67

رگ وید میں جادو ٹونا

جادو ٹونے کا رگ وید میں ذکر بہت کم ہے ۔ مثلاً ایک منتر ہے جس میں ایک لڑکی اپنے عاشق سے ملنے کے لیے سارے گھر یعنی بوڑھے دادا سے لے کر کتے سب کو بہوش کر دیتی ہے ۔ رقیب کو ہزیمت دینے اور نیست و نابود کرنے کا بھی منتر موجود ہے ۔ اتھرون وید میں اس قسم کے جادو ٹونے بہت ہیں ۔ یہ بتانے سے ہمارا مقصد آریاؤں کی تمدنی زندگی کو پیش کرنا ہے ۔
یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دشمنوں پر تہمت رکھنے کے لیے جادوگری کے ساتھ اس معیوب صفت کو بھی ان کے ساتھ اکثر اوقات منسوب کیا جاتا تھا ۔ وسشٹھا کا ایک بھجن (ہفتم ۱۰۴) ہے جسے کوسنے کا بھجن کہتے ہیں ، اس سے بھی خیال کی تائید ہوتی ہے ، یہ متعصب ، مغلوب الغضب بوڑھا رشی کوسنے میں بڑا مرد میدان تھا اور اس نے اس بھجن میں اپنی قوم اور دیوتاؤں کے دشمنوں کو کوستے ہوئے اپنے ذاتی دشمنوں پر سخت حملہ کیا ہے اور چند تہمتوں سے اپنی برات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جو اس کے دشمن پر لگاتے تھے ۔ 
’’جو اپنی راہ چلا جاتا ہوں اور کسی کی برائی کا میرے دل میں خیال میں نہیں آتا ، اس وقت مجھ پر جو شخص بہتان لگائے یا غصے سے کلام کرے ، اے اندر تو اسے نیست و نابود کردے ، مثل اس پانی کے جو کف دست میں ہو ۔۔۔ اگر اے اگنی میں دھوکا دینے والا جواری ہوتا ، اگر میں ریاکاری سے دیوتاؤں کی پرستش کرتا ! مگر تو مجھ سے خفا کیوں ہے ؟ بہتان لگانے والوں کو مصائب میں مبتلا کر ۔ میں آج ہی مرجاؤں اگر میں نے جادو کیا ہو یا منتروں سے کسی شخص کی قوت مردانہ کو نیست و نابود کردیا ہو ۔ اس شخص کے دوست چھوٹ جائیں جس نے مجھ پر جادوگر کہا ۔ جس شخص نے مجھ ایسے پاکباز کو جادوگر کہا اور جو خود شیطان ہے اور اپنے تقدس کا دعویٰ رکھتا ہے ، اے اندر تو اس اپنے زبردست ہتھیار سے قتل کردے اور وہ عمیق ترین غار میں گرجائے’’۔
رشی کی بکواس کی رگ وید میں کوئی دوسری نظیر نہیں اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ویدک کے آریا اپنے دیسی دشمنوں یا مذہبی مخالفین کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔ اندر اور سوما سے التجا کی جاتی ہے کہ دونوں مل کر اس کا قلع قمع کردیں ۔
’’اندر اور سوما ! ان شیاطین کو جلادو ، تباہ کردو ، سرنگوں کردو ان لوگوں کو جو تاریکی میں رہتے ہیں ۔ ان دیوانوں کو کاٹ ڈالو ، ان کا گلا گھونٹ دو مار ڈالو ، قتل کردو ، اٹھا کے پٹک دو ۔ اندر اور سوما ! تم دونوں اس کوسنے والے شیطان کی سرکوبی کرو ، وہ جلتا رہے اور اس کے جلنے سے وہی آواز آئے جو نذروں کی آگ میں جلنے سے آتی ہے ۔ اس خبیث سے تم ہمیشہ متنفر رہو ۔ جو برہمن سے محبت رکھتا ، گوشت کھاتا ہے اور جس کی صورت ظاہر ہے ۔ اندر اور سوما ! اس نابکار کو قصر مذلت میں ڈال دو اور تم میں اتنی قوت ہو کہ کوئی اس قصر سے نہ نکلنے پائے’’۔ یہاں برہمن سے مراد صحیح عبادت کرنے والے اور اس لفظ کا اطلاق ایک جماعت پر ہے نہ کہ ذات پر ۔ ذات کا اگر امتیاز تھا تو صرف اس لحاظ سے کے آریا دیسی باشندوں سے متنفر تھے ۔ 
بھجن کے تیسرے حصے میں رشی مختلف اقسام کی خبیث ارواح اور بھوتوں کو کوستا ہے ۔ جن میں سے بعض تو نظر نہیں آتے اور بعض جو کتے ، الو ، کوئل ، باز اور چڑیوں کی شکل اختیار کرکے قربانیوں کو ناپاک کرتے ہیں ۔ سب سے آخر میں رشی اندر سے ساحروں کے غضب اور ساحر عورتوں کے فریب سے محفوظ رکھنے اور ان دونوں اور تیڑھی گردن والے بتوں کی ہلاکت کے لیے دعا کرتا ہے ۔ بہ حثیت مجموعی یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں وسشٹھا اور اس کی قوم جس کا پروہت (پجاری اور قربانی کرنے والا) تھا سخت مشکلات میں پھنسے ہوئے تھے اور اس میں کوئی تعجب بھی نہیں ، کیوں کہ وسشٹھا دیسی باشندوں کا سخت دشمن اور آریوں کا ان سے ہمیشہ علحیدہ رہنے پر سختی سے مصر تھا ۔ برہمنوں کے مذہبی ہتھکنڈوں اور قدامت پرستی کا وہی موجد اور بانی تھا ۔ اس لیے قرین قیاس ہے کہ جن لوگوں کی ترقی میں وہ حائل تھا اور جن کو وہ نفرت کی نگاہ سے دیکھتا تھا اور کوستا رہتا تھا ۔ اس سے ہر طرح سے بدلہ لینے کی فکر میں رہتے ہوں ۔ 

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں