59

زرتشتی ماہ کے ایام

نیبرگ نے اس کی طرف توجہ دلائی ہے کہ زرتشتی مہنہ تیس دن کا ہوتا ہے اور ہر دن کسی نہ معبود کے نام سے منسوب ہے ۔ ان  تیس دنوں کے ناموں کو بندہشن کے پہلے باب میں پیش کیا گیا ہے ۔ ان تیس دنوں کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے یہ تقسیم حسب ذیل ہے ۔

۱۔اہور مزد……… ۲۔آذر……… ۳۔مہر………. ۴۔دین

دہمن……….  آبان………. سروش……….  ارد

ازدوہشت ……….خوز………. رشن……….   اشتاذ

شہریور……….  ماہ……….   فرورین………. سمان

سپندارمذ……….  تیر……….  ورہران……….رام داؤ

خور داؤ……….  گوش……….   رام……….مہر سپند

امزداؤ……….   دذؤ……….  واذ……….   انگران

دذو……….   دذؤ       

اس فہرست میں تین جگہ دذؤ (اوستائی۔دودہ) کا نام ہے ۔ پہلی فہرست میں اہورمزد اور چھ امہر سپند (میشہ شپت) اور آخر میں وذؤ جو اہورا مزد کا نام ہے ۔ نیبرگ کا کہنا ہے کہ باقی تین فہرستیں اسی اصول پر بنائی گئیں ہیں ۔ دوسری فہرست کے شروع میں آذر ہے اور آخر میں وذؤ کا نام ہے جو آذر کی فعالیت کا خلاصہ ہے ۔ اس طرح تیسری فہرست وہ مہر کی فعالیت کا خلاصہ ہے ۔ لیکن چوتھی فہرست میں دین کی خلافی کی تفسیر ہے ۔ فرق یہ ہے اور اس کے آخر میں بطور خلاصہ وذد کا نام نہیں ہے ۔ اس وجہ یہ لگتی ہے کہ یہ فہرست انگران کے نام پر ختم ہوتی ہے جو انوار نامحدود ہیں کہ خلق نہیں کیے گئے ۔ نیبرگ کی رائے میں اہور مزد اور تین وذؤ سے مراد اہور مزد آذر (آگ) مہر (متھرا) اور دین (دین مزدیسن) ہے ۔ یہ اگرچہ قرین قیاس ہے کہ غیر زروانی مزدائیوں نے زرون اَکَرَنَ کے بجائے اَنَکَران سے بدل دیا ہو ۔ پس زرتشتی مہینہ مظاہر الوہیت کو پیش کرتا ہے جو چار خداؤں (اہور مزد ، آذر ، مہر ، دین) اور ان کی صفتوں پر مشتمل ہیں ۔ نیبرگ آخر میں کہتا ہے یہی فہرست انٹیوکس کے کتبے میں ہے ۔ یعنی (۱) اہور مزد (۲) مہر (۳) ورہران (۴) ایک معبود کو جس کو نبرگ نے دین مزدیسن قرار دیا ہے ۔ ان دو فہرستوں میں صرف ایک نام کا فرق ہے اور وہ ورہران ہے جس کے بجائے تقویم میں آذر کا نام ہے لیکن یہ فرق ظاہری ہے ۔ حقیقت میں دونوں نام ایک ہی ہیں ۔ ورہران کو آگ کے ساتھ خاص نسبت ہے اور آتش کدوں میں جو آگ جلتی تھی وہ آتش ورہرام اور متاخر پہلوی میں آتش دہرام کہتے تھے ۔ سریانی و ارمنی ماخذ سے تائید ہوتی ہے کہ ساسانی خداؤں کے مجموعہ میں برترین خدا زروان ، اہور مزد ، خورشید ( مہر ، متھرا) آتش (آذر) اور بیدخت (دین مزدیسن یعنی مزدایت مجسم ) تھے اور ساسانیوں کے ذوال کے بعد جب موبدان زرتشت نے زرتشتی مذہب کی تنظیم نو کی اہورا مزد کے علاوہ تینوں یعنی زروان ، متھرا اور اناہتا دیوی کو خارج کرکے زرتشتی مذہب کو توحیدی مذہب بنانے کی ناکام کوشش کی مگر اس کوشش میں اہرمن کا کردار طاقت ور ہوگیا ۔ جس کو مانی اور مزدوکی مذہب کی وجہ سے زیادہ شہرت ملی ۔ اسی وجہ سے زرتشتی مذہب ثنونی مذہب کہلایا ۔  

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں