36

زرتشت کاعہد شباب

پندرہ سے تیس سال تک کی عمر کی زیادہ تفصیلات نہیں ملتی ہیں ۔ روایتوں کے مطابق وہ اپنا وقت عبادت میں گزارتے اور انسانوں اور جانوروں خدمت و مدد کرتے تھے ۔ اس زمانے میں قحط پڑا تو زرتشت انسانوں اور جانوروں کی مدد کرتے اور بہت سے بوڑھوں کو کھانا کھلاتے اور اپنے باپ کے گھر سے چارا لا کر بھوکے جانوروں کو کھلاتے تھے ۔ اس طرح کے بہت سے واقعات زات سپارم میں درج کیے گئے ہیں ۔

زرتشت کی عمر جب بیس سال ہوئی تو انہوں نے گھر کو چھوڑ کر سفر پر نکل پڑے اور گاؤں گاؤں اور جنگل جنگل پھرتے رہے ۔ ایک مرتبہ چند آدمیوں سے پوجھا کہ سب سے زیادہ حق کا متلاشی اور سب سے زیادہ بھوکوں کا پیٹ بھرنے والا تم نے کس کو پایا ۔ انہوں نے ایک اورویتودہ تورانی کے سب سے چھوٹے بیٹے کا نام لیا ۔ زرتشت اس کے پاس پہنچے اور اس کے نیک کاموں میں اس کا ہاتھ بتایا ۔ ایک مرتبہ انہوں نے راہ ایک کتیا کو دیکھا جو بھوکوں مر رہی تھی اس کے پلے اس کے گرد بیٹھے اسے مرتا دیکھ رہے ۔ زرتشت دوڑتے ہوئے گئے اور کہیں سے روٹی ڈھونڈ کر لائے مگر اس سے پہلے کتیا دم توڑ چکی تھی ۔

والدین کو ان کی شادی کی فکر ہوئی تو انہوں نے شرط لگائی کہ وہ اپنی منسوبہ کو دیکھ کر شادی کریں گے ۔ اس کے بعد کی تفصیل نہیں ملتی ہے ۔ ایک دفعہ ایک مجموعے میں انہوں نے لوگوں سے سوال کیا وہ کون سے افعال ہیں کہ جن سے روح کو فائدہ پہنچے ۔ لوگوں نے جواب دیا کہ بھوکوں کھانا کھلانا ، جانوروں کو چارہ دینا ، آتشکدے کے لیے لکڑیاں لانا ، پانی میں ہوم ملانا اور دیوؤں کو پوجنا ۔ زرتشت نے پہلی چار باتوں کی تائید کی اور آخر فعل کو ناپسند کیا ۔

ایک یونانی کے بقول زرتشت سات سال تک کامل چپ ساد رکھی اور بقول پور فیرس کے زرتشت مدتوں ایک پہاڑ کی کھو میں رہے ۔ یہاں انہوں نے اپنے ہاتھ سے کچھ تصویریں بنائیں تھیں ۔ اوستا میں اس میدان اور پہاڑ کا ذکر ہے جس کو تجلیات یزداں کی مقدس آگ روشن کیے رکھتی تھی جہاں زردشت ہرمز سے ہمکلام ہوئے لیکن اس پہاڑ کا نام نہیں لکھا ہے ۔ قزدینی اس کو کوہ سیلان بتایا ہے اور ایک یورپین  نے اے اردبیل کے قریب کا پہاڑ بتاتے ہیں ۔ ہیروڈوٹس نے بھی ایک پہاڑ کا ذکر کیا ہے جہاں مجوسیوں کا معبد تھا ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری
زرتشت کاخاندان
بندہ ہشن کے مطابق زرتشت نے تین شادیاں کیں تھیں اور یہ تینوں زرتشت کی موت کے بعد بھی زندہ رہیں اور ان کی بھی اولادیں زندہ تھیں ۔ زرتشت کی پہلی دو بیویوں کے نام نہیں ملتے ہیں لیکن اتنا معلوم ہے کہ پہلی بیوی سے ایک لڑکا اور تین لڑکیاں ہوئی تھیں اور ان کے نام اوستا میں آئے ہیں ۔ ان میں ایک لڑکی پوست جاماسپ سے بیاہی تھی ۔ دوسری بیوی کے لڑکے کا نام استو ستو بتایا جاتا ہے جو موبد تھا اور اپنے دو چھوٹے حقیقی بھائیوں کا سرپرست بھی تھا ۔ ان کے نام اروتاتنر اور داریسترا تھے ۔ اروتاتنر نے زراعت کا پیشہ اختیار کرلیا تھا اور داریسترا نے سپاہ گیری کا اور دونوں اپنے حلقہ میں شہرت رکھتے تھے ۔
تیسری بیوی کا نام دودی (ہوی) تھا اور یہ فرشوشتر کی بیٹی اور جاماسپ کی بھتیجی تھی اور اس سے کوئی اولاد نہیں تھی ۔ مگر پارسیوں کا عقیدہ ہے کہ اس سے تین لڑکے پیدا ہوں گے اور ان کے نام اوکہش تیریتر ، اوکہش یتنام اور ساوشنت ہوں گے ۔ یہ آخر زمانے میں پارسیوں کے کفر و الحاد کو رفع کرے گی ۔ قیامت کے دن جب لوگوں کو زندہ کیا جائے گا تو یہی لڑکے ان میں جان ڈالیں گے ان کی زندگی میں جو کارہائے انجام دیے ہیں ان کا حساب کتاب کریں گے ۔ ان میں سب سے بڑا شوش ہوگا یہ تینوں یا ان میں سے ایک ایسا شخص پیدا ہوگا اور یہ قیامت تک قائم زندہ رہیں گے ۔ یہ تینوں یا ان میں سے ایک اہرمن کے زور کو توڑے گا اور زرتشت کے مذہب کو دوبارہ زندہ کرے گا جو کہ آخری زمانے کو بہت گھٹ جائے گا ۔ یہ زرتشت کے صلبی بیٹے ہوں گے اور ان میں سے ہر ایک پر اوستا کا ایک ایک نسک نازل ہوگا ۔
تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں