92

زرتشتی مذہب میں کتے کی اہمیت

زرتشتی مذہبی روایات میں ایک کتا کنوت پل کی نگرانی کرتا ہے جس پر سے گزر کر نیک لوگ جنت جاتے ہیں تو یہ کتا بھونک کر ان کی رہنمائی کرتا ہے تو ان کا خوف و خدشہ ختم ہوجاتا کہ وہ درست راستہ پر ہیں ۔ اس کی سانسیں برائیوں کو دھمکیاں دیتی ہیں اور وہ کوئی بھی ایسی چیز یا انسان یا جانور جو اہورا سے وابستہ نہیں ہو اسے اس پل سے گزرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے اور اس کی مہلک سانسیں اسے جہنم میں گرادیتی ہیں ۔ چاروں آنکھوں والے کتے تین بار ، چھ بار یا نو بار اس راستے سے گزرتے ہیں ۔ جب کہ پجاری اپنے منتروں سے کتے کو برائی کو دیکھنے اور خوفزدہ کرنے میں مدد دیتے ہیں ۔

ٍ آہورائی فرسانو frasnô قانون میں ناپاکی انسان کے اندر داخل ہونے کای ذریعہ موت ہے اور جب کوئی مرتا ہے تو ناپاک نسو یا لاشوں کی ناپاکی جہنم سے ٹوٹ پڑتی ہے اور اس کے بعد جس نے بھی لاش کو چھوا وہ اور وہ جس کو چھوتا ہے وہ بھی ناپاک ہوجاتا ہے ۔ اس ناپاکی کو ساگداد کے ذریعہ مردہ سے نکالا جاتا ہے ۔ ایک چار آنکھوں والا کتا یا ایک پیلا کانوں والا سفید مردے کے قریب لایا جاتا ہے اور اسے دیکھتے ہی ناپاکی واپس جہنم کی طرف بھاگ جاتی ہے ۔
پارسی چار آنکھوں والے کتوں کی عجیب وغریب تاویل کرتے ہیں اور وہ ایک ایسا کتا جس کی آنکھوں کے اوپر دو دھبے ہوں ۔ لیکن یہ بات واضح ہے چار آنکھوں والے کتے یا سفید رنگ کے کتے جس کے پیلے رنگ کے کتے جس کے کان سفید ہوں ناپاکی دور کرتے ہیں ۔ قدیم داستانوں کے کتے موت کے فرشتوں کو بھگا دیتے تھے ۔ یونانی دیومالا کے تین سر والے کربیروز Kerberos کتے جو جہنم کے دروازوں کی نگرانی کرتے اور یما کے دو بھورے چار آنکھوں والے کتے جو موت کے راستوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔ پارسیوں کے چار آنکھوں والے کربیروز کتے اور یما کے کتوں اسی قبیل کے ہیں ۔ پارسی روایت میں پیلا کان والا کتا دیکھتا ہے اور عملی طور پر وہ اہم نہیں ہیں ۔ سگداد چرواہے کا کتا ، گھر کا کتا اور ووہنازاگا کتے سے بھی انجام دیا جاتا ہے ۔ جیسے پرندوں کا شکار کتے کے ذریعہ کیا جاتا ہے ۔ اس طرح کتے ناسو کو مارتے ہیں اور جس کے پاس کتا نہ ہو وہ کوئی کتے سے کام لے سکتا ہے ۔
اوستا میں ہے کتے ہیں زمینی علاقوں کی نگرانی کرتے ہیں اور کچھ کتے چودہ آسمانی علاقوں پر نگاہ رکھتے ہیں ۔ پیلے رنگ کے کان والے کتے کی پیدائش کو روایتوں میں اس طرح بیان کیا گیا ہے ۔ اہوا مزدا پہلے آدمی گیمارٹ Gayômart کی لاش کو اہریمن کے حملے سے بچانا چاہتا تھے ۔ جس نے اسے چھیننے کی کوشش کی ۔ اہورا چیخ اٹھا ، اے پیلی کانوں والے کتے اُٹھ ! اور براہ راست کتے نے بھونکا اور اس نے اپنے دونوں کان ہلا دیئے اور ناپاک شیطان اور دیواؤں نے جب پیلے کان والے کتے کی خوفناک شکل دیکھی اور اس کی بھونکنے کی آواز سنی تو وہ بہت ڈر گئے اور جہنم میں بھاگ گئے ۔ آج بھی جب گلیوں کے کتے جب سنسان راتوں میں کسی کو دیکھ کر یا عادت کے مطابق بھوکتے تو ان کی آواز سن کر اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ شیطان کو بھونک کر بھگا رہا یہ بھی اسی خیال کی بازگشت ہے ۔
وینداد میں کسی انسان کو مارنے پر سزا کسی کتے کے کتے کے ساتھ برا سلوک کرنے کی زیادہ ہے ۔ مثلاً چرواہے کے کتے کو برا کھانا پیش کرنے سے کہیں زیادہ کسی آدمی کو مارنا زیادہ محفوظ ہے ۔ کیونکہ قاتلانہ جرم نوے دھاریوں تک جاتا ہے ۔ جب کہ برا مالک ایک بار پیشتیتو پر ہوتا ہے اور اسے دو سو پٹیاں جرمانا ہوگا ۔ آوارہ کتے کو مارنے پر چھ سو ۔ گھریلو کتے کے لئے سات سو ۔ ایک چرواہے کے کتے کے لئے آٹھ سو ۔ آبی کتے کو مارنے کے لئے ایک ہزار پٹیاں ۔
ہم سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں آیا کسی چرواہے کے کتے کے قتل کو واقعتا آٹھ سو دھاریوں کی سزا دی جا سکتی تھی ۔ اس سے بھی زیادہ کہ آبی کتے کے قتل پر واقعی دس ہزار پٹیوں سے سزا دی جا سکتی تھی ۔ کتے کی لاش کی دو کو نظر انداز کردیتا ہے تو چار سو ۔ اگر کوئی اس کے چھاتی کی ہڈی کو پھینک دیتا ہے تو چھ سو ۔ اگر کوئی کھوپڑی پھینک دیتا ہے تو ایک ہزار ۔ اگر پوری لاش پھینک دے یا اگر کوئی ناپاک حالت میں ہو تو چار سو دھاری ۔ کتے کی لاش پانی یا درختوں کو چھوتی ہے تو چار سو ۔ آوارہ کتے کو مارنے پر چھ سو ۔ گھریلو کتے کے لئے سات سو ۔ ایک چرواہے کے کتے کے لئے آٹھ سو ۔ آبی کتے کو مارنے کے لئے ایک ہزار پٹیاں ۔ سزائے موت صریحا صرف جھوٹے صاف کرنے والے اور تنہا اٹھانے کے خلاف سنایا جاتا ہے ۔
تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں