79

رگ وید میں شادی

رگ وید میں تمدنی حالات زیادہ تفصیل سے نہیں ہیں ۔ کتاب دہم کے ایک بھجن (۸۵) میں شادی کی رسوم کے متعلق سے معلوم ہوتا ہے کہ ویدک عہد میں پنجاب میں عورتوں کا درجہ اس قدر پست نہیں تھا جیسا کہ برہمنی دور میں ۔ بعد کے زمانہ میں ان کی حالت مزید بدتر ہوتی چلی گئی ۔ عورت کی تمدنی حثیت بہت گرگئی اور ہندو بیواؤں کی بری گت بنی ۔ اس کے برعکس ویدک زمانے میں مرد اور عورت میں مساوات قائم تھی اور وہ گھر میں کسی سے نہیں دبتی تھی ۔ شوہر کے بھائی بہنوں کا ذکر کیا وہ شوہر کے ماں باپ کی بھی ماننے پر مجبور نہ تھی اور شادی بھی عورت کی رضامندی سے ہوتی تھی ۔ گو شادی کی بات چیت تیسرے شخص کے ذریعے ہوتی تھی ۔ مگر اس سے پہلے اس کی رضامندی حاصل کرلی جاتی ۔ اکثر اوقات کنواری لڑکیاں کئی امیدواروں میں سے کسی کو منتخب کرنا اس کی مرضی پر موقوف ہوتا تھا ۔ یہ رسم برہمنی عہد تک قائم رہی اور رزمیہ نظموں میں اس رسم (سوئمبر) کا اکثر ذکر آیا ہے ۔ جس میں عالی مرتبہ خاندان کی خواتین اپنے لیے شوہر کا انتخاب کرتیں ۔ رگ وید میں بھی یتیم لڑکیوں کی حالت پر افسوس کا اظہارکیا گیا ہے اور جن کے بھائی نہ ہوں اور انہیں اپنا شوہر خود تلاش کرنا ہوگا اور یہ بھی لکھا ہے کہ ان بے بس لڑکیوں کو جو ضرر پہونچائے گا وہ اس عمیق غار میں جس میں وارن گناہگاروں کو ڈال دیتا ہے ڈال دیا جائے گا ۔  
بیاہ کے تقدس کو ثابت کرنے لیے ایک بھجن میں ایک آسمانی شادی کا ذکر خاص طور پر کیا گیا ہے ۔ یہ شادی سوما اور سوریا دیوی کے درمیان ہوئی تھی ۔ اس شادی کو دنیاوی شادیوں کی بنیاد قرار دیا گیا ہے اور رسم کا تقدس اس سے ثابت کیا گیا ہے ۔ رگ وید میں ہمیشہ اس طرح کی تشبہیوں سے کام لیا جاتا ہے ۔ کیوں کہ ان میں آسمان کی ہر چیز میں دنیاوی عکس ہے ۔ اس شادی میں سوریا سوتیار کی بیٹی ہے اور اس کی رضامندی سے سوما سے اس کا بیاہ ہوتا ہے ۔ اشون دولہا کے شابالا ہیں اور دلہن کو لینے آتے ہیں ۔ اگنی دلہن کی سہیلی ہے جو اس کے آگے چلتی ہے اور اسے اس کے شوہر کے پاس پہنچا دیتی ہے ۔ اس کہانی کی فطری تشریح نہایت آسان ہے ۔ کیوں کہ آفتاب کی دیوی جو سپید صبح (اوشاس) کی ایک دوسری شکل ہے اور سوما سے اس کی ہر شکل میں بیاہی جاسکتی ہے ۔ غالباً یہاں عبارت کے پہلو سے مراد ہے ۔ کیوں کہ سوما قربانی کا راجہ ہے اور نہ صرف اس کا بلکہ اشاس کا بھی مقدس رسوم سے تعلق ہے ۔ سوریا بھی دیگر انسانوں کے لیے دعائے مجسم ہے ۔ سوریا کا بناؤ سنگھار بھی مقدس چیزوں کا تھا ۔ سوریا کا عروسی جوڑا ویدوں کی مقدس بحروں سے بنا ہوا تھا ۔ اس کا رتھ کا ڈھانچہ زمین و آسمان سے بنا ہوا تھا ۔ رتھ سے مراد دلی خیالات سے تھی ۔ وید کے بھجن بھی رتھ کی لکڑیاں تھیں ۔ علم اس کا تکیہ تھا ، علم غیب اس کا زیور ، مقدس گیت بطور افشاں اور بالوں کے زیور کے تھے ۔ رگ وید اور ساما وید اس کی رتھ کو کھنچنے والے بیل تھے ۔ ویدوں کی قربانی کا تمام سامان شان و شوکت کے ساتھ یہاں موجود ہے اور یہ رمزیہ تفصیل نیچے دیئے ہو شعر پر ختم ہوتی ہے ۔ 
’’تیرے رتھ کے دو پیئوں کو اے سوریا برہمن خوب جانتے ہیں ۔ مگر تیسرا جو پہناں ہے اسے صرف گہری نظر رکھنے والے جانتے ہیں’’۔ پیئوں سے مراد عالموں سے ہے ۔ جن میں دو (آسمان اور زمین) نظر آتے ہیں اور ہر شخص ان سے واقف ہے اور تیسرا وہ عالم ہے جسے کسی نے دیکھا نہیں ، جہاں سب چیزیں اور دیوتا پیدا ہوئے اور جس کی طرف علم باطن رکھنے والے لوگوں کی آنکھیں لگی رہتی ہیں ۔ مگر عوام کا خیال تھا کہ اس سے سورج (مونث) اور چاند کے بیاہ سے مراد ہے ۔ کیوں  کہ اس بھجن کے دو منتروں (۱۸،۱۹) کی کوئی اور تشریح نہیں ہوسکتی ہے ۔ ’’یہ دونوں بچے اپنی عجیب و غریب قوت سے ایک دوسرے کے پیچھے پھرتے رہتے ہیں ۔ وہ قربانی کے مقام (فضائے ہوائی) کے ارد گرد رقص کرتے رہتے ہیں ۔ ایک تمام موجودات کو دیکھتا ہے دوسر جو اوقات کا مقرر کرنے والا ہے بار بار پیدا ہوتا ہے’’۔ آسمان کے دونوں حاکموں کا یکجہتی اور یک دلی کے ساتھ اپنے فرائض کو انجام دینا زن و شو کے تعلقات کا بہترین نمونہ قرار دیا گیا ہے ۔  
بھجن کا باقی ماندہ حصہ بیاہ کی رسموں ، دعاؤں اور کہاوتوں پر مشتمل ہے ۔ جن میں وہ تسلسل نہیں جو تجہیر و تکفین کے بھجن (دہم ۱۸) میں ہے ۔ مگر بھجن کی عبارت سے سے رسوم کا پورا پتہ چلتا ہے ۔ رسم کا آغاز غالباً یوں ہوتا تھا کہ دلہن کے ماں پاپ دعائیں دے کر اسے اپنے خاندان کی فرمانبرداری سے اسے آزاد کردیتے اور شوہر کی فرمانبرداری کی تاکید کرتے ہیں اور حسب ذیل منتر پڑھتے ہیں ۔
’’سیدھا اور بے خار ہو وہ راستہ جس سے ہمارے دوست شادی کے لیے جاتے ہیں ۔ آریامن اور بھاگ (شادی اور قسمت کے دیوتا) ہماری رہبری کریں ۔ گھر کا انتظام (دلہن کے لیے) آسان ہو ۔ میں تجھے یہاں اپنے فرائض سے سبکدوش کرتا ہوں ۔ مگر وہاں (سسرال) نہیں ، وہاں میں تجھے رشتہ مبارک میں باندھتا ہوں تاکہ یہ دونوں اے اندر ! دولت اور اولاد سے مالا مال ہوں ۔ پوشن تیرا ہاتھ پکڑ کر تجھے یہاں سے لے جائے ۔ دونوں اشون تجھے اپنے رتھ میں بیٹھا کر لے جائیں ۔ جلد اس مکان کو جا جہاں تو حکومت کرے گی’’۔
اس بعد دعا کی جاتی ہے کہ راستہ خیریت سے کٹے ۔ جس میں ایک دعا یہ بھی ہے کہ موروثی امراض بھی دفع ہوں ۔ 
’’وہ امراض جو دلہن کے ساتھ اس کے قبیلے سے جاتے ہیں انہیں قابل عظمت دیو بھگا کر وہیں بھیج دیں جہاں سے وہ آتے ہیں ۔ رہزن دولہا اور دلہن کو آزار نہ پہنچائیں ، وہ خیر و خوبی سے تمام خطروں سے گزر جائیں ، نجس لوگ دور بھاگیں ۔ دلہن نے خوب بناؤ سنگار کیا ہے ، آؤ سب لوگ اسے دیکھو اور مبارک باد دینے کے بعد اپنے گھرون کو چلے جاؤ’’۔
اس کے بعد شادی کی اصل رسم شروع ہوتی ۔ دولہا دلہن کا سیدھا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر گھر کی آگ کا اس کے ساتھ طواف کرتا اور حسب ذیل منتر پڑھتا ہے 
’’شگون نیک کے لیے میں تیرا سیدھا ہاتھ پکڑتا ہوں تاکہ تو میرے ساتھ جو تیرا شوہر ہوں پیرانہ سالی کو پہنچے ۔ آریا من ، بھاگ ، سوتیار اور پورم دھی نے تجھے میرے سپرد کیا تاکہ ہم دونوں مل کر اس گھر پر حکومت کریں’’۔
’’اے اگنی ، سوریا مع اپنے ہمراہیوں کے تیرے سامنے پیش کی گئی تھی ۔ اب تو اس دلہن کو اپنے شوہر کے سپرد کر اور اولاد دے’’۔
آخری منتر کون پڑھتا ہے یہ معلوم نہیں ہے ۔ البتہ شوہر نہیں پڑھتا ہے ۔ سسرال میں دلہن کا استقبال ان اشلوکوں سے ہوتا ہے ۔
’’یہاں تجھے مسرت نصیب ہو ، دولت اور اولاد سے مالا مال ہو ۔ اس مکان کی نگہبانی کر ۔ اپنے شوہر کے ساتھ رہ ، یہاں سے کبھی علحیدہ نہ ہو ، تیری عمر دراز ہو ، بیٹے اور پوتے ہوں ، تو اس مکان میں ہنسی خوشی سے رہ’’۔
برکت کا یہ منتر شوہر کی زبان سے ادا ہوتا ہے ۔ یہ منتر نہایت اہم ہے ۔ کیوں کہ دلہن کی تمدنی حثیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔
’’پرجاپتی ہمیں بیٹے اور پوتے دے ۔ آریامن ہمیں بڑھاپے تک دولت سے مالا مال رکھے ۔ اپنے شوہر کے گھر میں شگون بد کے ساتھ نہ آ ۔ گھر میں آدمی اور جانور خوش و خرم رہیں اور ان میں اضافہ ہو ۔ نظر بد سے محفوظ ، محبت سے بھری ہوئی ، جانوروں کے لیے بھی تیرا آنا مبارک ہو ، خدا کرے تو خوش مزاج ، ہنس مکھ ، سورماؤں کی ماں ، دیوتاؤں کی عزت کرنے والی اور سب کو خوش رکھنے والی ہو ۔ اس دلہن کو اے مہربان اندر دولت اور اولاد نرینہ دے ۔ اسے دس بچے دے اور اس کے شوہر کو بطور گیارھویں کے سلامت رکھ ، اب تو اس گھر کی مالک بن جا اور اپنے شوہر کے ماں باپ اور بھائی بہنوں پر حکومت کر ، سب دیوتا ہمارے دلوں کو متحدہ کر دیں’’۔
شوہر گویا بیوی کے اختیارات کا اعلان کرتا ہے ، مگر بعد کے ہندوستان کی عورتوں کی حالت برہمن عہد میں کس قدر گر گئی اور ان کے بشتر حصے کی حالت نہایت قابل رحم ہے اور ان پر بے حد ظلم ہوتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ جس قوم کا تمدنی معیار اتنا اعلیٰ تھا اس میں کثرت ازواج کی رسم نہ ہوگی ؟
جو عبارتیں کثرت ازواج کے وجود کے ثبوت میں پیش کی جاتی ہیں ان سے یہ نہیں ثابت ہوتا ہے کہ کثرت ازواج کی رسم قانوناً جائز تھی ۔ جس کے لحاظ سے کئی بیویوں کے مساوی حقوق تھے ۔ بلکہ کئی حرموں کا وجود ثابت ہوتا ہے اور یہ بھی امرا کے لیے مخصوص ہے جو ہر زمانے میں مناکحت کے قوانین کے پابندی سے آزاد رہتے ہیں ۔      
مگر یہ نہ خیال کرنا چاہیے کہ شادی کی رسوم میں صرف بھجن (دہم ۸۵) پڑھا جاتا تھا یا تجہیر و تکفین میں صرف (دہم ۱۸) بلکہ دونوں رسم میں رگ وید اور اتھرون وید کے دوسرے بھجن بھی پڑھے جاتے تھے ۔ اتھرون وید کے منتر زیادہ تر رگ وید سے ماخوذ ہیں ۔ مگر ان میں رگ وید کی سادگی اور اختصار نہیں ۔ مختلف منتروں میں جو ادھر اُدھر منتشر ہیں ۔ شادی کی رسم اور عشق و محبت کے متعلق بہت سی تشبہیں اور استعارے مل سکتے ہیں ۔ مثلاً ایک کوی اندر اور اگنی کو سخاوت کے لیے آمادہ کرنے 

کے لیے کہتا ہے ’’میں نے سنا ہے تم تحائف دینے میں داماد یا سالے سے بھی زیادہ سخی ہو’’ ۔
تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں