52

زرتشتیوں میں طلاق و اختیار

جب کوئی شخص (شوذ) اپنی بیوی سے یہ کہتا کہ میں نے تجھے اپنی ذات پر اختیار دیا تو اس سے طلاق تو نہیں ہوتی تھی لیکن وہ کسی دوسرے شخص سے جینسی تعلق قائم کرسکتی تھی ۔ عورت طلاق کے بعد دوسری شادی کرنے کے بعد دوسرے شوہر سے جو اولاد ہوتی تھی وہ پہلے ہی شوہر کی کہلاتی تھی ۔ البتہ پہلے شوہر کی وفات کے بعد ہونے والی اولاد دوسرے شوہر کی کہلاتی تھی ۔ یعنی پہلا شوہر اپنی زندگی میں عورت بدستور پہلے شوہر کی ملکیت تصور کی جاتی تھی ۔  

شوہر کو اختیار تھا کہ اپنی بیوی (زن) کسی دوسرے شخص (میرگ) عارضی طور پر دے سکتا تھا اور اس کے لیے بیوی (زیانگ) کی رضامندی ضروری نہیں تھی ۔ اس سے پیدا ہونے والی اولاد پہلے شوہر کی سمجھی جاتی تھی ۔ یہ معاہدہ عموماً ایک قانونی اقرار نامے کے ذریعے ہوتا تھا ۔ یہ اس کا ثبوت ہے کہ بیوی اور غلام کی حثیت برابر تھی ۔ بقول باتھولمی کے نظری طور پر قانون میں عورت کو مستقل شخصیت تسلیم نہیں کیا تھا اور اس کی حثیت بدلتی رہتی تھی ۔ 

البیرونی نے اور نامہ تنسر میں بیان کیا گیا ہے اگر کوئی شخص مرجائے اور اس کی اولاد نرینہ نہ ہو تو اس کی شادی کسی قریبی عزیز سے کردی جاتی تھی ۔ اس سے جو اولاد ہوتی تھی وہ متوفی شوہر کی سمجھی جاتی تھی ۔ اگر بیوی نہیں ہو تو اس کی لڑکی یا کوئی اور رشتہ دار عورت کی شادی قریب ترین رشتہ دار سے کردیا جاتا تھا اور اس کا مہر متوفی کے مال سے ادا کیا جاتا تھا ۔ اس سے بھی جو بچہ پیدا ہوتا تھا وہ متوفی کا سمجھا جاتا تھا ۔ اگر کوئی اس فرض کو ادا کرنے میں غفلت کرتا تو وہ بے شمار جانوں کے قتل کرنے کا ذمہ دار ہوگا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے منتوفی کی نسل اور نام کو مٹا دے گا ۔   

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں