70

رگ وید کے اخلاقی بھجن

بعض بھجن رگ وید میں ایسے ہیں جنہیں بھجن کے بجائے نظمیں کہنا زیادہ مناسب اور جن میں معاصروں کے تمدنی حالات کی تصویر کھنچی گئی ہے ۔ خواہ وہ ان کے خصائل حمیدہ کی ہو یا بری عادتوں کی ۔ ان نظموں کو نہ مذہب سے کوئی تعلق ہے نہ ان میں دوسرے بھجنوں کی طرح کسی دیوتا کو مخاطب کیا گیا ہے ۔ رگ وید کے مجموعے میں ان کو داخل کرنے کا باعث غالباً یہ ہوگا کہ رگ وید کو تدوین کرنے کو اس کی ادبی خوبیوں اور تمدنی اہمیت کا احساس تھا اور اس کو محفوظ رکھنے کی صورت نظر آئی کہ انہیں اس مقدس مجموعہ میں شریک کردیا جائے ۔ ان نظموں میں سے ہمارے خیال کی تصدیق ہوتی ہے کہ آریوں کے اخلاق جن کی جھلک رگ وید میں نظر آتی ہے وہ نہایت اعلی اور پسندیدہ ہے ۔ ذیل کی نظم جو خیرات دینے اور غربا کی امداد سے متعلق ہے ادبی اور اخلاقی خوبیوں کی وجہ سے بے نظیر ہے ۔ (دہم ۱۷) 
’’دیوتاؤں نے یہ جائز نہیں رکھا ہے کہ ہم گرسنگی سے ہلاک ہوں ۔ جن لوگوں کے پر ہیں انہیں بھی موت نہیں چھوڑتی ۔ جو شخص خیرات دیتا ہے خیرات دینے سے غریب نہیں ہوتا ہے ، برخلاف اس کے بخیل کو کبھی راحت نصیب نہیں ہوتی’’۔
’’جو شخص کہ آسودہ حال ہے اور اس غریب آدمی کو دھتکار دیتا ہے جو اس کے پاس کھانا پانی مانگنے آتا ہے اور جس سے وہ اس کے بھلے دنوں میں واقف تھا ، اسے کوئی راحت دینے والا نہیں ملتا ہے’’۔ (ارتھ کا ترجمہ)

ٍ ’’وہ شخص سخی ہے جو دبلے فقیر کو دیتا ہے جو اس کے پاس کھانا مانگنے آتا ہے ۔ اس کی قربانی قبول ہوتی ہے اور اس دوست ملتے ہیں’’۔ (میور کا ترجمہ)
’’وہ دوست نہیں ہے جو دوست کو اپنے کھانے میں شریک نہیں کرتا جب وہ روزی کا طالب ہو ، اس کا گھر اس لائق نہیں کہ تم اس ٹھیرو ، کسی دوسرے شخص کو تلاش کرو جو سخی ہو خواہ وہ اجنبی ہو’’۔
’’احمق غذا ناحق جمع کرتا ہے ، میں سچ کہتا ہوں ، وہی اس کی ہلاکت کا باعث ہوگی ، نہ اس کا کوئی یار ہوگا نہ مدگار ، جو شخص کہ اپنے کھانے میں شریک نہیں کرتا ، اس کے گناہ بھی اس کے ساتھ ہمیشہ لپٹے رہتے ہیں’’۔
تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں