60

رگ وید میں طب

رگ وید میں جادو ٹونوں کی چند مثالیں ملتی ہیں ، مگر یہ یہ جادو ضرر رساں نہ تھا اور بوٹیوں کے جمع کرنے اور استعمال کرنے تک محدود تھا اور بوٹیوں کے استعمال میں کوئی منتر وغیرہ نہ تھے ۔ صرف ایک مثال ہے جس میں ایک عورت ایک پودے کو کھود کر اس سے اپنی سوت کو دفع کرنے کی ایک بوٹی تیار کرتی ہے ۔ (دہم ۱۴۵) بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ عورت کو اس میں کامیابی ہوئی ۔ کیوں کہ ایک گیت میں وہ اپنی کامیابی اور دوسری عورت کو اپنے گھر سے نکال دینے کا فخریہ ذکر کرتی ہے ۔ مگر بوٹیوں اور پودوں سے زیادہ تر دوا کا کام لیا جاتا تھا ۔ جیسا کہ طیب کے گیت سے معلوم ہوتا ہے جو دراصل جڑی بوٹیوں سے علاج کرتا تھا اور اشوت کی لکڑی کا صندوق لیے پھرتا تھا ۔ وہ خود اقرار کرتا ہے کہ اس کا مقصد صرف تلاش معاش ہے ۔ اس لطیف نظم میں جس سے اس زمانے کے تمدنی حالات پر کچھ روشنی پڑتی ہے ۔ طیب سبز بوٹیوں کی تعریف کرتا ہے جو دنیا میں قدیم ترین ہیں ۔
’’سینکڑوں تمہارے طریقے ہیں ، تمہارا نمو ہزاروں قسم کا ہے ، تم میں سینکڑوں خاصیتیں ہیں ، اس مریض کو صحت دو۔۔۔۔ مجھے فتح دو جیسے گھوڑ دوڑ میں جیتنے والی گھوڑی کو ۔۔۔ کیوں کہ مجھے مویشی ، کپڑوں اور گھوڑوں کی ضرورت ہے ۔۔۔ تم میرے لیے مفید ہوگی اگر اس مریض کو صحت دو ۔ وہ شخص جس کے پاس بہت سی بوٹیاں ہوں ، وہ ہوشیار طبیب خیال کیا جاتا ہے اور بھوتوں اور مرضوں کا دفع کرنے والا ۔ سب بوٹیاں مریض مریض کو صحت دینے کے لیے موجود ہیں ۔ بعض پانی سے ہیں بعض دودھ سے اور طاقت دینے والی ہیں ۔ مجھے پانی اچھی قیمت دلانے اور مریض ! تجھے صحت دینے کے لیے بوٹیوں کی خوشبو (صندوق سے) ویسی ہی اڑی جاتی ہے جیسے کہ مویشی اصطبل سے ۔ کوئی چیز انہیں روک نہیں سکتی ، مثل اس چور کے جو باڑھ پھاندھ جاتا ہے ۔۔۔ اے مفردات ! جب میں تمہیں اپنے ہاتھ میں پکڑ لیتا ہوں ، بیماری اس طرح بھاگتی ہے جیسے کہ مجرم قانون کی زد سے ۔ جب تم ایک عضو سے دوسرے میں سرایت کرو اور ایک جوڑ سے دوسرے جوڑ میں بیماری کو بھگادو جسے کہ کسی سختی پسند حاکم کا فیصلہ ۔ بھاگ جا بیماری بھاگ بازاروں اور نیل کنٹھوں کے ساتھ ہوا بلکہ آندھی کے پردوں پر بیٹھ کر بھاگ جا’’۔
اس بھجن سے ظاہر ہوتا ہے کہ طبیب کا مقصود بھی حصول زر تھا اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ذات پات کی تفریق بھی اس زمانے میں نہ تھی ۔
’’تمام آدمی اپنے منصوبوں اور تدبیزوں میں مصروف رہتے ہیں ۔ بڑھئی ٹوٹی ہوئی چیزوں کو تلاش کرتا ہے ، حکیم مریض کو ، پجاری قربانی کرنے والوں کو لور سوکھی ہوئی لکڑی اور اپنا ساز و سامان تیار کیے ہوئے کسی صاحب زر کی تلاش میں رہتا ہے ۔ میں شاعر ہوں ، میرا باپ طبیب ہے اور میری ماں چکی پیستی ہے ۔ ہمارے خیالات گو مختلف ہیں مگر ہم سب دولت کے طالب ہیں جس کا ہم اسی طرح تعاقب کرتے ہیں جیسے مویشیوں کا’’۔
رگ وید کے بھجنوں سے آریاؤں کے تمدنی حالات کے متعلق مزید حالات جمع کرنا ممکن ہے کام کو ایچ زمر نے انجام دیا ہے البتہ اس نے جو تصویر پیش کی وہ رگ وید کے زمانے سے بعد کی ہے ۔

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں