41

زرتشتی تقویم

زرتشتی دسل بارہ مہینے کا ہے جن کا نام بڑے بڑے خداؤں کے نام پر رکھے گئے تھے ۔ ان کی ترتیب یہ ہے ۔

(۱) فرَوَز دین (فرَوَشی ہا)۔۔۔۔ (۲) اُردوَ ہِشت (اشادہشتَ)۔۔۔۔(۳)خؤرداؤ(ہؤزدَتات)

(۴) تیر (تِشتریا)۔۔۔۔۔۔۔۔ (۵)امُز داؤ(اَمَرتات)۔۔۔۔۔۔۔(۶) شہریور(خشَشروَیریا)

(۷) مہر (مِترا یا متھرا)۔۔۔۔۔۔(۸) آبہان (=آبہا ، اناہتا)۔۔۔۔۔(۹) آذُر (آتر ، آتش)

(۱۰) دَزو (خالق ، اہور مزد)۔۔۔(۱۱) وہمن (وہُو مَنَہ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔(۱۲) سپندارمذ (شپَنتَ آرمّنیتی)

ہر مہینہ تیس دن کا ہوتا تھا جن کے نام زرتشتی خداؤں کے ناموں پر رکھے ہوتے تھے ۔ تاہم عام خیال ہے مہینوں کی تقسیم ہفتوں میں قدیم ایران میں مروج نہیں تھی لیکن بعد علامتوں سے پتہ چلتا ہے کہ ساسانی تقویم میں ہفتے کا وجود تھا ۔ شروع کے سات دن اہور مزد اور چھ امر سپندان کے ناموں پر ہوتے تھے ۔ بارہ مہینوں کے تین سو ساٹھ دنوں کے بعد پانچ دن آخری مہینے میں بڑھادیئے جاتے تھے ۔ ان پانچ دنوں کے نام پانچ گاتھاؤں کے نام پر تھے ۔

غالباً ابتدا میں زرتشتی سال کو نجوی سال کے ساتھ مطابق کرنے کے لیے ایک سو برس کے بعد ایک مہینہ بڑھا دیا جاتا تھا اور کبیسہ کے پانچ دن اس مہینہ کے آخر میں اور اضافہ کر دیے جاتے تھے ۔ بعض اوقات بعض وجوہات کی بناء پر اکھٹے دو مہینے بڑھا دیے جاتے تھے ۔ چنانچہ یزدگر اول کے زمانے میں (۳۹۹ء۔۴۳۰ء) آبہان کے مہینے کے بعد دو ماہ اضافہ کیا گیا تھا ۔ اس بعد ہر سال آبہان اور آذر کے مہینوں کے درمیان پانچ دن بڑھائے جاتے رہے ۔ لیکن جب ایک سو بیس سال کے بعد ایک ماہ کے اضافے کا وقت آیا تو اس پر توجہ نہ دی گئی اور سال ناقص رہ گیا ۔ 

معلوم ہوتا ہے کہ ساسانیوں کے زمانے سے پہلے سال کا آغاز مہر کے مہینے سے ہوتا تھا اور عید مہرگان جو موسم خزاں کا تہوار تھا ۔ لیکن تقویم میں بعض ایسی علامتیں تھیں جن سے شبہ ہوتا ہے کہ بعد میں سال کا آغاز موسم بہار میں اعتدال روز و شب کے وقت مقرر کیا گیا تو ایک سال دؤد (اہورامزد) کے مہینے سے شروع ہوا تھا ۔ گوٹ شمٹ اور نولڈ کی تحقیقات کے منطابق ساسانیوں کے زمانے میں سال شماری کے کئی طریقے تھے ۔ ایک مذہبی جس کی رو سے سال کا آغاز کا موسم بہار میں اعتدال روز و شب کے موقع پر ہوتا تھا ۔ دوسرا دیوانی جس کی رو سے سال کے ایام میں کوئی اضافہ نہیں کیا جاتا تھا ۔ جب تک ایام کبیسہ کی تعداد ایک ماہ تک نہیں ہوجاتے تھے ۔ اس میں کسی قسم کا اضافہ نہیں ہوتا تھا ۔ اس کے نتیجہ میں سال کا آغاز دو مرتبہ ایک ہی دن نہیں ہوتا تھا ۔ جب تک ۱۲ × ۲ ۱= یعنی ۱۴۴۰ سال گزر نہیں جاتا تھا ۔ شاہان ساسانی کی تخت نشینی کا دن دوسری قسم کی تقویم کے مطابق مقرر کیا جاتا تھا ۔ 

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سال شماری کے کئی طریقے تھے اور اس تصدیق البیرونی کے بعض تہواروں کی تاریخوں سے ہوتا تھا ۔ وہ ان مظاہر قدرت یا سال کے موسموں سے مختلف ہیں جن کے ساتھ وہ تہوار وابستہ تھے ۔ مثلاً بیرونی نے دو تہواروں کو جو آذرجشن کہلاتے تھے موسم سرما کے تہوار بتلایا ہے ۔ حالانکہ عام تقویم کے مطابق فروردین کی پہلی تاریخ اعتدال ربیعی کے دن ہوتی تھی ۔ اس حساب سے پہلا آذر جشن ۲۱ اگست اور دوسرا ۲۴ نومبر کو ہونا چاہیے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں