53

زرتشتیوں میں اولاد

قدیم ایرانیوں میں میں لڑکے کی پیدائش خوشی کا باعث ہوتی تھی اور باپ بیٹے کی پیدائش کے بعد دھوم دھام سے مذہبی روم ادا کرتا اور صدقہ دیتا تھا ۔ لیکن لڑکی کی پیدائش پر کوئی خاص رسم ادا نہیں کی جاتی تھی ۔ بچے کو نظر سے بچانے کے لیے احتیاط کی جاتی تھی کہ کوئی عورت کے پاس نہیں آئے اور اس کی شیطانی ناپاکی بچے کے لیے بدبختی کا باعث بنے ۔ شیطان کو دور رکھنے کے لیے آگ اور روشنی کا استعمال ہوتا تھا ۔ خاص کر بچے کی پیدائیش کے ابتدائی تین راتوں کو روشنی کرنا ضروری تھا ۔ بچے کو ہوم کا مقدس پودے کا عرق بطور گھٹی پلایا جاتا تھا اور موسم بہار کا گھی چٹایا جاتا ۔ اس کی خدمت اور دودھ پلانے اور کپڑے پہنانے کے لیے مذہبی رسوم مقرر تھیں اور مونڈن کی رسم بھی مذہبی رسم ادا کی جاتی تھیں ۔ بالغ ہونے تک بیٹے کی اور بیٹی کی شادی تک پرورش باپ کے ذمہ تھی ۔

بچوں کے نام اکثر مذہبی نوعیت کے ہوتے تھے ۔ مثلاً ہرمزد (ادہر مزد ، اہور مزدا) ، بہرام یا وہرام (ورثر غنا) نرسی (نیریو سنگھا اور کبھی دو خداؤں کے نام سے ہوتے تھے ۔ مثلاً مہر وراز (متھرا + وراز یعنی گزاز) مہر بوزیذ (متھرا نجات دیتا ہے) زروان داؤ (زُروان کا دیا ہوا) یزد بُخت ، خدانے نجات دی) اناہیذ پناہ (اناہتا کے پاس پناہ لینے والا) ۔ ایسے نام بھی ہیں جن کی ترکیب آذر گشنسپ ، مہران گشنسپ ، گشنسپ فر (گشنسپ کی شان و شوکت والا) ، آذربگ ، فربگ ، بُرزین اور پناہ بُرزین ۔ بعض ایسے نام ہیں جن کے تین نام ہیں ۔ مثلاً آذر خورشیذ آذر ، یزدان دخت (خدا کی بیٹی) آزر مید خت (آگ کی دختر باعفت) ، دینگ (دین +گ) ، وردگ (ورد یعنی گلاب +گ) بعض وقت صفت استعمال ہوتے تھے مثلاً شیریں وغیرہ وغیرہ ۔ پانچویں صدی میں ایسے نام استعمال ہونے لگے جو کہ افسانوی تاریخ سے لیے گئے تھے ۔ مثلاً شاہ کواد جو کہ اوستا میں کوات آیا ہے ۔ اس طرح خسرو ، سیاوش ، روستتہم (رستم) وغیرہ ۔

بچے کی پرورش ماں کے ذمہ یا کسی مجبوری کی صورت میں پھوبھی یا بڑی بہن یہ ذمہ داری اٹھاتی تھی ۔ اگر بیٹا نالائق ہو تو باپ کے ترکہ میں سے بڑا حصہ اس کی ماں ملتا تھا بشرطیکہ ماں میں اہلیت ہو ۔ لڑکی مذہبی تعلیم دینا اس کی ماں کا فرض اور اس کی شادی باپ کا فرض تھا ۔ اگر باپ زندہ نہیں ہوتا تو پھر لڑکی کی شادی کی ذمہ واری کسی اور شخص کے سپرد کی جاتی تھی ۔ باپ کے بعد ماں اس کی اہل ہوتی تھی ۔ وہ بھی زندہ نہ ہو تو پھر چچا یا ماموں کو یہ ذمہ داری لینی پڑتی تھی ۔ لڑکی کو اپنے شوہر کا انتخاب حق نہیں تھا ۔ مگر اس کے باپ یا سرپرست پر لازم تھا کہ اس کے بالغ ہوتے ہی اس شادی کردے ۔ کیوں کہ اولاد کی جائز خواہش کو پورا نہ کرنا بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا ۔ ایک قاعدہ یہ بھی تھا کہ لڑکی باپ کو مجبور کرسکتی تھی کہ وہ اس کی مرضی کے مطابق شادی کرے اور اس صورت میں باپ لڑکی کو ورثہ سے محروم کر دیا جاتا تھا ۔   

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں