41

زرتشتی مذہب میں حیات بعد الموت

زرتشتی عقیدے کے مطابق روح ازلی اور ابدی ہے ۔ انسانی جسم سے جب روح خارج ہوتی ہے تو جسم کے گرد تین دن حلقہ باندھے رہتی ہے ۔ اس وقت اسے رنج اور خوشی کا احساس اسی طرح ہوتا ہے جس طرح وہ جسم میں موجود ہو ۔ تین دن کے بعد ہوا اسے اوپر لے جاتی ہے ۔ اچھی روحیں ابدی یعنی انہود ہشتا (بہشت) میں داخل ہوجاتی ہے ۔ بری روحیں ایسے مقام پر پہنچتی ہیں جہاں تاریکی ہی تاریکی ہے ۔ اس کے بعد اس کی آخری منزل نجات کی ہوگی ۔ دنیا کو نجات دلانے والا (سوشیانت) ہوگا اور استاخیز کے بعد اس دنیا کی تجدی اور تطہیر کرے گا ۔ بعد ازاں آہورا مزد اور اہرمن کے مابین جنگ ہوگی ۔ جس میں اہرمن مع اپنے لشکر کے مغلوب ہوجائے گا ۔

زرتشتی قیامت اس کے بعد حساب و کتاب اور سزا و ثواب پر یقین رکھتے ہیں ۔ نیک شخصوں کے لیے کہا گیا ہے کہ وہ اور اس کے رفقا و مقلدین اس روز اٹھائے جائیں گے تاکہ ان کی زندگیوں کو ایسا جامہ بقا پہنایا جائے کہ نہ گھٹ سکے نہ خراب ہوسکے ، نہ بدل سکے ، ہمیشہ قائم رہے اور ہمیشہ مظبوط رہے ۔ جب مردے اٹھائے جائیں گے اور ہیشہ نئی باقی رہنے والی زندگی پائنگے اور بلا کسی خارجی وجود کے اپنی زندگی قائم رکھ سکیں گے ۔ وہ عالم ہے جہاں ہمیشہ ہمیشہ پاکیزگی کی حالت میں ہمیشہ قائم رہے گا ۔ اہرمن ان تمام مقامات سے ہمیشہ نکال دیا جائے گا ۔ جہاں سے وہ نیکوں پر حملہ کیا کرتا تھا ۔ اس کے تمام خبائث تباہ و برباد کریئے جائیں گے ۔ گاتھا میں ہے کہ لوگوں کو تلفین کی گئی ہے کہ جہاں وہ دیو پرستی چھوڑ دیں گے اور نیک اعمال کریں گے تو وہ ان کی آئندہ زندگی میں کام آئیں گے اور وہ ان کی مدد کریں گے اور بعد کی تصانیف میں اس عقیدے پر بہت زور دیا گیا ہے ۔

پہلی زندگی کو اکنوخرتو جس کے معنی عقل اصلی اور خیال واقعی کے ہیں ۔ دوسرے کو گوشوخر یا شنیدہ یعنی وہ باتیں سننے سے سمجھ میں نہیں آسکیں ۔ یعنی ایک زمین کے متعلق ہے اور دوسرا آسمان کے متعلق ۔ ایک کی دنیا عالم اجسام کی ہے اور دوسری عالم ارواح کی یا عام الفاظ میں دنیا و عقبیٰ کے ہیں ۔ گوشوخرتو تجربے سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا علم انسانی محسوسات سے گھٹتا ہے اور بڑھتا ہے ۔ لیکن اکنوخرتو یا مینو خرد محض ایقان ہے اور انسان کو ان اشیاء کے بارے میں ہوتا ہے جو گمان سے الخارج نہیں ہیں ۔    

گاتھا اور بہت سی تصانیف میں آئندہ زندگی کے بارے میں بتایا گیا ہے ۔ اس کی تفصیل بہت الجھی ہوئی ہے ۔ حیات بعد الموت کا عقیدہ ہر یزدان پرست کے لیے عین فرض قرار دیا گیا کہ مرنے کے بعد جو کچھ گزرتا ہے وہ زرتشت سے اہورا ہرمز نے بیان کیا ہے کہ مرنے کے بعد جب تیسری رات گزر جاتی ہے تو وہ روح طلوع آفتاب کے بعد بعد متہرا کے پاس پہنچتی ہے ۔ جس کے روشنی پہاڑوں پر چمکتی ہے ۔ وزایشو نام کا دیو اس کی روح کو خواہ وہ نیک ہو یا بد یا دیوؤں کے پوجنے والوں (ہندوؤں) کو لے جاتا ہے اور وہاں اس پل پر کھڑا کر دیتا ہے جہاں ارواح جمع ہوتی ہیں ۔ وہاں اس سے زندگی میں جو نیک و بد کام کیے ہیں اس کا حساب لیا جاتا ہے ۔ پھر شروش ایک کتا گناہگاروں کی روح کو اندھیرے (ذوزخ) کی طرف ہانک دیتا ہے ۔ نیک کاروں کی روح کو مقدس فرشتہ کوہ البز پر ملتا ہے ۔ وہاں سے اسے اس پل پر لیجاتا ہے جہاں ارواح جمع ہوتی ہیں ۔ پھر بہمن اپنے تخت پر سے اٹھ کر اس سے ملتا ہے اور کہتا ہے کہ فانی سے اس جہاں باقی میں تمہارا آنا مبارک ہو ۔ پھر نیکوں کی ارواح ہنسی خوشی اہورا ہرمزد کے پاس پھر وہاں سے قدسیوں کے گروہ میں پھر وہاں سے طلائی تخت پر پھر وہاں سے بہشت میں پہنچ جاتی ہے ۔ زرتشت نے روح کو غیر فانی بتایا ہے ۔

ذوزخ کا نام گاتھا میں درد جود یمانا آیا ہے اور اس کے معنی وہ مقام جو برباد ہوگیا ہے ۔ یہ مقام بدکاروں ، شاعروں اور دیو پرستوں کے رہنے کی جگہ ہے ۔

مرنے کے تین دن بعد روح کو ایک پل چنیوت اوستائی چنیوتو پرتو Chenivato Parto کے قریب لایا جاتا ہے ۔ جہاں تین یزدان اس کے من حثیت قاضی اس کے اعمال کا جائزہ لیتے ہیں ۔ یعنی ان کو ترازو میں تولتے ہیں ۔ پھر نیکی یا بدی کے مطابق اپنا فیصلہ صادر کرتے ہیں ۔ اس کے بعد اس پل سے گزرنے کا حکم دیا جاتا ہے ۔ اگر روح نیکو کار ہے تو پل چوڑا ہوجاتا ہے اور اس پل پر سے گزر بآسانی جنت میں داخل ہوجاتی ہے

ژند میں بہشت کو گرودیمانا کہا گیا ہے اور پہلوی میں گروتومان جس کے معنی تسبیح خانہ کے ہیں آیا ہے ۔ کیوں کہ یہاں رہنے والے تسبیح و تمجید یزدان کی کرتے رہتے ہیں اور اہورا اہرمزد اور دوسرے مقدس فرشتے یہیں رہتے ہیں ۔ بہشت اصل میں اہودہشت ہے اور تخریب و اختصار سے یہ کلمہ بہشت ہوگیا ہے  

جنت و جہنم کے علاوہ ایک مقام اور ہے جس کو شتگان کہتے ہیں ۔ یہاں ایسے لوگوں کی روحیں رہتی ہیں ۔ جن کی برائیاں اور نیکیاں مساوی ہوتی ہیں اور قیامت تک انہیں انتظار کرنے کا حکم ہوتا ہے ۔  

زرتشتی مذہب میں عناصر کا پاک رکھنے کا حکم ہے ۔ اس لیے زرتشتی لاشوں کو جلانے یا دفن کرنے کے بجائے ایک سنسان یا اونچے دخموں (مینار ہائے خاموشی) پر کھلا چھوڑ دیا جائے تاکہ گدھ اور شکاری پرندے ان کو کھاجائیں اور ہڈیاں وہیں ایک کنوئیں میں ڈال دیتے ہیں ۔ کیوں کہ لاش کو دفن کرنے یا جلانے سے عناصر کو ناپاک کرنا قطعاً ممنوع ہے ۔ ساسانی دور میں جب زرتشتی مذہب سلطنت کا باضابطہ مذہب بن گیا تھا تو اس کی اس قدر پابندی کی جاتی تھی کہ دوسرے مذہب کے لوگوں کو بھی لاشیں دفن نہ کرنے پر اذیت ناک طریقوں سے موت کی سزا دی جاتی تھی ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں