41

زرتشت کاوطن

زرتشت کی جائے پیدائیش میں بھی سخت اختلاف ہے اور یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ ان کی جائے پیدائش اور مذہب کو پھیلنے کا مقام ایک ہی ہے یا الگ الگ ؟ یعنی میڈیا یا آذر بئیجان ہے یا باختر ؟ کیوں کہ اکثر روایات میں باخترکو مولد بتایا ہے اور طبری اور ابن کثیر نے ان کی جائے پیدائش فلسطین بتایا ہے ۔ اس سوال کا جواب پروفیسر جیکسن نے دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ روایتوں کے مطابق زرتشت کا ننہال راغہ (رے) میں تھا ایسی صورت میں ان کا دودھودیال بھی آذربائجان میں ہوگا ۔ جو کہ ایران کے مغرب میں واقع ہے اور خود زرتشت بھی وہیں پیدا ہوا ہوگا اگرچہ اس کے مذہب کی اشاعت بلخ میں ہوئی ہے ۔ بہت سے مسلم مورخین اور جدید محققین بھی اس کی جائے پیدائش اردمیہ آذربئیجان میں بتاتے ہیں ۔ دوسری اہم بات یہ ہے گاتھا اور ایران قدیم کی زبان میں بہت فرق ہے لسانیات کی رو سے اتنا زیادہ فرق قلیل عرصہ میں نہیں ہوسکتا ہے ۔ یعنی دونوں الگ الگ علاقوں کی زبانیں ہیں ۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ گشتاسب کا دارلسلطنت زرتشت کے وطن سے مشرق جانب کوسوں دور آذربائیجان میں واقع تھا ۔ یعنی گاتھا آذربیئجان کی زبان تھی جو کہ زرتشت کا مولد اور وطن تھا ۔

ڈار مشٹیٹر کا کہنا ہے کہ باختر نے دین زرتشتی گشتاسپ نے قبول کیا تھا اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ زرتشتیوں نے وہاں بڑی محنت و جدوجہد کی تھی ۔ ایران و توران کا قدرتی محاذ باختر ہے اور یہاں میدان کارز گرم ہوتا ہوگا ۔ تورانی بت پرست تھے اور ایرانی اہرمزد پرست اور ان دونوں میں خونریزیاں ہو رہی تھیں تو ضرور حامیان ملت زرتشت کے ذہنوں میں باختر کی کی یاد موجود ہوں گیں اور جن کی برکتوں کو لے کر باختر پہنچتے ۔ جہاں اہورا مزد کے پوجنے والے دیو پرستوں کے مقابلے میں جانبازیں دیکھا رہے تھے ۔ پس یہ قصے کے سرزمین باختر میں زرتشت اس سرے سے اس سرے تک پیدل گیا اور وہیں زرتشت اس کا شکار ہوا ۔ غالباً اس کامیابی کی تاریخی کڑیاں ہیں جو زرتشت کو مشرق میں ہوئی ۔ ان قصوں میں کوئی نشان ایسا نہیں ملتا جو باختر کو زرتشت کا جنم بھوم اور اس کے مذہب کا گہوارہ ثابت کر دے ۔ پارسیوں کی روایتیں بار بار پکارتی ہیں کہ ہمارے پیغمبر اور اس کے آئین کا مولد و منشا مشرق اور باختر نہ تھا بلکہ آذربائیجان تھا اور نہ صرف خود اوستا بھی اسے تسلیم کرتی ہے ۔

خیال ے کہ اوستا میں جو مقامات درج ہیں وہ صرف میں مشرق میں واقع ہیں غلط ہیں ۔ مشرق کے علاوہ شمالی اور مغربی بلاد کا بھی اس میں ذکر ہے ۔ ویندیداد کے پہلے باب میں ایران کے پہلے حصوں کے نام آئے ہیں ان سے مصنفین ویندیداد واقف تھے ۔ پہلا نام ایران ویج جس کے کناروں سے دائیتہ جی ٹکراتی تھی اور ایران ویج آذر بائیجان کی سرحد پر دائیتہ نام کی وہی ندی ہے جس کا دوسرا نام ارکسیز (قزل ارباق) ہے ۔ اس طرح اوستا شمالی ایران سے بھی واقف ہے ۔ کیوں کہ جو اس میں رے گا ہے وہ یونانیوں کی زبان پر ائے گائے بنا اور آج کل رے کہلاتا ہے ۔ یہ خطہ میڈیا میں بیان کیا گیا ہے اگرچہ اس بارے میں اختلاف ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں