28

زرتشت کی دربار میں بازیابی

زرتشتی روایات میں گشتاسپ کو ایک نیک دل بادشا بتایا گیا ہے ۔ مگر گشتاسپ کے مصاحب اور اس کے اراکین سلطنت کا ہر فرد نہایت سنگدل ، لامذہب ، بدخیال ، توہمات کا پیرو ، خیالات فاسد کا متتع اور جادوگر تھا ۔ انہوں نے گشتاسپ کو اپنے قابل بیٹے اسفندیار سے بیزار کر دیا تھا اور اسے مع اس کے بیٹوں کے رستم جیسے گرگ کہن کے مقابلہ کے لیے بھیجوا دیا ۔ جہاں وہ اپنے بیٹوں سمیت مارا گیا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ زرتشت کے پرانے دشمن کیغ ، زاگ اور کرپ کو بھی یہاں بتایا جاتا ہے ۔ یہ وہ اشخاص ہیں جن نے پہلے بھی زرتشت تکلیفیں پہنچیں اور یہاں بھی وہ زرتشت کو تکلیف پہنچانے کوشش کرتے رہے ۔ دین کرت میں زاک کے متعلق کئی قصے درج کیے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زرتشت کو کیغ اور کرپ کے اقتدار کی اطلاع مل گئی تھی اور وہ اہورا ہرمزد کے حکم کی وجہ سے گشاسپ کے پاس بھڑوں کے چھتہ گھسنا پڑا ۔

ایک پہلوی مصنف نے لکھا ہے کہ زرتشت کو گشتاسپ سے ملنے کے لیے قصر رفیع گئے تھے ۔ وہاں انہوں نے ایک پرزور تقریر کے ذریعے اپنے مذہب کو گشتاسپ اور اراکین سلطنت کے سامنے پیش کیا ۔ ان لوگوں کے مختلف شبہات رفع کرنے کی کوشش کی ، معجزات دیکھائے  اور فرشتوں کو ان کے سامنے لاکھڑا کیا ۔

 دین کرت کے مطابق زرتشت سب سے پہلے اسپ آخور میں شاہ گشتاسپ سے ملے ۔ یہ غالباً کوئی اصطبل یا میدان تھا جہاں گھوڑے رہتے تھے ۔ زرتشت نے گشتاسپ کے سامنے ہرمزد کی حمد کے بعد اس کے سامنے اپنا مذہب پیش کیا ۔ گشتاسب نے نہایت خاموشی سے ان کی تقریر سنی ابھی زرتشت کی تقریر ختم نہیں کی تھی کہ زاک ، کرپ اور کیغ نے اس کے خلاف کہہ سن کر زرتشت کو قید کرا دیا ۔

زرتشتی روایات کے مطابق زرتشت دروازے سے گشتاسپ کے دربار میں داخل نہیں ہوئے بلکہ چھت پھٹی اور وہ ہاتھ میں آگ لیے اترے اور انہوں نے وہ آگ گشتاسپ کو دی ۔ مگر گشتاسپ کو اس آگ کی حرارت محسوس نہیں ہوئی ۔ پھر کچھ لوگوں نے زرتشت کو لٹا کر ان کے سینے پر پگھلی ہوئی کانسی ڈالدی مگر انہیں کچھ تکلیف نہیں پہنچی ۔ زرتشت کے ان معجزوں نے دربار میں آگ برپا کردی اور بہت سے درباری علماء مناظرہ کے لیے تیار ہوگئے اور تینتس سوالات زرتشت کے سامنے پیش کیے گئے اور زرتشت کو ان کے جوابات دینے تھے ۔ بقول دین کرت کے یہ مناظرہ تین دن تک جاری رہا ۔ مخالفین راتوں کو غور و فکرتے ، آپس میں مشورہ کرتے اور کتابیں دیکھتے اور صبح کو مناظرہ شروع ہوجاتا ۔ عقلی و نقلی کوئی ایسا مضامین ایسا نہیں تھا جس کے بارے میں زرتشت سے بحث نہ کی گئی ہو ۔ مگر انہوں نے اپنے دلائل اور جوابات سے مخالفین کو لاچار کردیا ۔

یہ کیا سوالات تھے اور ان کے جوابات کیا تھے اس بارے میں اوستا یا زرتشی کتب میں کوئی تفصیل درج نہیں ملتی ہے ۔ لیکن اس مناظرے سے زرتشت کے لیے گشتاسب کے دل میں کچھ جگہ پیدا ہوئی اور اس نے زرتشت سے ان کا نام نسب اور وطن وغیرہ کا پوچھا ۔ زرتشت نے موقع جان کر بادشاہ سے عرض کیا کہ کل روز ہرمز یعنی غرہ ماہ ہے اور تمام سپاہ و حکمائے سلطنت کو جمع کیا جائے کہ میں انہیں مطعین کردوں گا اور اگر کسی کے دل میں کچھ شبہات باقی رہ گئے ہوں تو میں موقع پر رفع کردوں گا ۔ چونکہ تین دن کے متواتر مباحثوں نے دھاک بیٹھا دی تھی اس لیے کسی کو چون و چرا کی جرت نہیں ہوئی ۔ زرتشت بادشاہ کی طرف متوجہ ہوئے اور اسے ہرمزد اور اہرمن کا فرق بتایا اور دونوں کی تقلید کا نتیجہ بتایا ۔ لیکن گشتاسپ کی تسلی نہیں ہوئی اور کوئی معجزہ طلب کیا ۔ زرتشت نے فوراً اوستا بغل میں سے نکل کر دیکھائی کہ اس سے بڑا کوئی معجزا نہیں ہوسکتا ہے اور اس کے مقابلے میں دیو و جادو کا ٹہرنا ناممکن ہے ، اس میں علم نجوم اور ہر چیز جو طلب کی جائے گی ملے گی اور کچھ اقتسابات پڑھ کر سنائے ۔ لیکن بادشاہ کو تسلی نہیں ہوئی اور بادشاہ نے زرتشت کو ایک مکان میں ٹہرایا ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں