52

زرتشتی مذہب کاایک جائزہ

ہم زرتشت کو ثنویت کے پیغمبر کی حثیت سے جانتے ہیں ۔ لیکن حقیقت میں مسلمانوں کی آمد تک زرتشتی ثنویتی مذہب نہیں تھا ۔ بلکہ اس مذہب میں قابل پرستش خداؤں کی بہتات ہے اور زرتشت نے کوئی نیا مذہب پیش نہیں کیا تھا بلکہ قدیم مذہب کی تجدید اور اصلاحات کیں تھیں اور زرتشت کے بعد بھی اس مذہب میں یہ ارتقاء جاری رہا ۔ اب جو زرتشتی مذہب ہمارے سامنے ہے اس کی تکمیل نویں صدی عیسوی تک ہوچکی تھی ۔ تاہم اگر ہم دبستان مذہب کی مانیں تو پندرویں صدی تک ان کے عقائد میں ارتقاء جاری رہا ۔ لہذا اس کتاب میں زرتشت کی سوانع کے ساتھ روایتی انداز میں زرتشتی مذہب پیش کرنے کے بجائے اس کے ارتقاء کی مکمل روائداد پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ جو عہد قدیم سے اس مذہب میں جاری رہا ہے ۔

قدیم زمانے میں اگرچہ ہیروڈوٹس اور زینوفن نے زرتشت کا ذکر نہیں کیا تھا ۔ مگر ایک دنیا اس کے سحر میں مبتلا تھی اور اس کو ایک مذہب کے بانی کے علاوہ ایک عظیم فلسفی اور دانشور سمجھا جاتا تھا ۔ فیثاغورث ، افلاطون ، سقراط ، ارسطو ، ڈینئن ، یوڈاکسس اور تھیوہامپس جیسے لوگ بھی آتش پرستوں کی شاگردی پر فخر کرتے تھے ۔ افلاطون و ارسطو کے شاگرد پانٹکس نے اپنی تصانیف میں زرتشت کے بہت سے حوالے دیے ہیں ۔ ارسطو کے ایک ہم عصر پراڈیکس کے پیروؤں کے متعلق کہا جاتا کہ وہ فخر کرتے تھے کہ زرتشت کی تصانیف ان کے پاس ہیں ۔ یونانی فلسفی ہرمیپس نے زرتشتی عالموں سے بہت کچھ فائدہ اٹھایا ۔ پلوٹارک ، سٹریبو اور سوڈاس وغیرہ نے بھی زرتشت کے حوالے دیے ہیں ۔ قدیم یونانی کتابوں میں زرتشت کے اکثر اقوال ملتے ہیں اور ان کی بہت سی روایات جو دخشور (پیغمبر) زرتشتت کے نسبت سے مشہور تھیں ۔ یعنی قدیم یونانی اور رومی اس کے ثنا خواں تھے ۔

مغرب میں جب علمی تحقیقات کا آغا کے وقت وہ بھی زرتشت کے سحر میں مبتلا تھے ۔ ان کا گمان تھا کہ دین زرتشت کی مذہبی کتاب  اوستا علم و دانش کا ایک عظیم مرقع ہوگی اور اس میں زرتشت کے شخصیت اور فلسفہ کے بہت سے راز پنہاں ہوں گے ۔ جس کو قدیم زمانے میں بیلوں کی بارہ ہزار کھالوں پر لکھا گیا تھا اور ویسٹ نے نے حساب لگایا تھا کہ اس کے الفاظوں کی تعدادد ۳۴۷۰۰۰ ہوگی ۔ اس سے پہلے زرتشت کے بارے میں جو کچھ مواد عربی کتابوں سے ملا تھا اور بعد کی پہلوی کتابیں جس میں دین کرت اور بند ہشن میں اوستا کے گمشدہ نسکوں کے عنوانات کی تفصیلات ملیں اس کی وسعت دیکھ کر مغربی محققین عشق عشق کر اٹھے ۔ پھر انہیں دساتیر اور دبستان مذہب جیسی کتابوں میں قدیم ایرانی پیغمبروں اور بادشاہوں کا حوال ملا تو ان کا گمان تھا کہ ایران کا مذہب قدیم اور وہاں ایک عظیم سلطنت ہزاروں سال پہلے قائم ہوچکی تھی اور اور اس کے بہت سے راز اوستا میں پہنا ہیں اس لیے اس کی تلاش شروع ہوئی ۔     

اٹھارویں صدی کے وسط تک اوستا کے کچھ منتشر اوراق لندن پہنچ چکے تھے ۔ مگر اس وقت تک ماہرین کے لیے اوستا کی زبان ایک معمہ تھی جو ابھی تک پڑھی نہیں جاسکی تھی ۔ ایک بیس سالہ آکتیل فرانسیسی نوجوان جو لندن کی سیر کو آیا تھا اس نے ان اوراق کو دیکھ کر عہد کیا کہ وہ اوستا کی مکمل کتاب کو تلاش کرکے اس زبان کو سیکھ کر اوستا کا ترجمہ کرے گا ۔ یہ نوجوان وسائل نہ ہونے کی وجہ سے فوج میں سپاہی بھرتی ہوکر ہندوستان پہنچ گیا ۔ نو سال کی جدو جہد کے بعد اوستا کے دو نسخے اور کئی دوسری کتابوں حاصل کرنے میں کامیاب ہوا اور اوستا زبان بھی سیکھی ۔ آکتیل انہیںلے کر واپس پیرس پہنچا اور نو سال کی شب و روز دماغ سوزی کے بعد ۱۷۶۲ء؁ اوستا اور دوسری کتب کے ترجموں کو تین جلدوں پیش کیا ۔ آج جو کچھ بھی زرتشتی مذہب کے بارے میں ادبی ، لسانی ، قومی اور فلسفیانہ انکشاف مغرب میں ہوئے ہیں ان سب کا ماخذ آکٹیل کا یہ ترجمہ ہے ۔

اہل علم و حکماء میں زرتشت کی قدر و منزلت اس کے عمیق فلسفیانہ خیالات کی وجہ سے بہت زیادہ بلند تھی ۔ قدیم یونان و روم جن توست سے وہ زرتشت سے واقف ہوئے تھے وہ زرتشت کا ثنا خواں تھا ۔ لہذا انہیں امید تھی کہ اوستا عقل و دانش کا ایک عظیم مرقع ہوگی ۔ مگر انہیں آکتیل کا ترجمہ دیکھ کر انہیں سخت مایوسی ہوئی ۔ اس میں طفلیانہ خرافات ، خشک اعتقادات ، تھکا دینے والے مکررات اور مضحکہ خیز احکام کا ایک لا حاصل انبار تھا جو ان کے وہم و گمان سے بالا تھا ۔ لہذا انہوں نے اسے اوستا کا ترجمہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا ۔ سر ولیم جونز نے آکتیل پر الزام لگایا گیا کہ اس نے جعل سازی کرکے زرتشت کی شخصیت کو مجروع کیا ہے ۔ مگر جلد ہی اس کے ترجمہ کے درست ہونے تصدیق بہت سے لوگوں نے کی اور جب دستاسی نے آکیتل کی لغت کی مدد سے قدیم ہخامنشی اور ساسانی کتبے پڑھے گئے تو اس کے مستند ہونے کی تصدیق ہوگئی ۔   

اوستا کے ترجمہ ، مطالعہ اور قدیم ایرانی آثار کی تحقیق کے بعد اور بھی بہت سے سوالات کھڑے ہوگئے کہ کیا زرتشت کوئی حقیقی شخصیت تھی یا نہیں ؟ اوستا کو کیا واقعی مسلمانوں نے برباد کیا ہے ؟ جیسا کہ پہلوی اور فارسی کتابوں میں الزام لگایا جاتا ہے ۔ بہت سے لوگوں نے زرتشت کی شخصیت سے انکار کیا اور اس سے بھی انکار کیا کہ اوستا کو مسلمانوں نے اوستا تلف کیا اور بلکہ خود زرتشتیوں پر اوستا کو تلف کرنے کا الزام لگایا ۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا حقیقت میں اوستا کوئی کتاب تھی نہیں اسے پارسیوں نے اپنے کو اہل کتاب ثابت کرنے کے لیے اسے آٹھویں صدی میں تصنیف کی تھی اور یہ بحث اب بھی جاری ہے ۔

مغرب میں زرتشیت پر جو تحقیق ہوئی ہے اس سے ہم لوگ واقف نہیں ہیں ۔ کیوں کہ ہم جو کچھ زرتشت اور زرتشتی مذہب کے بارے میں جانتے ہیں وہ فارسی کتابوں سے ہمارے علم میں آیا ہے ۔ جس میں شاہنامہ زیادہ اہم ہے اور پارسیوں سے حاصل ہوئی کچھ معلومات جس کے مطابق زرتشت ایک پیغمبر تھا اور اس کو ماننے والے آگ کی پوجا کرتے ہیں اور زرتشتیت ایک ثنوی مذہب ہے اور یہی کچھ زرتشتی مذہب کے بارے اردو کی کتابوں میں پیش کیا جاتا ہے وہ اس سے زیادہ نہیں ہے ۔

لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ قدیم زرتشتی بہت سے خداؤں کو مانتے تھے اور اس مذہب میں ہندوؤں کے دیوتاؤں کی طرح خداؤں کی کمی نہیں تھی ۔ یہ عہد قدیم میں بھی بہت سے خداؤں کو پوجتے تھے اور اہرمن کا نام اوستا میں ضرور ملتا ہے ۔ لیکن گاتھا میں یہ تصور بہت مبہم ہے اور ساسانی عہد میں زرتشتی خداؤں کی فہرست میں وہ ہمیں نظر نہیں آتا ہے ۔ کیوں کہ اہرمن بدی کا خدا مانا جاتا تھا ۔ اہرمن کے تصور کو تقویت زروانیت اور عرفانیت سے ملی ۔ مگر اس کو ترقی مانی اور مزوک مذہب کی وجہ سے ہوئی ۔ جنہوں نے اپنے خیالات کے ذریعے اہرمن کو درست معنوں میں اہورا کا مد مقابل بنا دیا ۔ گو ان مذہبوں کو پارسیوں نے مٹا دیا مگر ساسانیوں کے ذوال کے بعد اہرمن کے تصور کو مکمل طور تسلیم کرکے زرتشتی مذہب کی تنظم نو ثنویت (دو خداؤں) پر کی گئی اور وہ اب ہمارے سامنے ہے اور وہ موجودہ زرتشتی مذہب  صورت میں آئی ۔   جس میں سے اناہیتا اہورا مزدا کی بیٹی اور متھرا یعنی سورج کی پوجا متروک ہوچکی تھی ۔ جن کی اوستا میں جگہ جگہ ثنا ہے  ۔

ہم اردو داں جو کچھ زرتشتی مذہب کے بارے میں جانتے ہیں ۔ وہ شاہنامہ اور دوسری فارسی کتابیں ہیں ۔ یہ کتابیں زرتشیوں نے نہیں لکھی تھیں اور اردو میں زرتشت پر صرف ایک کتاب زرتشت نامہ لکھی گئی ۔ جو سید ممتاز علی نے لکھی اور ۱۹۰۴ء میں شائع ہوئی تھی اور دوبارہ حال ہی میں شائع ہوئی ہے ۔ یہ کتاب اگرچہ پرانے انداز اور روایتی تصورات کے مطابق لکھی گئی تھی ۔ مگر یہ کتاب ان معلومات سے بہتر ہے جو کہ اردو میں دوسری کتب میں زرتشتی مذہب کے بارے میں ملتی ہیں ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں