79

زرتشتی مذہب پر تبصرہ

مذہب اور اخلاق کا گہرا تعلق ہے اور زرتشت نے توحید کا تصور بہت دھندلا پیش کیا تھا دو متعضاد منازل نور و ظلمات کی حقیقتوں کو بیان کرکے اور آخرت کا خوف دلا کر لوگوں کو خیر کی طرف بڑھنے کی ہدایات کی تھی ۔ نور و ظلمت اور ان کی متعضاد رہاہیں بیان کی گئیں ہیں ۔ یہ لوگ خدا کا وجود ، عالم جبروت کی عظمت ، عالم ملکوت کی وسعت ، جنت ذوزخ ، پل صراط حشر و نشر ، سوال جواب ، خدا سے ملاقات ، دیدار خداوندی سے انکار اور عالم کا قدیم یا حادث ہونا اس طرح کی متعضاد باتیں بھی ان کے مذہب میں پائی جاتی ہیں ۔ اس نے ان کے مذہب میں الجھنیں پیدا کردیں ۔

جس کے اثرات زرتشتی مذہب پر اثرات پڑے ہیں ۔ لیکن اس سے زیادہ تباہ کن اور دور رس اثرات اس راستہ سے اسلام میں داخل ہوئے ۔ کیوں کہ ان خیالات اور عقائد کے حامل لوگوں نے جب مذہب اسلام کو قبول کیا تو اپنے خیالات و عقائد کو مذہب میں داخل کردیا اور نئے نئے تصورات و عقائد کو اسلام میں داخل کردیا ۔ اس سے مذہب اسلام میں بحث و تمض کا ایک ایسا درواز کھولا جس نے اسلام کے عقائد پر بھی بہت گہرا اثر ڈالا اور ان عقائد کی وجہ سے عبادات میں بھی تبدیلیاں واقع ہوئیں ۔ اس کا اظہار علامہ اقبال نے اپنے خطبات نے بھی کیا ہے ۔ اور ان کے عقائد اور خیالات کے زیر اثر اسلام میں بھی بہت سے فرقے بھی پیدا ہوئے ۔        

کوئی بھی مذہب جس معاشرے میں جنم لیتا ہے وہاں کے اصولوں اور عام خیال سے سے ہٹ کر پیدا نہیں ہوسکتا اور جہاں بھی وہ پھیلتا ہے وہاں کے خیالات و عقائد کا اس میں دخل ہوجاتا ہے ۔ ہم دیکھتے برصغیر میں جتنے مذہب پیدا ہوئے وہ سب مکتی کے گرد گھومتے ہیں ۔ بدھ مت جس میں خالق کا تصور ہی نہیں تھا اور بعد میں اسے خالق مان لیا گیا اور جہاں گیا اس نے وہاں کے دیوتاؤں کو اپنے اندر قبول کرکے وہاں کے لوگوں کے لیے قابل قبول بنادیا ۔ ایران میں قدیم زمانے میں جس مذہب نے جنم لیا وہ سب کے سب دو خدائوں یعنی خدائے شر اور خیر کے گرد گھومتے تھے ۔ اسلام کو جب ایرانیوں نے قبول کیا تو ان کے خیالات اور عقائد مسلمانوں میں پیوست ہوگئے ۔ جس نے اسلام کے بنیادی تصور کو مکمل طور پر متاثر کیا ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں