98

رگ وید میں جوا و شراب خواری

آریا قوم دو بڑی قبیح عاتوں یعنی شراب خواری اور قمار بازی میں ہمیشہ سے مبتلا رہے تھے ۔ جس کا خود رگ وید گواہ ہے ۔ سوما کی پرستش اور اس نام نہاد مقدس شراب میں ایک روحانی یا آتشی جوہر کے ہونے کے خیال سے شراب خواری وجوہ میں آئی ہوگی ۔ پانسوں سے جوا کھیلنے کا بھی اکثر ذکر ہے ۔ مگر (دہم ۳۴) میں قمار بازی کی نکہت و بربادی کی تصویر اس خوبی سے کھنچی گئی ہے کہ بالکل زمانہ حال کی معلوم ہوتی ہے ۔ اس بھجن میں قمار باز اپنی قسمت کو روتا ہے اور وہ اس کے تباہ کن اثرات کو زیادہ وضاحت سے بیان کرسکتا ہے ۔

ٍٍٍ ’’تختے پر پانسوں کے کھڑکھڑانے سے میں جوش میں آجاتا ہوں ، میرے لیے وہ سوما کی شراب کے ایک پیالے سے ہم نہیں جو کوہ موجاونت پر ہوتا ہے’’۔
’’میری بیوی نہ کبھی مجھ سے لڑی نہ اس نے مجھے پریشان کیا ، وہ مجھ پر اور میرے دوستوں پر مہربان تھی مگر میں نے ان ہارجیت کے پانسوں کے لیے اپنی چہتی بیوی کو چھوڑ دیا’’۔
’’میری ساس مجھ سے نفرت کرتی ہے ، میری بیوی مجھے دھتکار دیتی ہے ، جواری کا کوئی دلاسا دینے والا نہیں ، میں نہیں جانتا کہ جواری کس کام کا ہے ؟ اس کی مثال ایک گھوڑے کی ہے جو کبھی قیمتی تھا اور اب بوڑھا ہوکر ناکار ہوگیا’’۔
’’دوسرے لوگ اس شخص کی بیوی سے تعلقات پیدا کرنا چاہتے ہیں جس کی دولت پانسوں کی نذر ہوتی ہے ۔ ماں باپ کہتے ہیں یہ کون شخص ہے ، اسے یہاں اسے باندھ کر لے جاؤ’’۔ (غالباً اس نے خود کو جوئے پر چڑھا دیا تھا)
’’میں ارادہ کرتا ہوں کہ آج سے جوا نہ کھیلوں گا ، کیوں کہ میرے تمام دوست مجھ سے بیزار ہوتے جاتے ہیں ، مگر پانسوں کی کھڑکھڑاہت سنتے ہی میں وہاں دوڑتا ہوا پہنچ جاتا ہوں جیسے کہ کوئی عورت اپنے عاشق کے پاس’’۔
’’جواری جواریوں کے مجمع میں جاتا ہے اور دل میں کہتا ہے وہاں آج جیتوں گا ، مگر پانسے سے اس کی جیتی ہوئی رقم اس کے مخالف پر منتقل کرکے اس کی خواہش کو مشتعل کرتے ہیں’’۔
’’پانسے مچھلی پکڑنے کے کانٹوں کی طرح ہیں جو گوشت میں گھس جاتے ہیں ۔ یہ فریب دینے والے جلاتے ہیں اور عذاب دیتے ہیں ، کچھ دیر جیتنے کے بعد یہ جیتنے والے کو تباہ کر دیتے ہیں مگر جواری انہیں شہد سے زیادہ شیریں خیال کرتا ہے’’۔
’’یہ ۵۳ کا گروہ (غالباً پانسوں کی طرف اشارہ ہے) قاعدوں پر چلتا ہے جو سوتیار کے قوانین کی طرح مقرر ہیں ۔ خواہ کوئی کیسا ہی عضب ناک ہو مگر پانسے اس سے نہیں ڈرتے ، راجہ بھی ان کے آگے جھک جاتے ہیں’’۔
’’پانسے کبھی نیچے کی طرف لڑھکتے ہیں ، کبھی اوپر کی طرف کودتے ہیں ، ان کے ہاتھ نہیں مگر ہاتھ والوں کو مغلوب کرلیتے ہیں ۔ یہ آسمانی کوئلے (پانسے) جب تختے پر گرتے ہیں تو دل جلا ڈالتے
ہیں گو وہ خود سرد ہوتے ہیں’’۔
’’جواری کی بیوی بے سر و سامانی کی وجہ سے اپنی قسمت کو روتی ہے ۔ ماں اس بیٹے کے لیے روتی ہے جو معلوم نہیں کہاں ہے ۔ جواری جب اپنی بیوی کو دیکھتا ہے اور دوسروں کی بیویوں اور ان کے گھروں کی خوشی کو دیکھتا ہے تو اسے سخت قلق ہوتا ہے’’۔
’’قرض سے جب وہ پریشان ہوجاتا ہے اور روپئے کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ رات کو دوسرے لوگوں کے گھروں کو جاتا ہے ۔ صبح کو وہ پھر بھورے گھوڑوں (پانسے) کو جوتتا ہے مگر آگ بجھنے کے وقت خستہ ہوکر پڑ جاتا ہے’’۔
بھیک مانگنے یا چوری کرنے کی غرض سے ’’اس ہستی برتر کو جو تمہاری دیوتاؤں کی جماعت کا راجہ اور سرغنہ ہے نذریں چڑھاؤں گا ۔ میں ہاتھ پھیلا کر قسم کھاتا ہوں’’۔
’’قابل پرستش سوتیار نے مجھ سے کہا پانسوں کو چھوڑ دے ، اپنے کھیتوں کو کاشت کر ، اپنے مال و متاع سے خوش رہ اور ان پر قناعت کر ۔ لے یہ تیری بیوی ہے ، یہ تیرے مویشی ہیں’’۔
’’اے پانسوں مجھ پر رحم کرو اب مجھے اپنے سحر میں مت پھنسلاؤ ، اپنے غیظ و غضف اور دشمنی کو کم کرو ، کوئی دوسرا شکار تلاش کرو جو تمارا غلام بن کر رہے’’۔
قمار بازی سے ایک بدترین گناہ یعنی ہارجیت کے کھیلوں میں دھوکا دینا بھی آریوں میں بھی موجود تھا اور رگ وید میں متواتر اس کا ذکر آیا ہے ۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اکثر لوگ اس عادت میں مبتلا تھے گو وہ نہایت قبیح خیال کیا جاتا تھا ۔

تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں