50

زرتشتوں کا نظریہ آفرنیش

مسلہ آفرنیش ، علم کائنات اور مسائل معاد کے کچھ آثار قدیم زرتشتیوں میں موجود تھے اور رفتہ رفتہ اسے ترقی دے کرکے ایک ایسا عقائد نظام کا تیار کیا گیا جس بتایا گیا تھا کہ کائنات کی عمر بارہ ہزار ہے ۔ ابتدائی تین ہزار سال کے عرصہ میں عالم اہورا مزد (عالم نور) اور عالم اہرمن (یعنی عالم ظلمت) ایک دوسرے کے ساتھ امن و سکون سے رہے اور یہ دونوں عالم تین طرف سے لامتناہی ہیں ۔ لیکن چوتھی جانب پر دونوں کی حدیں ملی ہوئی ہیں ۔ عالم نور اوپر ہے اور عالم ظلمت نیچے اور دونوں کے درمیان ہوا ہے ۔ اس کے بعد تین ہزار سال کے عرصے میں اہورا مزد کی مخلوخات امکانی حالت (مینوگیہا ) میں رہی ۔ تب اہرمن نے نور کو دیکھ لیا اور اس کو فنا کرنے کے درپے ہوا ۔ اہورا مزد نے جسے مستقبل کا حال معلوم تھا ۔ اہرمن کو نو ہزار سالہ جنگ کی دعوت دی ۔ اہرمن جس کو صرف ماضی کا علم تھا اس لیے وہ رضامند ہوگیا ۔ اس کے بعد جب اہورا مزد نے پیشن گوئی کی کہ اس جنگ کا خاتمہ عالم ظلمت کی شکست پر ہوگا ۔ اس پر اہرمن خوفزدہ ہو کر دوبارہ ظلمت میں جاگرا اور تین ہزار سال تک وہاں بے حس و بے حرکت پڑا رہا ۔
اس اثنا میں اہورا مزد نے مخلوقات کو پیدا کرنا شروع کر دیا ۔ سب سے آخر میں اس نے گائے یعنی گاوِ اولین اور سب سے پہلا دیوہیکل انسان بنایا جس کا نام گیو مزد (اوستا ۔ گیا مرتن یعنی حیات فانی) تھا جو نوع بشر کا ابتدائی نمونہ تھا ۔ اہرمن نے یہ دیکھ کر اہور مزد کی مخلوقات پر حملہ کردیا ، عناصر کو ناپاک کیا اور حشرات اور موذی قسم کے کیڑے مکوڑے پیدا کیے ۔ اہورا مزد نے آسمان کے آگے ایک خندق کھودی ۔ لیکن اہرمن حملے پر حملے کرتا رہا اور بالآخر اس نے پہلے گائے اور پھر گیومزد کو مار ڈالا ۔ لیکن گیومزد کے تخم سے جو زمین میں پہناں تھا چالیس برس بعد ایک درخت پھوٹا ۔ جس میں سب سے پہلا انسانی جوڑا مشنگ اور مشیانگ پیدا ہوا ۔ غرض اس طرح سے نور و ظلمت کی آمزش گمیزَشن کا دور شروع ہوا ۔ خیر و شر کی اس جنگ میں انسان اپنے اچھے یا برے اعمال کے مطابق اہورا مزد یا اہرمن کا مددگار ہے ۔ جو لوگ نیکی کے راستے پر چلیں گے وہ مرنے کے بعد آسانی سے پل چینو گزر کر بہشت میں داخل ہوں جائیں گے ۔ جب بدکار لوگ اس پل پر سے گزریں گے تو وہ پل تنگ ہوکر تلوار کی دھار کی طرح باریک ہوجائے گا ۔ جس کا نتیجہ وہ نیچے ذوزخ میں جاگریں گے ۔ جن لوگیوں کی نیکیاں اور گناہ برابر ہوں گے وہ ہمیستگان میں مقیم ہوں گے جو ایک طرح کا اعراف ہے جہاں جزا ہے نہ سزا ۔
پہلا انسان کی پیدائش کے تین ہزار سال گزرنے کے بعد انسانوں کو سچے مذہب کی تعلیم دینے کے لیے زرتشت کی آمد ہوئی ۔ اس وقت دنیا کی عمر کے صرف تین ہزار سال باقی تھے ۔ ہر ہزار سال کے بعد ایک نجات دہندہ (سوشینس) بطریق اعجاز زرتشت کے تخم سے جو ایک جھیل میں پوشیدہ ہے پیدا ہوتا ہے ۔ جس وقت تیسرا اور آخری نجات دہندہ پیدا ہوگا جو افضل طور پر شوشینس کہلاتا ہے ۔ اس کی پیدائش کے بعد خیر و شر میں آخری اور فیصلہ کن جنگ شروع ہوجائے گی اور تمام اساطیری ہیرو اور دیو باہم لڑنے کے لیے دوبارہ زندہ ہوجائیں گے ۔ تمام مردے اٹھائے جائیں گے اور دم دار ستارہ گوچہر زمین پر گرے گا اور زمین میں آگ لگ جائے گی اور تمام دھاتیں پگھل کر ایک آتشیں سیلاب کی طرح تمام زمین پر پھیل جائے گی ۔ تمام انسانوں کو زندہ ہوں گے یا مردوں سے زندہ کیے ہوں گے ۔ انہیں اس سیلاب سے گزرنا پڑے گا ۔ جو نیکوں کے لیے گرم دودھ کی مانند خوش آنند ہوگا اور اس آزمائش کے بعد جو پاک و صاف ہوں گے وہ سب بہشت میں داخل ہوں گے ۔ خداؤں اور دیوؤں کی آخری جنگ کے بعد جس کا خاتمہ دیوؤں کی شکست اور تباہی پر ہوگا ۔ اہرمن ابد الآ باد کے لیے تاریکی میں جا پڑے گا ۔ زمین صاف اور ہوا ہموار ہوائے گی اور دنیا اس طرح پاک ہونے کے بعد ہمیشہ کے لیے سکون کے دامن رہے گی ۔ اس تجدید دنیا کو فرشکرد اور اوستا میں فرشوکرتی کہا گیا ہے ۔ بقول نیبرگ مسلہ آفریش جو بندہشن میں پیش کیا گیا ہے اس میں کہیں کہیں زروانی عقائد کو بیان کیا گیا ہے ۔


اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں