36

زرتشت کی پیغمبری

زردتشت کی عمر تیس سال ہوئی تو آپ پر فرشتہ دہومسل (بہمن) نازل ہوا جو اسے اہورا مزدہ کے حضور لے گیا اور انہیں نبوت عطا کی گئی ۔ اس سال کا نام زرتشیوں میں سال مذہب ہے ۔

اس حاضری کے بعد زرتشت عالم مثال میں پہنچتے ہی تعمیل ارشادات یزدانی پر کمر بستہ ہوگئے اور برابر دو برس تک کیغ اور کرپ لوگوں کو وعظ تلفین اور افہام و تفہیم کرتے رہے ۔ گاتھا میں انہیں صم و بکم سے تعبیر کیا گیا ہے یہ یہی وہ لوگ تھے جن کے لیے اوستا میں اکثر بدعائیں آئی ہیں ۔ گاتھا میں ہے کہ یہ کیغ اور کرپ متفق ہوکر ایک آدمی کی جان کے درپے ہوئے ۔ لیکن ان کا مذہب اور ان کی روح خود انہیں رولائیگی ۔ جب یہ لوگ محاسب حقیقی کے سامنے پہنچیں گیں تو وہ ہمیشہ ہمشہ کے لیے جھوٹ کے گھر (ذوزخ) میں جھونک دیئے جائیں گیں ۔ 

زرتشت تبلغ کے لیے مختلف آبادیوں لے گئے مگر ہر طرف ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا اور ایک شخص نے بھی ان کی آواز پر لبیک نہیں کہا ۔ اس کے بعد زرتشت اپنے مذہب کی تبلیغ کے لیے کوششیں کیں اور بہت سے سفر بھی کیے ۔ بقول طبری کے وہ آذربائیجان سے فارس اور پھر ہندوستان آئے اور وہاں کے راجاؤں کے سامنے اپنے مذہب پیش کیا اور وہاں سے چین و تاتار آئے ۔ مگر ان کے مذہب کو کسی نے بھی قبول نہیں کیا ۔ وہ دل شکستہ ہوکر فرغانہ آئے جہاں کا بادشاہ ان کے قتل پر آمادہ ہوگیا اور زرتشت بمشکل جان بچاکر بھاگے اور باختر پہنچے جہاں انہیں پھر قید کرلیا گیا ۔ 

پہلوی تحریروں کے مطابق تیس سال کی عمر ہونے کے بعد انہیں خطرات سے پناہ ملی تو وہ ایران کے سفر کی طرف مائل ہوئے اور چند مرد و زن اقربا کے ہمراہ ایران کے سفر کا ارادہ کیا ۔ راستے میں ایک بڑا دریا ملا لیکن ان کی برکت سے سب لوگوں نے دریا آسانی سے پار کرلیا ۔ ایک ماہ کی کھٹن سفر کے بعد وہ ماہ اسفندارند انیران کے روز یعنی عین جشن بہار میں ایران کی حدود میں داخل ہوئے ۔ یہیں ایک دریا کہ کنارے انہیں کشف ہوا ان کا ایک بھائی ایک بڑے قافلے کے ساتھ ان سے ملنے شمال کی طرف سے آرہا ہے ۔

غرض یہ مختصر قافلہ پنتالیس دن کے بعد آذربائیجان کے سرحدی دریا دایتیا کے ایک معاون دریا اوتاق کے کنارے پڑا ہوا تھا کہ ۱۵ اری بہشت ۳۱ جلوس کو پہلا مبارک موقع آیا کہ بہمن نے زرتشت کو ہرمزد کے سامنے لاکھڑا کر دیا ۔

موسم بہار کی صبح نور ظہور کا وقت تھا کہ ممدوح ہوم کا پانی لانے کے لیے ذرا سستانے کے لیے آدتاق کے کنارے کھڑے ہوئے تھے کہ دفعتاً ان کی نظر بہمن فرشتے پر پڑی کہ وہ ایک چھوٹا سا عصا لیے ہوئے ان کی طرف بڑھا چلا آرہا ہے اور تھوڑی ہی دیر میں قریب کے چشمہ یا معاون دریا ایتیا تک پہنچ گیا ۔ (بظاہر یہ دریا موجودہ قزل ازین یا اس کے کسی معاون کا نام تھا اور یہ دریا آذربائیجان میں بہتا ہوا دریائے سپید میں گرتا ہے اور ذرتشت نے چار مختلف موقوں پر اس دریا کو غبور کیا تھا اور اس کا الگ الگ ناموں ذکر کیا جاتا ہے) ۔ اس وقت فرشتہ شکل و لباس میں انسان معلوم ہوتا تھا مگر اس کا قد عام آدمی سے نو گناہ بڑا تھا ۔ زرتشت اس کو دیکھ کر کچھ دیر بیخود ہوگئے ۔ بہمن نے ان سے کپڑے اتارنے کو کہا ہے اور اسی عالم بیخودی میں ان کی روح کو نور مجسم ہرمزد کے سامنے مقدسین ملاء اعلیٰ کے گروہ یعنی اشسپندوں کے درمیان لے جا کر کھڑا کرتا ہے ۔ عجیب عالم تھا اور لطیف نور کہ مست شوق یا یوں کہیں ان کی روح وہیں ہرمزد اور ان ملائکہ مقربین کو سجدہ کرتی ہے اور متلاشیان حق کے گروہ میں جگہ پاتی ہے ۔ اس کے بعد آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور ہرمزد بے حجاب سامنے آبیٹھتا ہے اور اپنے انتخاب کردہ پیغمبر کو اپنے دین کی تعلیم و تلفین کرتا ہے ۔ عجیب نشانات دیکھائے جاتے ہیں ، معجزوں کی طاقت عطا کی جاتی ہے اور ان کے پیروان مذہب کی اولین و آخرین حالت ان کو آنکھوں سے دیکھا دی جاتی ہے ۔ یہ شرف حضوری دن میں تین دفعہ ہوا ۔

ہرمزد کی صفتوں کو امشاسپند کہا جاتا ہے اور خود اہورا ہرمزد ان سب کا حاکم و مالک ہے اور ان کا احترام ہزمزد کی طرح کیا جاتا ہے ۔ ان کے نام بہمن ، اروی بہشت ، شہر یور ، اسفندارند ، خورداد اور امرداد ہیں ۔ زات سپارم کے مطابق انہیں گاتوجن جو بحیرہ خزر جنوب میں واقع ہے ان چھ امشاسپند کی رویت حاصل ہوئی ۔

اس پہلی اور حاضری کے بعد چھ مرتبہ اور حاضری کا شرف حاصل ہوا ۔ مگر ہرمزد یا یزدان کے سامنے نہیں بلکہ چھ امشاسپندوں کے حضور ۔ ان چھ مقربین کی حاضری ہرمزد کی حاضری کے سات یا آٹھ برس کے اندر شرف حاصل ہوگیا ۔ 

اس دس برس کے دوران سخت مشقت و مجاہدے کا تھا ۔ اس عرصے میں ان کی روح نے دنیا سے باہر کی سیر کی اور خاصان خدا سے ملے اور ان سے فیض پایا اور ہر امشاسپند نے مختلف موقعوں پر ان سے مل کر یا ان کی سرزش کی اور ان کو فرائض و حکم بھی دیے ۔ جن میں جانداروں کی حمایت ، جانوروں کی حمایت ، آگ کی حفاظت ، سیارگان کی پرستش کے طریقے اور زمین اور معدنیات کے اسرار بتائے ۔ ان امشاسپندوں کی تفصیل کچھ اس طرح ہے ۔

بہمن کے سامنے حاضری ۔ یہ جانداروں کا رب النوع ہے اس کی طرف سے جانداروں اور کار آمد جانوروں کی حفاظت کی ذمہ ڈالی اور زات سپارم کے مطابق یہ زرتشت کو کوہ البرز پر حاصل ہوئی ۔   

اروہ بہشت کے سامنے حاضری ۔ یہ نور کا موکل ہے اس نے زرتشت پر آگ کی حفاظت فرض قرار دی ، چاہے وہ مقدس ہو یا عام استعمال کے لیے ۔ یہ حاضری گاتوجن یا لب دریا تاجان جو بحیرہ خزر کے جنوب میں واقع ہوئی ۔

شہریور کے سامنے حاضری ۔ یہ معدنیات کا موکل ہے اس نے انہیں معدنیات کے اسراد بتائے اور ان کی حفاظت فرض کی گئی ۔ یہ حاضری کہاں ہوئی یہ بتانا مشکل ہے پروفیسر جیکسن اسے بحیرہ خزر کے جنوب میں پہاڑوں کے قریب بتاتے ہیں ۔ زات سپارم میں میوان کا علاقہ سرا بتاتا ہے ۔

اسفندارند کے سامنے حاضری ۔ یہ زمین و آبادی ، میدان و نخلستان کا موکل ہے ۔ یہ حاضری کوہ اسنود پر ہوئی جہاں سے ایک چشمہ نکل کر دریا دایتیا میں گرتا ہے ۔ یہ مقام غالباً آذربائیجان میں تھا ۔

خورداد کے سامنے حاضری ۔ یہ سمندر اور دریاؤں کا موکل ہے اس نے پانی کی حفاظت کی تلفین دی ۔ زات سپارم کے مطابق کو اسنود پر نصیب ہوئی تھی ۔

امرداد کے سامنے حاضری ۔ یہ نباتات اور اناج کا موکل ہے ۔ زات سپارم کے مطابق یہ شرف دریج اور دایتیا کے کنارے آذربائیجان میں ہوئی ۔

اس کے علاوہ زرتشت کو مختلف الہامات اور واردات کا سلسلہ جاری رہا ۔ انہیں بہشت کی سیر کرائی گئی اور فرشتگان مقرب سے ملوایا گیا ۔ جب ہوم ان مجسم ہوکر ان کے سامنے آیا تو انہوں نے پہچان لیا ۔ اس طرح اوستا میں اور دوسری وارداتوں کا بھی ذکر آیا ۔ مثلاً رشی رنوہی کا ان سے گفتگو کرنا وغیرہ ۔

غرض زرتشت تیسویں سال میں پیغمبر کامل ہوگئے اور اس دس برس کے عرصے میں انہیں ہرمزد اور چھ امشاسپندوں کے سامنے حاضریاں ہوئیں ۔ قابل ذکر بات یہ یہ سب حاضریاں انہیں جاڑے کے موسم میں ہوئیں ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں