29

زرتشت

 زرتشت کے حالات زندگی تحقیقاً نہیں معلوم ہیں ۔ اس لیے زرتشت کے وجود سے ابتدا میں بہت سے محقیقن نے انکار کیا تھا ۔ ان کے نذدیک زرتشت ایک فرضی شخص تھا جس کے بارے اوستا میں لکھا ہے کہ ہندوستان اور یونان کے دیوتاؤں کی طرح انسانی روپ میں طوفان و باد کی طرح برق رفتار تھا ، رعد اس کی آواز تھی اور ہرمن اسے مارنے کے لیے زمین پر اتر آیا تھا اور پھر آسمان پر چڑھ گیا تھا ۔ 
خود زرتشت کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ کون تھا ؟ کہاں سے آیا تھا ؟ اور اس کا زمان کون سا ہے ؟ بعض نے اس کے تاریخی وجود سے بھی انکار کیا ہے ۔ بعض کو اس کی شخصیت اور وجود کو گاتھا میں دیکھتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں گاتھا خود اس کے احکام نہیں ہیں تو کم از کم اسے قریبی جانشینوں کے ہیں ۔ 
پروفیسر جیکسن نے زرتشت کے بارے میں جو نتائج اخذ کیے ہیں وہ یہ ہیں ۔ 
(۱) زرتشت ایک تاریخی انسان اور مجوسی فرقہ میں سے میڈی قوم کے فرد تھا ۔
(۲) ان کا زمانے حضرت مسیح سے تقریبا ساڑھے چھ سو سال پہلے کا اور اس وقت میڈیا کی سلطنت قائم تھی اور ہخامنشی سلطنت کا اس وقت وجود نہیں تھا ۔ زرتشت کی وفات ستتر سال کی عمر میں تقریباً ۵۸۳ ق م میں وفات کی تھی ۔ 
(۳) زرتشت کا مغربی ایران (آذربائیجان یا میڈیا) تھا ۔ لیکن انہیں کامیابی باختر میں ہوئی اور انہوں نے شاہ وشتاسپہ (گشتاسپ) کو اپنے حلقہ میں داخل کیا ۔  
(۴) گاتھا جس کو اوستا کو سب سے قدیم حصہ سمجھا جاتا ہے ان کی باختری تعلیم و تلفین کی اہم باتوں پر مشتمل ہے ۔
(۵) باختر سے ان کا مذہب بہ سرعت سے تمام ایران میں پھیل گیا اور بعد کے ہخامنشیوں کے عہد میں خطہ فارس میں بڑا زور پکڑ گیا تھا ۔ لیکن ٹھیک پتہ نہیں چلتا ہے کہ اس کا قدم فارس میں کب آیا اور وہاں کے مالکان تاج و تخت اور رعایا کو اپنا کلمہ گو کب بنایا ؟
بقول پروفیسر براؤن کے یہ استدلال ہر ایک محقق کے نذدیک مسلم نہیں ہے اور ان شہادتوں پر مشتمل ہیں جو فتوحات اسلامی کے بعد ملک میں پھیلی ہوئی تھیں اور ان کا ماخذ ساسانی روایات ہیں ۔  
ایک گروہ زرتشت کا دور وید کا دور بتاتا ہے اور اٹھارہ سو سے سے چھ ہزار قبل مسیح لے جاتا ہے ۔ دوسرا گروہ اس کے دور کا تعین پانسو مسیح لے جاتا ہے ۔ بعض اس کی جائے پیدائیش باختر اور بعض اس آذربائیجان بتاتے ہیں ۔ 
مذہبی کتابوں میں مختلف و شکوک و روایات اور لایعنی باتیں دخشور (پیغمبر) زرتشت کے نسبت سے مشہور ہیں ۔ صدیوں کے مذہبی افسانوں نے زرتشت پر گہرا پردہ ڈال دیا ہے اور ان افسانوں میں اس کی حقیقت کو تلاش کرنا آسان نہیں ہے ۔ اگرچہ ہیروڈوٹس اور زینوفن نے زرتشت کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ مگر زرتشت کے بارے میں نہایت طاقت ور شواہد ملتے ہیں ۔ یونان اور رومیوں نے زرتشت کو مجوسی اور بعض نے جادوگر کہا ہے ۔ عام طور پر یہ تسلیم کیا کہ زرتشت ایران کے پارسیوں پیغمبر تھا ۔ شامی و عربی مصنفین نے زرتشت کو آتش پرست پیغمبر لکھتے آئے ہیں ۔ اس طرح یونانیوں اور رومیوں نے زرتشتیوں کو ایک خاص فرقہ بتایا ہے ۔ فیثاغورث ، افلاطون ، سقراط ، ارسطو ، ڈینئن ، یوڈاکسس اور تھیوہامپس جیسے لوگ بھی آتش پرستوں کی شاگردی پر فخر کرتے تھے ۔ افلاطون و ارسطو کے شاگرد پانٹکس نے اپنی تصانیف میں زرتشت کے بہت سے حوالے دیے ہیں ۔ ارسطو کے ایک ہم عصر پراڈیکس کے پیروں کے متعلق کہا جاتا کہ ان کو فخر تھا کہ زرتشت کی تصانیف ان کے قبضہ میں تھیں ۔ یونانی فلسفی ہرمیپس نے زرتشتی عالموں سے بہت کچھ فائدہ اٹھایا ۔ پلوٹارک ، سٹریبو اور سوڈاس وغیرہ نے بھی زرتشت کے حوالے دیے ہیں ۔ قدیم یونانی کتابوں میں زرتشت کے اکثر اقوال ملتے ہیں ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زرتشت ایک حقیقی ہستی تھا ۔  

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں