49

زرتشتیوں میں شادیاں

گھر کا مالک (کذک خوذای) خاندان کا سربراہ (سردار یہہ دوذگ) ہوتا تھا اور اس کی بیویوں کی تعداد اس کی آمدنی پر موقوف ہوتی تھی ۔ لیکن عموماً کم حثیت لوگ ایک بیوی رکھتے تھے ۔ سب سے بڑی بیوی (پاؤ شایے ہا) کا درجہ بڑھا ہوتا تھا ۔ اس کے بعد خدمت گار بیوی (زن چگار یہا) ہوتی تھی اور ان کے قانونی حقوق مختلف ہوتے تھے ۔ غالباً خدمت گار بیوی زر خرید لونڈی یا اسیران جنگ ہوتی تھیں ۔ لیکن یہ نہیں معلوم ہوسکا کہ بیوی کی تعداد محدود تھی یا نہیں ۔ لیکن قانونی بحث میں بیاہتا بیویاں (زن پاذِ شایے) ملتا ہے ۔ ان میں ہر ایک کذک بانوگ کہلاتی تھی اور شاید یہ الگ گھر میں رہتی تھیں ۔ شوہر بیاہتا بیوی کے نان و نفقہ دینے کا ذمہ وار ہوتا تھا ۔ بعد کی پارسی کتابوں میں پانچ قسم کی شادیاں کا ذکر ملا ہے ۔ مگر ساسانی عہد میں صرف دو طرح کی شادیوں کا پتہ چلا ہے ۔ عیسائی زرتشتیوں کو کہتے تھے وہ شادی بھی آسانی سے کرلیتے تھے اور طلاق بھی آسانی سے دے دیتے ۔

منگنی عموماً بچپن میں کردی جاتی تھی ۔ پندرہ سال کی عمر میں لڑکی کا بیاہانا ضروری تھا ۔ رشتہ عموماً کسی درمیانی شخص کے ذریعے طے پاتے تھے ۔ مہر میں شوہر ایک خاص رقم لڑکی کے باپ کو ادا کی جاتی تھی ۔ بعض صورتوں میں اس رقم کی واپسی کا مطالبعہ کیا جاسکتا تھا ۔ خاص کر جب شادی کے بعد معلوم ہوتا تھا کہ دلہن اتنی قیمت کی نہیں ہے ۔

شوہر کو اختیار تھا کہ وہ قانونی طور پر اپنی بیوی کو اپنا شریک بنالے ۔ ایسی صورت میں بیوی شوہر کی جائیداد میں حصہ دار ہوجاتی تھی اور عدالت اس کو مستقل فریق سمجھتی تھی ۔ اگرچہ قانونی طور پر شوہر کو مستقل فریق تسلیم کیا جاتا تھا ۔ ایسی صورت میں کوئی تیسرا شخص شوہر کی رضامندی کے بغیر اور قرض خواہ مجاز تھا کہ اپنا قرض عورت یا اس کے شوہر سے طلب کرے ۔ شوہر کو اختیار تھا کہ وہ دو بیاہتا بیویوں کو بیک وقت وِندِ شنِہ (اشراک مال) وثیقہ لکھ سکتا تھا اور اس صورت میں شوہر کی آمدنی میں ہر ایک کا حصہ مشترک ہوتا تھا ۔ لیکن دونوں کا حصہ الگ الگ ہوتا تھا ۔ شوہر کو اختیار تھا کہ وہ اس اشتراک مال کو منسوخ کردے ۔ لیکن بیویوں کو یہ حق حاصل نہیں تھا ۔ لیکن دو اشخاص کے اشتراک مال کے معاہدے کو کوئی بھی منسوخ کر سکتا تھا ۔ شوہر کے پاگل ہونے پر بیوی کو اس کی جائیداد پر تصرف حاصل ہوسکتا تھا ۔

خاندان کا باپ گھر کا خود مختیار مالک ہوتا تھا جس کے تصرف میں اس کی اور غلاموں کی آمدنی ہوتی تھی ۔ بیوی کو طلاق دینے کی صورت میں اس کی ذاتی آمدنی اس کے حوالے کرنا پڑتی تھی ۔ لیکن غلام کو آزاد کرنے کی صورت میں وہ اپنے آقا سے کسی چیز کا مطالبعہ نہیں کرسکتا تھا ۔ طلاق بیوی کی مرضی سے لینے کی صورت میں اس کو یہ حق نہیں ہوتا تھا کہ وہ شوہر کا دیا ہوا مال رکھ سکے ۔ لیکن اگر طلاق بیوی کی رضامندی کے بغیر ہو تو وہ شوہر کے دیے ہوئے مال کو رکھ سکتی ۔ کوئی شخص اس بات کا مجاز نہیں تھا کہ وہ اپنی تمام جائیداد غیروں کو وصیت کردے ۔ لیکن مقروض ہو یا اس کے بیوی بچوں کی پرورش یا کسی بڑے بورھے کی معاش مقصود ہو ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں