34

زرتشت کابچپن

دیوؤں اور جادوگروں کو زرتشت کے پیدا ہوتے ہی اپنی موت نظر آنے لگے ۔ اس لیے وہ بچے کی موت کی تجویزیں سوچنے لگے اور اس کے لیے انہوں نے طرح طرح کوششیں کیں ۔ لیکن انہیں ہر دفعہ ناکامی ہوئی اور وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئے ۔ البتہ کیغ اور کرپ اپنی سازشوں سے باز نہیں آئے ۔ چنانچہ تورانی کرپ ، دوراسروپ (دوران سروں یا دور شیریں) اور ایک اور بدنیت رفیق تور پراتروکریش ( براترخس برتروس ، پوران تروش ، براترویشن تورانی) ہمیشہ زرتشت کی موت کے لیے سرگرام رہے اور آخر الذکر براترویشن کو زرتشت کا قاتل بتایا جاتا ہے اور اس شخص کا نام اکثر پہلوی میں برائی کی مثال کے طور پر لیا جاتا ہے ۔ دوراسروپ سے بھی زرتشت کو بہت تکلیفیں پہنچیں تھیں ۔ لیکن یزدان کی حمایت نے ہر بار اس بچے کو بچا رکھا ۔ ورنہ اس ظالم شخص نے سر توڑنے اور گلا گھوٹنے یعنی قتل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی ۔ آخر غیرت ایزدی حرکت میں آئی اور ظالم کے اس ہاتھ کو خشک و بے جان کر دیے ۔ مگر پھر بھی وہ اپنی ریشہ دوانیوں سے باز نہیں آیا اور مسلسل کوشش کرتا رہا ۔ اس نے ہی پوروشسپ کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ یہ لڑکا آسیب زدہ ہے اور اس نے علاج کے بہانے زرتشت کو مارنے کی کوشش کیں ۔ چنانچہ اس نے چار موقعوں پر باپ کی رضا سے زرتشت کی جان لینے کوشش کی ۔ ایک مرتبہ تو اس نے اس معصوم کو زندہ جلا ہی ڈالا لیکن تائید ایزدی سے بچ نکلا ۔ دوسری مرتبہ بیلوں کے راستے میں ڈال دیا گیا کہ بچہ کچل جائے ۔ لیکن ایک بڑا بیل زرتشت کے اوپر حفاظت کے لیے آ کھڑا ہوا اور اس معصوم کو دوسرے بیلوں کے کچلے جانے سے محفوظ رکھا ۔ اس طرح ایک مرتبہ گھوڑوں کے ذریعے بھی اسے ماڑ ڈالنا چاہا ۔ ایک دفعہ بھیڑیوں کے بچے کو مار کر اس بچے کو ان کے بھٹ میں ڈال دیا تاکہ وہ غصہ میں بھڑک جائیں اور بچے کو مار ڈالیں ۔ لیکن بھیڑیوں نے بچے کو نقصان پہنچانے کے بجائے ایک مادہ بھیڑے نے اس بچے کو اپنا دودھ پلایا ۔

آخر پوروشسپ کو یقین ہوگیا ہے کہ یہی بچہ ہے جس کہ بارے میں دیو اور جادوگروں کی بربادی اور تباہیوں کی پیشن گوئیاں ہوچکی ہیں ۔ لہذا سات برس کی عمر میں ایک ذی علم ہوش مند برزین کروس نام کے معلم کے سپرد کردیا ۔ اس معلم نے اس ہونہار بچے کو دیکھ خود ہی تعلیم دینے کی خواہش ظاہر کی تھی ۔ مگر یہ معلوم نہیں ہوتا ہے کہ زرتشت نے کس قسم کی تعلیم حاصل کی تھی ۔

اس زمانے میں دیو پرستی کا زور تھا اور زندہ بار (بے آزار جانوروں) کو مارنے میں کوئی حرج نہیں سمجھا جاتا تھا ۔ بد اخلاقیاں ، کذب و دغا ، عہد شکنی اور ناپاکی عام تھی ۔ دوراسروپ اور براتروکریش برابر اپنی کوششوں میں لگے ہوئے تھے کہ کسی طرح زرتشت کو جان سے مار دیا جائے ۔ انہوں نے لڑکے کو زہر دینے کی تجویزیں کیں مگر ناکامی ہوئے ۔ انہوں نے چاہا کہ جادو کے زور سے اس کے ذہن کو پراگندہ ، اچاٹ اور علم کے رجحان سے بدل کر دیا جائے مگر ناکام رہے ۔ دور اسروپ کو اس کی سزا ملی اور وہ نہایت عبرت ناک موت مرا ۔

جب زرتشت پندرہ برس کی عمر کو پہنچے تو ان کی کستی یا زنار بندی کی رسم ادا کی گئی تاکہ وہ جادو کے اثر سے محفوظ رہیں ۔ کہا جاتا ہے اس وقت بھائیوں نے باپ سے اپنا حصہ مانگا اور انہیں بھی حصہ میں ایک پٹکا ملا تو انہوں نے اسے اپنی کمر سے باندھ لیا ۔ چنانچہ پارسی زنار کے بجائے پٹکا کمر میں باندھتے ہیں ۔     

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں