55

زرتشتیوں کی مذہبی تنظیم

مذہبی رتبے اور مقام کی تفصیل کتاب ہیر بذَستان (قانون نامہ مذہبی تنظیم) کے دو باب جو گمشدہ ہسپارم نسک میں تھے اور ان کا خلاصہ دین کرد میں دیا ہوا ہے ۔ ہیر بدوں کا رئیس اعلیٰ ہیر بذان ہیر بذ تھا ۔ جو کم از کم ساسانی کے خاص زمانوں میں موبدان موبد کے بعد سب سے بڑے صاحب منصبوں میں شمار ہوتا تھا ۔ ہیر بذان ہیربذ جو تاریخ میں مزکور ہیں ۔ ان میں ایک تو تنسر تھا جو کلسیائے زرتشتی کی رسمی تنظیم میں ارد شیر اول کا معاون تھا ۔ ایک اور زروان داؤ پسر مہر نرسی ہے اور جس کو بقول طبری اس کے باپ نے اسے مذہب و شریعت کے لیے وقف کردیا تھا ۔ طبری سے پتہ چلتا ہے کہ حاکم شریعت کے فرائض بھی ہیربذان ہیر بذ انجام دیتا تھا اور مسعودی کے مطابق ہیر بذ بحثیت حکام عدالت قانونی کے فیصلے صادر کیا کرتے تھے ۔

کلسیائے زرتشتی کے دوسرے عہدے دار جن کے فرائض کو ہم صحیح طور پر متعین نہیں کرسکتے وہ ورہ بذ (استاد عمل) اور دستور تھے ۔ دستور غالباً مذہبی مسائل کے ماہر کو کہتے تھے ۔ گویا ایک طرح کا فقیہ جس کی طرف لوگ شریعت کے پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے رجوع کرتے تھے ۔ ایک اور عہدہ مغان اندرزبد یا مگوگان اندر زبد (معلم مغان) تھا ۔

دہ پناہ مگوگان اندرذہد یا مس مغان یعنی رئیس مغان کا ایک عہدہ عربوں کی فتح کے وقت دماند میں تھا اور یہ عہدہ ساسانیوں کے آخر زمانے میں وجود میں آیا تھا اور اسلامی زمانے میں ڈیڑھ سو برس تک قائم رہا ۔ اردشیر اول نے اوستا کی تدوین کے لیے تمام دستوروں اور موبدوں کو جمع کیا تھا ۔ بعض وقت دستور عام معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس کا اطلاق زرتشتی علماء کی تمام جماعت پر ہوتا ہے ۔ 

یہ مذہبی عہدہ دار عامۃ الناس کے ساتھ تعلقات میں جو فرائض انجام دیتے تھے وہ معتدد اور مختلف تھے ۔ مثلاً مراسم تطہیر کا ادا کرنا ، گناہوں کے اعترافات کو سننا اور ان کو معاف کرنا ، کفاروں کا تجویز کرنا ، ولادت کی مقررہ رسوم کا انجام دینا ، رشتہ مقدس یعنی زنار (کستیگ) کا باندھنا ، شادی ، جنازہ یعنی مردوں کا دخموں میں لیجانا ، مختلف مذہبی تہواروں کی نگرانی وغیرہ ۔ اگر اس بات کو دیکھا جائے کہ کس طرح مذہب روزانہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات میںبھی مداخلت کرتا تھا اور یہ کہ ہر شخص دن اور رات میں کتنی دفعہ ذرا سی غفلت پر گناہ اور نجات میں پکڑا جاتا تھا تو معلوم ہوگا کہ مذہبی عہدہ کوئی کام کی نوکری نہ تھی ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک شخص جس کو بزرگوں سے کوئی مال یا جائداد ترکے میں نہ ملی ہو مذہبی پیشہ اختیار کرکے اپنے متفرق مشاغل کی بدولت بآسانی سے صاحب ثروت بن سکتا تھا اور ان مذہبی عہدہ داروں پر واجب تھا کہ دن میں چار دفعہ آفتاب کی پرستش کریں ۔ اس کے علاوہ چاند ، آگ اور پانی کی پرستش ان پر فرض تھی ۔ ان کے لیے ضروری تھا کہ سونے اور جاگنے اور نہانے اور زنار باندھنے اور کھانے اور چھینکنے اور بال یا ناخن ترشوانے اور قضائے حاجت اور چراغ جلانے کے وقت خاص دعائیں پڑھیں ۔ انہیں حکم تھا کہ ان کے گھر کے چولھے میں آگ بجھنے نہ پائے ۔ آگ اور پانی ایک دوسرے کو چھو نہ پائیں ۔ دھات کے برتنوں پر کبھی زنگ نہ آنے پائے کیوں کہ دھاتیں مقدس ہوتی ہیں ۔ جو شخص کسی میت یا زچہ کو (خصوصاً جس نے مردہ بچہ جنا ہو) چھو جائے ۔ اس کی ناپاکی کو دور کرنے کے لیے جو رسوم و قواعد تھے ان کا پورا کرنا حد سے زیادہ پر زحمت اور تھکا دینے والا تھا ۔ ازدگ وویراز نے جو بڑا صاحب کشف تھا ۔ جب عالم رویا میں ذوزخ کو دیکھا تو وہاں قاتلوں اور جھوٹی قسم کھانے والوں اور دوسرے مجرموں کے علاوہ ایسے لوگ بھی دیکھے جن کا گناہ یہ تھا کہ انہوں نے زندگی میں گرم پانی سے استعمال کیا تھا یا پانی اور آگ میں ناپاک چیزیں پھنکیں تھیں یا کھانا کھانے کے دوران باتیں کیں تھیں یا مردوں پر روئے تھے یا ننگے پیر پیدل چلتے تھے ۔

ان مذہبی پیشواؤں کے رتبہ اور مقام کی تفصیل کتاب ہیربذستان (قانون نامہ مذہبی تنظیم) اور نیرنگستان (قوانین مذہبی رسوم) میں مسطور ہیں ۔ یہ دونوں کتابیں ہسپارم نسک کے وہ باب ہیں جو ساسانی اوستا کی گم شدہ جلدوں میں سے ایک ہے ۔ ان کا خلاصہ دین کرد میں لکھا ہے ۔ 

ہیر بذستان میں منجملہ اور باتوں کے علمائے مذہب کو دیہات و قضبات میں مذہبی تعلیم دینے اور مراسم عبادت ادا کرانے کی غرض سے بھیجنے کے مسلے پر بحث کی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ ان کی غیر حاضری میں اپنی زمین کی کاشت کا کیا انتظام کرنا چاہیے ہیں ۔ پھر اس بات پر بحث کی ہے کہ خاص حالات کے اندر مراسم عبادت میں امداد کے لیے کسی عورت اور بچے کی خدمات سے کیوں کر مستفید ہونا چاہیے وغیرہ وغیرہ ۔ ہسپارم نسک کے ایک اور باب میں اس امر پر بحث ہے کہ زوتر کو (آتش کدے کا پجاری جس کی سردگی میں نماز یا پوجا کی جاتی ہے) کیا اجرت دینی چاہیے ۔ اس کے علاوہ اسی قسم کے دوسرے کلیسائی مراسم پر بحث ہے ۔ دیہات میں کسانوں پر یہ بات واجب کی گئی ہے کہ معلم مذہب کو کھلانے پلانے اور اس کی باقی دوسری ضروریات کے کفیل ہوں ۔

پیشوایان مذہب کا صرف یہی فرض نہیں تھا کہ وہ مراسم کو ادا کرائیں بلکہ لوگوں کی اخلاقی رہنمائی اور روحانی حکومت بھی ان کے ذمے تھی اور تعلیمات کا سارا سلسلہ (ابتدائی درجے سے اعلیٰ درجے تک) ان علماء کے ہاتھ میں تھا ۔ کیوں صرف یہی لوگ تھے جو علوم زمانہ کے تمام شعبوں پر حاوی تھے ۔ کتب مقدسہ اور ان کی تفاسیر کے علاوہ غالباً ایک کافی تعداد شریعت اور دینیات کی کتابوں موجود ہوگی ۔ ایلیزے Elisee نے ایک موبد کا ذکر کیا جس کو علوم دینی میں تجر کی وجہ سے ہمگ دین (مذہب میں عالم کامل) کا پر توقیر لقب دیا گیا تھا ۔ اس نے قانون کی وہ پانچ کتابیں پڑھیں تھیں جس میں مغوں کے عقائد درج ہیں ۔ یعنی انپرتک اش ، بوزپیت ، پہلویگ (مجموعہ قوانین پہلوی) پارسیگ دین (مذہب پارسی) اور ان کے علاوہ موبدوں کے مخصوص عقائد کا علم تھا ۔ موبد عدالتی فرائض بھی انجام دیتے تھے ۔ 

یونانی اور لاطینی مصنف مگوس Magos سے بلا امتیاز مغ اور موبد دونوں مراد لیتے ہیں ۔ اس کے برعکس عربی اور فارسی مصنفیں موبد مذہب زرتشتی کلیسائی کے تمام مراتب پر حاوی سمجھتے تھے ۔
فال گیری
فال گیری کا کام مغ کرتے تھے ۔ وہ آتش مقدس کو دیکھ کر مستقبل کا حال بتاتے تھے اور وہ لوگوں کے زائچہ بھی بنایا کرتے تھے ۔ البیرونی نے سال منحوس اور سعد دنوں کی ایک فہرست دی ہے ہے ۔ جس کے مطابق زرتشیتی مختلف تقریبیں کرتے تھے ۔ ماہ کی کسی تاریخ کو سانپ دیکھنے سے مثلاً فلاں دن فلاں تاریخ کو سانپ دیکھنے نے بیماری یا کسی عزیز کی موت یا عزت و شہرت اور روپیہ ، سفر ، مذہبی سزا وغیرہ کے بارے میں پیشن گوئی کی جاتی تھی ۔ اس طرح ستاروں کا قران سعد و منحوس سمجھا جاتا تھا ۔
بلغی نے ایک فارسی کتاب ’کتاب تفائل‘ کے بارے میں کہا ہے اس میں وہ فالیں درج تھیں جو ایام جنگ میں فتح و شکست کا حال معلوم کرنے کا ذکر کیا ۔ مغوں نے یہ ورثہ قدیم کلدانیوں سے حاصل کیا تھا ۔
تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں