45

زرتشت کانام

زرتشت کے نام میں بہت اختلاف ہے ۔ اوستا میں زرتشترہ آیا ہے لیکن مختلف زبانوں کے اختلاف نے اس کے تلفظ کی مختلف شکلیں ہوگئیں ہیں ۔ مثلاً لاطینی میں زوروایسٹریس ، یونانی زورو آسٹرس کے علاوہ مختلف مصنفین نے اس کی مختلف شکلیں لکھی ہیں ۔ مثلاً زروادوس ، زراوس ، زردوآوٹرس اور زاراٹوس وغیرہ آئے ہیں ۔ آرمینا کا ایک مصنف زرویسٹ اور دوسرے مصنف زڈراودٹس تیسرا زراڈشٹ اور انگریز زواراسٹر کہتے ہیں ۔ عربوں نے پہلوی صورت کو ہی مختلف ہجوں میں لکھا ہے ۔ پہلوی میں عموماً زرتست لکھتے ہیں ۔ فارسی میں یہ زرتست ، زردشت ، زردست ، زردہشت ، زراتست ، زرادست زرتھست ، زرادھست اور زرہست لکھا جاتا ہے ۔ ایسی صورت میں وہی نام درست سمجھنا چاہیے جو کہ اوستا میں آیا ہے یعنی زوثوشترہ ۔

ہجوں کے ساتھ ساتھ اس لفظ کے معنوں میں بہت اختلاف ہے اور اکثر مصنفین نے اس نام کو مرکب سمجھا ہے ۔ لیکن اس میں سخت قباحت ہے زوثوشترہ کے کوئی معنی نہیں پیدا ہوتے ہیں ۔ اس پر تمام محقیقن کا اس پر اس پر اتفاق ہے کہ یہ نام دو الفاظ کا مرکب ہے ۔ زرث زاشترہ ، اشترہ وہی اشتر ہے جس کہ معنی اونٹ کے ہیں ۔ مگر ژرث اوستائی زبان میں بے معنی ہے ۔ اس کے آخری حصہ کو اشتر (اونٹ) کا اشتر کا مخفف اس لیے اس کو زدث پڑھا گیا ہے ۔ پھر بھی باقی اشکال باہی اشکال باقی رہتی ہیں ۔ کیوں کہ یہ لفظ بھی بے معنی ہے ۔ ایسی صورت میں بعض محقیقن زرث کو جرات کی سابقہ شکل قرار دیا گیا ہے ۔ بعض نے زیئریتہ Zairita بمعنی زر سے مشق مانا ہے ۔ جرمن محقق دارمستنرDarmastater نے پہلے جزو کو زراتو سمجھا ہے ۔ جس کہ معنی سونے کی طرح چمکدار کے ہیں ۔ زرت اشتر کے معنی ظاہر کرتے ہیں زریں اونٹ والے کے یا بہادر اونٹ والے کے ہیں ۔ چوپایوں کی نسبت ایرانی قدیم میں نام عام ملتے ہیں ۔ خود زرتشت کے خسر کا نام فراششتر (فرشتر) یعنی تیز رو اونٹ کا مالک ، اس طرح زرتشت کے باپ کا نام پورشسب (پوروش۔اسپ) دو رنگ والے گھوڑے کا مالک تھا اور یہ کوئی عجیب نام نہیں ہے قدیم ایرانیوں کے ناموں اسپ اور خر وغیرہ استعمال ہوتے تھے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں