرف ردر ہی متاثر نہیں ہوتا ہے۔ بلاخر ردر کی اپنی علیحدہ شناخت ختم ہوئی اور یہ مکمل طور پر شیو میں ضم ہو کر رہے گیا۔ یہ ملاپ دراصل غیر آریائی عقائد کے ویدوں میں سرایت کا نتیجہ تھا کہ پنچانتن پوجا کا رواج ہوا۔ وشنو، شیو، رودر، دیوی اور سورج سب ہی ایک ذات کے مختلف اوصاف کے مجسمے مانے گئے۔ یگیہ کے دوران اگنی ہوتر دوبارہ کفگیر کو شمال کی طرف ٹہراتا ہے اور یہ عمل دراصل ردر کے اعزاز میں کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے یگیہ کے دوران مقام متعینہ کے شمال میں کھڑے ہونا خطرے سے خالی خیال نہیں کیا جاتا ہے۔ ردر کے نام کا کوئی ہون نہیں کیا جاتا تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ احترام اور تعریف کے بجائے خوف کو زیادہ جنم دیتا تھا۔ غالباً اسی وجہ سے اس کے لیے مخصوص بھینٹ چوراہے اور ایسی دوسری جگہوں پر رکھی جاتی تھیں جن سے بڑ شگون لیا جاتا تھا۔    

تہذیب و ترتیب
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں