44

زرتشتیوں میں محرمات سے شادیاں

زرتشتی مذہب میں بے قائدہ جینسی تعلقات کو پسند نہیں کیا جاتا تھا اور اسے روکنے کی کوشش کی اور اسے ایسا گناہ قرار دیا گیا جس کی معافی نہیں ہے اور کوئی عمل اس گناہ کو دھو نہیں سکتا ہے ۔ مگر دوسری طرف باپ یا شوہر کا اختیارت اس قدر زیادہ تھے کہ وہ اپنی بیوی یا بیٹی کسی دوسرے شخص عارضی طور پر جینسی تعلقات کے لیے دے سکتا تھا ۔ شادی کے لیے قریبی رشتہ داروں کے درمیان شادی کو پسندیدہ قرار دیا گیا ہے اور اس کی اتنی اہمیت تھی کہ سگے بہن بھائی ، باپ بیٹی اور مان بیٹا کے درمیان بھی شادی کی اجازت تھی ۔ اوستا میں ہے کہ گستاسپ یا گشتاسپ کی بیوی بانو بانوان (ملکہ) لہراسپ کی بیٹی اور گشتاشپ کی سگی بہن تھی اور گشتاسپ بیٹے اسفندیار کی شادی اس کی سگی بہن ہماء سے ہوئی تھی ۔ ساسانی بادشاہوں میں بھی بہنوں اور بیٹوں سے شادی کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں ۔ مثلا اردشیر دوم نے اپنی بیٹی آتشہ سے شادی کی تھی ۔ حضرت عمر نے بھی اس قسم کی شادیوں پر پابندی لگادی تھی اور کوفہ میں محرمات کے درمیان ایسے رشتہ کے درمیان جدائی کا حکم جاری کیا تھا ۔ 

خاندان میں پاکی نسب کی حفاظت ایرانی سوسائٹی کی ایک نمایاں خصوصیت محرمات کے ساتھ شادی کو مذہبی جواز دیا گیا ۔ اس قسم کی شادی خویذد گردس (اوستا خوئیت ودادا) کہلاتی تھی ۔ ایرانیوں کے یہاں اس قسم کی شادی بہت دیرینہ ہے ۔ چنانچہ ہخامنشیوں کی تاریخ اس کی کئی مثالیں ملتی ہیں ۔ کموجیہ ، داریوش دوم ، ارتخشر دوم ، داریوش سوم نے بھی اس طرح کی شادیاں کی تھیں ۔ بگ نسک اور ورشمتانسر نسک میں خویذوگدس کی بڑی عظمت بیان کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اسی مزادجت پر خدا کا سایہ پڑتا ہے اور شیطان اس سے دور رہتا ہے ۔ نرسی ُبرز مہر مفسر کا دعویٰ ہے کہ خویذدگدس سے کبائر کفارہ ہوجاتا ہے ۔ ایرانیوں کے ہاں محرمات کی شادی رسم کی تصدیق معاصر مورخین مثلاً اگاتھیاس وغیرہ کے بیان سے ہوتی ہے ۔ بلکہ ساسانی عہد میں ایسی شادی کئی مثالیں ملتی ہیں ۔ مثلاً بہرام چوبین ، مہران گشنسپ نے اس قسم کی شادیاں کیں ۔

باوجود معتبر شہادیوں کے جو زرتشتی کتابوں اور غیر ملکی معاصر مصنفین کے یہاں پائی جاتی ہیں ۔ اگرچہ آج کل کے زرتشتیوں کا اصرار ہے کہ یہ محض ہرزہ سرائی ہے ۔ مثلا بلسارا نے خویذوگدس کی تاویل یوں کی ہے کہ یہ خدا اور بندے کے درمیان وہ تعلق جو بذریعہ زہد و تقدس قائم کیا جائے ۔ اگر یہ لفظ پہلوی کتابوں میں ترویح محرمات کے معنوں میں استعمال ہوا ہے تو وہ فقط مزدکی فلسفیوں کے بارے میں ہے ناکہ زرتشتیوں کے بارے میں ۔ لیکن حقیقت میں زرتشتیوں میں محرمات کے ساتھ شادی گناہ نہیں بلکہ مذہبی نقطہ نظر سے وہ کار ثواب تھا ۔ چینی سیاح ہیونگ سانگ نے یہ لکھا یہ اس زمانے ایرانیوں کے یہاں شادیاں بلا امتیاز ہوتی تھیں ۔ تو وہ غالباًً اس رسم کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ 

دبستان مذہب میں پارسیوں کے ایک فرقہ آخشی کے ایک شخص کا کہنا تھا کہ جو پانی بیٹی کی پیدائش کی اصل ہے وہ آلہ تناسل سے باہر آتا ہے اور رحم سے مل جاتا ہے ۔ لہذا دونوں لحاظ سے اس کے باپ کے آلہ تناسل سے نکلنا کو بری بات نہیں ہے ۔ اسی طرح بھائی بہن کے باہر نکلنے کا راستہ ایک ہی ۔ لہذا ان دونوں کا آپس میں اختلاط روکنا بھی کوئی بری بات نہیں ہے ۔ نیز کہتا ہے کہ جب سارا بدن ماں سے شکم سے باہر آجاتا ہے تو کوئی ایک عضو باہر آکر دوبار اندر داخل ہوجائے تو کوئی ناشائستہ بات نہیں ۔

اسی کتاب میں ایک اور شخص کا کہنا ہے کہ جب تک میں اپنے کے باپ کی پشت میں تھا اپنی ماں کا شوہر تھا اور جب اس کے شکم میں آیا اور باہر نکل آیا تو لوگ مجھے اس کا بیٹا کہتے تھے اور اس سے شادی کرلی تو اس کا شوہر ہوں اور اس میں کوئی بری بات نہیں ہے ۔ بیٹی ، بہن اور ماں سے جماع کرنا دوسری عورتوں سے زیادہ بہتر ہے ۔ کیوں کہ یہ عورتیں تمہاری محرم ہیں اور نامحرم عورتوں سے اختلاط میں زیادہ بے حیائی ہوتی ہے ۔ ہاں اگر ان محرم عورتوں میں سے کوئی میسر نہیں ہو تو نامحرم عورتوں سے اختلاط کرنا چاہیے ۔ یہ لوگ اس عورت سے اختلاط کرنا حرام سمجھتے تھے جس کا شوہر حیات ہو ۔ ہاں اگر شوہر نے اجازت دے دی ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی عورت جو خواہ اپنی ماں ہو اپنی یا دوسرے کی بیٹی اگر شوہر والی نہیں ہے اور دونوں راضی ہوں تو شادی ہوسکتی ہے ورنہ نہیں ۔ لیکن اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو دوسرے کے پاس جانے کا حکم دے تو اس عورت سے جماع بھی جائز ہے ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں