58

زرتشتی معاشرے کی تنزلی

بازنتنی فلسفی جو ملکی حکمرانوں سے اختلاف رائے کی وجہ سے ایران میں آجاتے تھے ۔ لیکن وہ جلد ہی ایران معاشرے سے دل برداشتہ ہوجاتے تھے ۔ وہ اتنے بلند پایہ فلسفی نہیں ہوتے تھے کہ ایک غیر قوم کی عادات اور رسوم کو غیر جانبدانہ دیکھیں اور جن باتوں کو وہ ایک فلسفی بادشاہ اور سلطنت میں دیکھنے کے خواہاں تھے وہ انہیں نظر نہیں آتے تھے اور نہ ہی انہیں قوموں اور رسوم کا مطالعہ کا ذوق تھا کہ بغور ان کا مطالع کرتے ۔ انہیں ایرانیوں کی بعض رسوم رواج مثلاً تزویح محرمات ، لاشوں کو دخموں میں کھلا چھوڑنا ، ذات پات کی تمیز اور سوسائٹی کے مختلف طبقوں کے درمیان ناقابل غبور فاصلہ ، نچلے طبقوں کی شدید خستہ حالی ، طاقت وروں کا کمزوروں کو دبانا اور ظلم و بے رحمی کا سلوک وغیرہ شامل ہیں پسند نہیں آتے تھے اور بدل ہوجاتے تھے ۔

ساسانیوں کے زمانے جب کا ان کا عروج اس کے باوجود معاشرے میں تنزلی جاری تھی اور اس کا نقشہ ایرانی دانشور بزویہ کھنچا ہے اور اس نے بزویہ کلیہ دمنہ کو تالیف کی تو اس میں درج کیا ہے ۔ اس کا عربی ترجمہ ابن المقطع کیا تھا اور اس کی سوانعمری کو ابن ۱لمقطع مقدمہ قرار دیا تھا اس میں کچھ ایسا نقشہ کھنچا ہے ۔

ہمارا زمانہ جو کہن سال اور از کار رفتہ ہوچکا ہے ۔ اگرچہ ایک روشن پہلو رکھتا ہے ۔ تاہم حقیقت میں وہ بہت تاریک ہے ، اگرچہ خدا نے بادشاہ کو اقبال مندی اور کامیابی بخشی ہے اور بادشاہ خود بھی مآل اندیش ، توانا ، عالی ہمت ، متجس ، عادل ، رحمدل ، فیاض ، صداقت پسند ، دانا ، ذی فہم ، فرض شناس ، جفاکش ، عاقل ، امداد کرنے والا ، حلیم طبع ، معقول پسند ، مہربان ، ہمدر ، واقف کار ، علم دوست ، نیکی اور نیکوں کو پسند کرنے والا ، ظالموں پر سختی کرنے والا ، بے خوف ، اٹل ارادے والا ، رعایا کی مرادوں کو برلانے والا اور اس کی تکلیف کو دور کرنے والا ہے ۔ لیکن اس کے باوجود ہمارا زمانہ ہر پہلو سے روبہ تنزل ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں نے صداقت سے ہاتھ اٹھالیا ہے ۔ جو چیز مفید ہے وہ موجود نہیں ہے اور جو موجود ہے وہ مضر ہے ۔ جو چہز اچھی ہے وہ مرجھائی ہوئی ہے اور جو بری ہے وہ سرسبز ہے ، دروغ گوئی کو فروغ ہے اور نیکی بے رونق ہے ، علم پستی کے درجے میں ہے اور بے عقلی بلند ہے ، بدی کا بول بالا ہے اور شرافت نفس پامال ہے ، محبت متروک ہے اور نفرت مقبول ہے ، فیض و کرم کا دروازہ نیکوں پر بند ہے اور شریروں پر کھلا ہے ، غداری بیدار ہے اور وفا خوابیدہ ہے ، دروغ مثمر ہے اور راستی بے ثمر ہے ، حق مغلوب ہے باطل غالب ہے ، حکام کا فرض صرف عیاشی کرنا اور قانون کو توڑنا ہے ، مظلوم اپنی تذلیل پر قانع ہے اور ظالم کو اپنے پر فخر ہے ، حرص اپنا منہ کھولے ہوئے ہے اور دور و نذدیک کی ہر چیز کو نگل رہی ہے ، قناعت ناپید ہے شریروں کا سر عرش پر ہے اور نیک قصر مذلت میں ہیں ۔ شرافت قلب بلندی سے پستی میں آگری ہے اور ونائت کو عزت و طاقت نصیب ہے ، تسلط لائقوں سے نالائقوں کی طرف منتقل ہوگیا ہے ، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دنیا مسرت کے نشے میں یہ کہہ رہی ہے کہ میں نے نیکی کو مقفل اور بدی کو رہا کردیا ہے ۔

 زرتشتی مذہب زہد و رہبانیت کا سخت مخالف ہے ۔ ایرانیوں میں مہمانوازی اور حوصلہ مندی تھی ۔ اگرچہ اسلام کی مانند ان میں جمہوریت سرایت کرگئی ۔ جس کی وجہ سے امراء کا طبقہ رفتہ رفتہ نچلے طبقوں میں فنا ہوگیا اور اس کی امتیازی خصوصیات مٹ گئیں ۔ ایرانیوں پر تسلط ان کی سیاسی اور مذہبی روایات پر مبنی تھا ۔ جس کی تشکیل عرصہ دراز تک طبقہ امراء اور علماء مذہب کے ہاتھوں عمل میں آتی رہی ۔ خلافت عباسیہ کے ذوال کے بعد سرزمین ایران میں جو نئی سلطنتیں قائم ہوئی ان میں بھی قدیم ایرانی روح جلوگر ہوتی رہی ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں