48

زرتشتی مذہب کےعقائد اور احکام

دور جدید میں زرتشتی مذہب کے ارکان میں اہورا کی ہستی کو ماننا ، دو خداؤں کا قائل ہونا ، زرتشت کو پیغمبر برحق ماننا ، آگ کی تعظیم کرنا ، جزا و سزا اور قیامت کا قائل ہونا ۔ اس علاوہ پیدائش کے وقت کچھ مراسم ادا کرنا ، کرانی یا کستی باندھنا ، نکاح کرنا ، زنا ، لواطت اور چوری سے پرہیز ، غیر آزار جانوروں کو نہ ستانا ، موزی جانوروں کو مارنا وغیرہ شامل ہیں ۔ زرتشت نے بہت سی قدیم رسوم کو قائم رکھا تھا ۔ مگر موجودہ دور میں پارسی ان میں سے بہت سی رسوم اور رواجات کو ترک کرچکے ہیں ۔ جن میں محرمات سے شادی ، متھرا اور اناہیتا کی پوجا اور زروان وغیرہ زرتشتی مذہب سے اب غائب ہوچکے ہیں ۔

اخلاقی تعلیمات میں زرتشت کے پندرار نیک ، گن نیک اور طہارت و پاک دامنی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے ۔ سود خوری منع اور جھوٹ و وعدہ خلافی سخت گناہ قرار دیا ہے ، کسب معاش پر زور دیا ہے اور کاشتکاری کو بہترین پیشہ قرار دیا ہے ۔ تجرد کی زندگی سے نفرت اور تاہل کی زندگی کو پسند کیا گیا ہے ۔ سخاوت و امداد سلوک کا بہترین اعمال میں شمار کیا جاتا ہے ۔

انسان کو چاہیے کہ دنیا میں رہے اور اپنے ہم جنسوں کے ساتھ مل جل کر زندگی گزارے ۔ دوسروں کے ساتھ مل کر ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھائے اور زندگی کی مشقتوں کا مردانہ وار مقابلہ کرے ۔ متاہل زندگی گزارے اور اولاد پیدا کرے ، آبادی میں اضافہ کرے ۔ اس لیے آتش پرستوں میں ایک سے زیادہ شادی کرنے کا رواج عام تھا ۔ تاہم اب یہ ایک ہی شادی کرتے ہیں ۔

زرتشت نے اپنے پیروں کو تلفین کی ہے کہ آہورا مزد کے احکام کی پیروی کرتے ہوئے حیوانات کی پرورش کرو ۔ بے آباد زمینیں آباد کرو ۔ کھیتوں کی آبیاری کے لیے پانی فراہم کرو اور زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرو ۔ جو شخص کھیتی باڑی کرتا ہے وہ مذہبی فریضہ ادا کرتا ہے ۔ اس طرح ملک کی خوشحالی میں اضافہ کرکے اہورا مزد کی مدد کرتا ہے ۔ اس خدمت کے صلے میں آہورا مزد اس کی روح اور جسم کو غذا پہنچاتا ہے ۔ جو شخص زمین مین بیج بوتا ہے اور کھیتی اگاتا ہے وہ اس شخص سے ہزاروں درجہ بہتر ہے جو محض ہر روز ہزار مرتبہ مناجاتیں پڑھتا ہے اور گائے ، بیل اور کتے کی بڑی اہمیت ہے ۔ بیل کھیتی کے کام آتا ہے اور گائے بچھڑے کو جنم دیتی ہے ۔ کتا لوگوں کے ہاتھ سے لے کر روٹی کھاتا ہے لیکن اس کا حق ادا کرتا ہے ۔ رکھوالی کرتا ہے ، لوگ سوتے ہیں اور وہ جاگتا ہے ، اس کی آواز سے ہر شخص جاگ اٹھتا ہے نہ چور گھر میں چوری کرسکتا ہے نہ بھیڑیا ریوڑ میں گھس کر بھیڑ بکری لے جاسکتا ہے ۔ مرغ مفید پرندہ ہے ، یہ انسانوں کو صبح کی خبر دیتا ہے ۔ گھر وہی اچھا ہے جہاں بیل ہوں ، جہاں کے مرد کھیتی باڑی کرتے ہوں ، عورتیں اور بچے ہوں اور کتا ہو ۔

زرتشت نے معاشرے کو استحکام بخشنے کی غرض سے زراعت و جانوروں کی پروخت کی طرف لوگوں کو متوجہ کیا تھا اور تاہل کی زندگی کو پسند و سراہا تھا ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ آدمی جو ایک بیوی رکھتا ہے اس آدمی سے حد درجہ بہتر ہے جو تجرد کی زندگی بسر کرتا ہے ۔ وہ آدمی جو ایک مکان رکھتا ہے اس آدمی سے ہزار رہا درجہ بہتر ہے جو مکان نہیں رکھتا ہے ۔ جو آدمی بال و بچے رکھتا ہے اس آدمی سے ہزار درجہ بہتر ہے جو لاولد ہے ۔ جو آدمی دولت رکھتا ہے وہ اس آدمی سے حد درجہ بہتر ہے جو دولت نہیں رکھتا ہے ۔ اس طرح زرتشت نے تجرد سے بیزاریت کا اظہار کرکے کنفیوشس کی طرح گھرانے کی بنیادوں کو مستحکم اور اس کی ہیت اور وقار کو قائم رکھنے کے لیے کسب معاش اور حصول دولت کی طرف لوگوں کو مائل کیا تھا ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں