30

زرتشت کا عہد

زرتشت کے سال و وفات میں بھی سخت اختلاف ہے ۔ زرتشتی اپنے پیغمبر کا دور بارہ ہزار سال پہلے بتاتے ہیں ۔ کسی نے چھ ہزار سال ، کسی نے دو ہزار سال مسیح بتایا ہے ۔ ایک پہلوی کتاب ارداؤراف کے مطابق زرتشت کا زمانہ سکندر سے تین سو سال پہلے کا ہے ۔ اس کتاب میں لکھا ہے کہ مقدس زرتشت نے اپنے مذہب کو جو اسے خدا کی طرف سے دیا گیا تھا دنیا میں پھیلا دیا ۔ یہ مذہب تین سو برس تک نہایت صاف و خالص رہا اور لوگوں کے اس میں شکوک نہ پڑے ۔ لیکن اس کے بعد اہرمن نے لوگوں کو درغلایا اور اس نے مذہب میں شکوک ڈالنے کے لیے سکندر رومی کو اٹھایا ۔ جس نے جنگ کے بہانے ایران کو بے رحمی کے ساتھ تباہ کر دیا ۔ زات سپارم کتاب میں بھی تین سو برس تک اس مذہب کا بلا مزاحمت رہنا بیان کرتا ہے ۔ بندہ ہشن کتاب میں بھی کم و بیش یہی عرصہ بیان ہوتا ہے ۔ البیرونی بھی ۲۸۸ سال بیان کرتا ہے ۔ مسعودی کی رائے بھی یہی ہے ۔ طبری بھی بہت حد تک اس سے متفق ہے ۔ دبستان مذہب کے مطابق کشمر خراسان کے مضافات میں ایک سرو کا درخت لگایا تھا ۔ عباسی خلیفہ المتوکل کے حکم اسے ۲۳۲ ہجری میں اکھاڑ دیا گیا ۔ اس درخت کو لگے ہوئے ۱۴۵۰ سال ہوئے تھے ۔ جو کہ کم و بیش یہی مدت ہے اور زمانہ حال کے اکثر علماء کی تحقیق کے مطابق ۶۶۰ ق م ان کی پیدائش میں ہوئی تھی ۔ ایسی صورت میں زرتشت کو 600 ق م تا 500 ق م کے درمیان متعین کرنا پڑے گا ۔ بقول اشپیگل کے زرتشت کا دور آشوری دور تھا یعنی ۱۰۰۰ ق م تھا اور اس کا اثر ہخامنشی کتبات و کندات میں صاف نظر آتا ہے اور یہ اثر ایرانی آئین ، مذہب ، روایات اور افسانوں میں نظر آتا ہے اور اسے آرین سے زیادہ سامی اثر قرار دینا صحت سے زیادہ قریب ہے ۔ عجیب بات ہے کہ ایران میں ہر دور میں سامی اثر ایران پر چھایا ہوا نظر آتا ہے ۔ 

آشوری بادشاہ ٹقلید بلاسر اول (1114 تا 1076 ق م) کا اٰٰیک کتبہ ملا ہے جس میں آریائی فرمانرواؤں کے نام لکھے ہوئے ہیں ۔ ان میں ایک نام گستاسپ بھی ہے ۔ ایسی صورت میں زرتشت کا زمانہ 1200 ق م کے لگ بھگ ماننا پڑے گا اور غالباً یہی درست ہے اور اشپیگل کا کہنا یہی ہے کہ زرتشت کا دور آشوری دور تھا یعنی ۱۰۰۰ ق م تھا ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں