63

زرتشتیوں میں نئے عقائد

یہ وہ عقائد ہیں جو کہ بعد کے کتابوں مثلاً دبستان مذہب اور دساتیر میں پائے گئے ۔ مگر اس سے پہلی کی پہلوی کتابوں اور عربوں کے بیانات میں یہ نظر نہیں آتے ہیں ۔ ان عقائد میں ہمیں مذہب عرفان کا اثر نظر تو آتا ہے ۔ مگر اس میں سے زروانیت یکسر غائب کرکے اس میں نئے پیغمبروں کا حال اور ایرانی تاریخ کو ایک نئے نقطہ نظر سے لکھنے کی کوشش کی گئی ہے اور نئے عقائد کو شامل کیا گیا ۔ تاہم اس میں کلدانی اثر بھی ملتا ہے ۔ اس کی بنا پر نے اوستا جب منظر عام پر آئی تو اسے جعلی قرار دیا ۔ اس کی ایک خصوصیت آفرنیش اور تاریخ کو ایک نئے پہلو سے پیش کیا گیا اور کچھ اور نئے عقائد کو بھی پیش کیا ہے جن پر اسلامی عقائد کا بھی اثر ہے ۔ یہ عجیب بات نہیں ہے ایران کی قدیم تاریخ کو لکھنے والے قدیم مورخین نے ایرانی آفرنیش کے اس سے پہلے چار ماخذ پیش کرچکے ہیں ۔ جس میں سب سے زیادہ مقبولیت شاہنامہ کو شہرت ملی ۔ یہ تمام ماخذ تاریخ سے ماخذ نہیں ہے ۔ ان کی خصویت یہ کہ اس میں اہرمن کا کردار کم کرکے زرتشتی مذہب کو ثنویت کے بجائے توحیدی مذہب بنانے کی کوشش ہے ۔ لہذا اسے پیش کیا جارہا ہے ۔

    مہ آباد

مہ آباد یا فرزّآباد کو پہلا پیغمبر ماتے ہیں ۔ روایات کے مطابق زرتشت ایران کے پہلے یا آخری پیغمبر نہیں ہیں ۔ بلکہ ان سے پہلے بہت سے پیغمبر گزر چکے ہیں اور آتے رہیں گے ۔ ان کے عقیدے کے مطابق ایرانیوں کا پہلا پیغمبر اور بادشاہ مہ آباد تھا ۔ اس سے ایک صحیفہ نامہ مہ آباد یا دساتیر بھی موسوم کیا جاتا ہے ۔ اس آسمانی کتاب میں سارے علوم اور زبانیں موجود تھیں ۔ جو دنیا کی کسی اور زبان سے مشابہ نہ تھیں ۔ مہ آباد نے ہر گروہ کو ایک زبان دے کر انہیں ایک علاقہ میں بھیج دیا اور اس طرح پارسی ، ہندی ، رومی اور دوسری ساری زبانیں پیدا ہوئیں ۔ مہ آباد سے پہلے شہروں کا انتظام ، پیشہ وروں کے قوانین اور شرائط ، حکومت اور سرداری کے مراسم قانون شریعت اور علم و حکمت کی تعلیم اس سے پہلے نہیں تھی ۔ مہ آباد نے احکام خداوندی کے مطابق سارے آباد و ویران مقامات اور خشکی اور پانی پر انہیں جاری و نافذ کیا ۔

مہ آباد کے بعد جے افرام پھر ان کے بعد شائی کلیو پیغمبر اور شائی کلیو کے بعد گلشا یا کیومرث پیغبر ہوئے ۔ گلشا کے بعد ان کا بیٹا سیامک پھر ہوشنگ ، تہورث اور جمشید علی الترتیب پیغمبر ہوئے اور ان کی تعلیمات پر لوگوں نے توجہ نہیں دی ۔ جس کی وجہ سے دہ آک (ضحاک) کا فتنہ ان پر مسلط ہوگیا اور دہ آک (دھاک یا اژدی دہاک) کے فتنہ کو فریدون نے آکر مٹایا ۔ ان کے بعد منوچہر ، پھر کیخسرو اور ان کے بعد خشت وخشور زرشت پیغمبر ہوئے ۔ زرتشت کے بعد بھی پیغمبری کا یہ سلسلہ نہیں ٹوٹا اور مانی ، مزدوک وغیر کے نام ملتے ہیں ۔ ان کے علاوہ کئی اور لوگوں نے بھی پیغمبری کا دعویٰ کیا مگر ان میں سے کوئی بھی کامیاب نہیں ہوا اور نہ ہی یہ لوگ مبارک گروہ یا راسخ عقیدہ مانے جاتے ہیں ۔ ان پیغمبروں میں سے کئی ایسے پیغمبر گزرے ہیں جن میں بادشاہی اور پیغمبری حضرت سلیمان کی طرح جمع تھی ۔ ان میں مہ آباد ، گلشا یا کیومرث اور فریدوں وغیرہ ہیں ۔

مہ آباد کی تعلیمات کو نامہ مہ آباد بھی کہا جاتا ہے اور یہ بہت اہم ہیں ۔ کیوں کہ ایران میں جتنے مذہب و پیغمبر آئے وہ مہ آباد کے اصولوں اور تعلیم پر اپنے مذہب کو آگے بڑھاتے رہے ہیں اور یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ایرانی مذاہب کی اصل تعلیم نامہ مہ آباد ہے اور باقی سب اس کی تفسیریں ہیں ۔ چنانچہ نامہ وخشور شائی کلیو میں کہا گیا ہے کہ جو پیغمبر ہم بھیجتے ہیں وہ استورئی آئین رفتہ کے لیے ہیں نہ اکھاڑ پھیکنے لیے ۔ آئین آئین بزرگ آباد کا ہے اور دوسرے پیغمبر اسی آئین پر معبوث ہوتے رہیں گے ۔ تاکہ اس میں کچھ خرابیاں واقع ہوگئی ہوں تو نہیں درست کریں ۔ اگرچہ زرتشت کی تعلیمات اس سے کافی مختلف ہیں مگر اس کی تاویلیں کرکے زرتشتی مذہب کو بھی مہ آباد کا تسلسل بتاتے ہیں ۔ اس لیے زرتشت دخشوریسمیاری یعنی بپغمبر فزگو کہلاتے ہیں ۔

ان کا کہنا ہے کہ مہ آباد کے بعد صدیوں تک اس کے مذہب پر عمل کیا جاتا رہا اس کے بعد کفر و الحاد شروع ہوگیا اور اہل ایران جانوروں سے بدتر ہوگئے ۔ اس فتنہ کو فرد کرنے کے لیے جے افرام کو معبوث کیا اور انہوں نے آکر دنیا کو آلائشات سے پاک کیا ۔ یہ بھی صاحب نامہ ہیں اور تفصیل سے حمد کو بیان کیا ہے ۔ ان کے بعد شائی کلیو پیغمبر ہوئے اور ان کے نامہ میں بھی حمد موجود ہے اور آخر میں اجمال کے ساتھ طریق عبادت بتایا گیا ہے ۔ شائی کلیو کے بعد گلشاہ یا کیومرث پیغبر ہوئے ۔ یہ بھی مہ آباد کی طرح پیغمبری اور بادشاہی کے جامع تھے ۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے بادشاہی کا نام ان ہی کی ذات سے شروع ہوا ۔ اس زمانے میں لوگوں میں دیوؤں کے خصائل آگئے تھے اور ہر شخص بجائے خود ایک درندہ تھا ۔ شائی کلیو نے ان لوگوں سے لڑبھر کر زیر کیا اور ایران کو ان سے پاک کیا ۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ دیوؤں سے لڑے تھے ۔ 

ماہ آباد ایک خالق کا قائل تھا اس کا ایک صحیفہ دساتیر یا ماہ نامہ جو کہ خدا کی دی ہوئی کتاب ہے ۔ اس میں خالق کی تعریف میں کہتا ہے کہ ہستی و دیکتائی وکسی اسی کو سزاوار ہے ۔ موجودہ فی الخارج کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے ۔ اس کا نہ آغاز ہے نہ انجام ، نہ کوئی اس کوئی شریک و ہستر نہ دشمن نہ مانند ، نہ کوئی اس کا یار و مددگار ، نہ اس کا کوئی باپ نہ ماں نہ بیوی ، نہ اولاد ، نہ وہ کسی جاہ و سمت کا مقید ، نہ اس کا کوئی جسم نہ رنگ و بو ، نہ اس کو آرام کی حاجت ، نہ اس کے حواس ، نہ اس کے قواء ، زندہ و دانا و توانا و بے نیاز ، دادگر ، خبردار ، سمیع و علیم ، اس کا علم ہر چیز پر احاطہ کیے ہوئے ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ گزشتہ موجودہ و آئندہ کا حال اس پر ہر وقت روشن ہے ، نہ وہ کسی کا بدخواہ ، نہ وہ کسی سے بدی کرتا ہے ۔ جو کچھ اس نے کیا اور کرے گا خوب ہے ، آسمان و فرشتگان ، دنیا و مافہیا کا خالق وہی ہے ۔ وہی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا ۔ وغیرہ وغیرہ یہ جامع و مانع تعریف واجب الوجود اس وقت تک پارسیوں میں معتقدبہ اور متد اول ہے ۔

مہ آباد کے مطابق کائنات کا انتظام فرشتگان مقرب کے سپرد ہے جو کہ ہرمزد کی مخلوق اور اس کے زیر فرمان ہیں ۔ ہر ایک فرشتہ ایک ایک پر موکل ہے اور اس کا انتظام اسی کے ہاتھ میں ہے ۔ ان میں سب سے مقرب فرشتہ بہمن ہے ۔ جس کو عقل اول بھی کہا جاتا ہے ۔ یہی فرشتہ ہے جس کی معرفت ہرمزد کا پیغام اسے پیغمبران تک پہنچتا ہے اور اس کے علاوہ اور فرشتگان بھی ہیں ۔

دو عالم قرار دیے گئے ہیں ایک عالم سفلی یعنی دنیا اور دوسرا عالم علوی یعنی افلاک ۔ جہاں موت و حیات ، صورت و شکل کچھ نہیں ہے اور اسی کو بہشت کہتے ہیں ۔ جہاں کی راحت و فرحت و خوشی کو دنیاوی راحت و فرحت و خوشی سے کوئی مناسبت نہیں ہے ۔ جسے نہ زبان بیان کرسکتی ہے ، نہ کان سن سکتے ہیں اور نہ آنکھ دیکھ سکتی ۔ وہاں کے ادنیٰ درجہ کے لوگ اس دنیا کے برابر مقام پائیں گے اور اتنا سامان آسائش و آرائش کہ جتنا جہاں بھر میں نہیں ہے ۔ وہاں نہ بوڑھے ہوں گے نہ بیمار ۔ اس کے مقابل ذوزخ ہے ۔ جہاں آگ و برف دونوں سے کام لیا جاتا ہے اور بدکیش و گناہ گاروں کو مار و کژوم سے کٹوایا جاتا ہے ۔ یہ سزائیں ادنیٰ گناہوں کی ہیں اور بڑے گناہوں کا کیا ٹھکانا کیا ہے ۔

جو لوگ اس ہستی کے احکام مانیں گے ، اسی کی عبادت کریں گے ، بے آزار جانوروں کو نہ ستائیں گے وہ بہشت میں جائیں گے اور جو اس کے خلاف عمل کریں گے ان کو ذوزخ ملے گی ۔ نیز اکثر گناہ گار لوگ اپنے کیفرکردار کے لیے اسی دنیا میں پھر پیدا کیے جائیں گے اور ان کو مختلف تکالیف میں ڈالا جائے گا اور مصائب میں پھنسایا جائے گا ۔ اگر اس میں وہ ثابت قدم رہے تو اور ازسر نو ان گناہوں کے مرتکب نہ ہوئے تو بالآخر وہ بہشت پائیں گے ورنہ وہ ذوزخ میں جائیں گے ۔ جو درندے جو بے آزار جانوروں کا شکار کیا کرتے تھے دوسری زندگی میں بے آزار جانور بنائے جائینگے تاکہ درندے ان کا شکار کریں اور وہ کیفر کردار پالیں ۔ ان بے آزار جانوروں میں اکثر وہ انسان بھی جنم لیتے ہیں جو بے آزار جانوروں کو ستاتے اور مارتے تھے ۔ چونکہ بے آزار جانور خود سزا بھگتنے کے لیے دنیا میں نہیں پیدا کیے جاتے ہیں اس لیے ان کو ستانا یا شکار کرنا گناہ سمجھا گیا ہے اور اس گناہ کے مرتکب کو ان ہی کا چولہ اختیار کرنا پڑے گا ۔ اس سے بڑھ کر یہ نباتات و معدنیات بھی فی الاصل اپنے افعال کا نتیجہ اٹھانے کے لیے پیدا کئے گئے ہیں تاکہ اسی صورت میں پایمال ہوکر اپنی سزا بھگت لیں اور سخت دل اور درشت خو لوگ معدنیات کی صورت میں پیدا کیے گئے ہیں تاکہ اپنے کیے کو پالیں ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں