40

زرتشت کی پیدائش

زرتشتی روایات کے مطابق زرشت کی پیدائش سے تین ہزار سال پہلے اس کی پیشن گوئی ہوچکی تھی اور گاتھا میں ہے جمشید نے اہرمن کو زرتشت کے پیدا ہونے کی دھمکی دی تھی ۔ تین سو سال پہلے کیکاؤس کے بیل قوت گویائی کچھ دیر کے لیے ملی اور اس نے زرتشت کے پیدا ہونے کی پیشن گوئی کی تھی ۔

زرتشت کا جلال ایزدی بادشاہوں کی پشت سے منتقل ہوتے ہوتے مقدسین کے گروہ تک پہنچا اور تاج عنصری کے سر پر رکھ دیا گیا اور قرزین رام (فرشتہ پاسدارمردم) رکاب سعادت میں دے دیا گیا ۔ عالم قدس کی ان تین ودیعتوں سے اس ہیولا کی ترکیب ہوئی جو آگے بڑھ کر ایران میں آفتاب بن کر چمکا اور زرتشت کہلایا ۔

وارینہ (جلال) ازل سے ہرمزد کے زیر نظر تھا اور ایک خاص وقت کا انتظار تھا کہ اس وقت آسمان اول پر اتارا گیا اور وہاں سے زمین پر اس خاندان میں پہنچا جہاں زرتشت کی والدہ پیدا ہونے والی تھی اور رحم مادر سے لے کر اس وقت تک کہ زرتشت کا وجود ہست و بود میں آیا ۔ اس مخدومہ عصمت کے اندر یا اس کے ساتھ رہا ۔ بچپن ہی تھا کہ تجلیات یزادنی کے ورود پہم سے اس لڑکی جس کا نام دغداؤ تھا کے گرد ہر وقت ایک نوری ہالہ رہنے لگا ۔ یہ اہرمن بھلا اسے کب دیکھ سکتا تھا اس نے باپ کے دل میں بیٹی کے آسیب زدہ ہونے کا خیال بٹھایا اور اس کو شادی کے بہانہ ٹال دینے پر آمادہ کیا ۔ آخر پندرہ برس کی عمر میں اس کے خاندان نے آذربائجان کے علاقہ اراک کا رخ کیا اور بیٹی کو پوروشسپ سے بیاہ کر عہدہ برآ ہوگیا ۔ اہرمن کی ریشہ دوانیاں یزدان کی مصلحتوں کا بھلا کیا مقابلہ کرسکتی ہیں ۔ اس نے اس تقدس کی دیوی کو مصیبت میں ڈالنے کی تذبیز کی تھی اور اس کو اس خاندان تک پہنچانے کی تقدیر یزداں نے کی تھی جہاں سے آخر اس کا ظہور ہونے والا تھا ۔

آخر یہ انتظام ہوا کہ دو فرشتگان مقرب یعنی بہنام (بہمن) یا خرونختیں اور مشام یا خرد دویمی آسمان سے فرزیں رام کو لے کر اترے اور پہلے انہیں ان پرندوں کے گھونسلے میں چھوڑ گئے جن کے بچے ایک سانپ کھا جایا کرتا تھا ۔ فرزیں رام نے ان کے بچوں کو بچایا اور سانپ کو مار ڈالا اور مدتوں ان کمزور جانوروں کی حفاظت کی ۔ پوروشسپ اور دغداؤ کی شادی ہونے کے بعد اصلی مقصد کے لیے فرزیں رام  دونوں فرشتگان مقرب نے اتر کر اس کو بشکل عصا اسپنتمان کے سبزہ زار میں پوروشسپ کے حوالے کیا اور جب اس کی بیوی کا وضع حمل کا زمانہ قریب آیا تو خرداد و مرداد نام کے دو فرشتوں نے اس گوہر یا جسم عنصری کو دودھ اور پانی کی شکل میں بدل کر دونوں میاں بیوی کو پلا دیا ۔ اہرمن نے امکانی کوشش کی کہ اس کا ایک قطرہ بھی ان کے ہونٹوں تک نہ جانے پائے مگر اس کی ایک نہ چلی ۔ غرض اس تذبیز سے ہرمزد نے جلال و فرزیں رام گوہر کو باوجود اہرمن کی دراندازی کے بچے کو رحم مادر تک پینچا دیا ۔

اس طرح کے قصے شہر ستانی اور کیخسرو نے اپنی کتابوں دوہرایا ہے ۔ ایام حمل کے عجائبات قدرت و مشدہدات نذرت کو دین کرت ، زات سپارم اور زرتشت نامہ میں تفصیل سے لکھا ہے اور اسے ملل و الخل اور دبستان مذاہب میں بھی نقل کیا گیا ہے ۔

زرتشت کی پیدائش اور ایام رضاعت کے حالات سپند نسک میں درج ہیں جو اب گم ہوچکا ہے ۔ مگر اس کے خلاصہ مختلف پہلوی اور فارسی کتابوں میں ملتا ہے ۔ یہ دستور ہے کہ جب کسی مذہب کا بانی دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اس کی آمد کی اطلاع صدیوں پہلے ہی طرح طرح کے نشانیوں اور معجزوں سے ہوتی رہی ہے اور اوستا کے مطابق زرتشت کی پیدائش نے کائنات میں ایک غیرمعمولی جوش و انبساط پیدا کر دیا ۔ دریا ادائے مستانہ کے ساتھ پابوسی کے لیے بڑھے ، سبزہ نے اپنا فرش بچھادیا ، درخت استقبال کے لیے نیا پیراہن ملبوس کرکے جھومے جاتے تھے ۔ اہرمن نے زمین کے اندر چھپ کر پناہ لی اور کیوں نہیں ہوتا آج مولود ان کی دعاؤں کا نتیجہ تھا جو پوروشسپ نے اہورا مزد سے آدھی آدھی رات تک کھڑے اور بیٹھے کی تھیں ۔ آخر یہ وہی بچہ تھا جس کی پیشن گوئیاں ہزاروں سال بیشتر ہوچکی تھیں ۔ جس کی پیغمبری کی دھاک اہرمن پر صدیوں پہلے بیٹھ چکی تھی ۔ جسے اہورر ہرمزد نے خود اس کا انتخاب اپنے قائم مقام کے لیے کیا تھا ۔ جہاں یہ عالم اسفل میں جنم لینے والا تھا اس مکان کو ایک روشنی نے گھیرا ہوا تھا اور اس کے جنم لیتے ہی غیب سے خوشی کے نعروں کی آوازیں آئیں اور بچے نے پیدا ہوتے ہی رونے کے بجائے ایک قہقہ لگایا ۔  

حیرت کی بات زرتشت کی پیدائیش کے سلسلے میں زرتشت کے والد کے بجائے والدہ کے تقدس کا جس طرح زکر کیا گیا تھا اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ زرتشت کے خاندان مادری سلسلے سے چلتا تھا ۔ لیکن شجرہ نسب لکھتے ہوئے پدری سلسلے کو مد نظر رکھا گیا ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں