38

زروانیت کے اثرات

مذہب زرتشت کی بنیادوں میں جدید خیالات داخل ہوئے جس وجہ سے زہد اور ترک دنیا کی طرف میلان جو زرتشت کے غیر مقلد قرقوں کا خاصہ تھا رفتہ رفتہ زرتشتیوں کے تصور میں داخل ہوتا گیا اور ان کے مذہب کے بنیاد کو کھوکھلا کرتا گیا ۔ اندرز اوشز میں ہم کو ذیل کی عبارت ملتی ہے جو مزدئیت کے اصلی عقیدے کے خلاف اور بظاہر مانویت کی تعلیم سے ماخوذ ہے ، روح باقی رہتی ہے لیکن جسم ہے جو دھوکا دیتا ہے ‘ ۔

زروانی عقائد جو ساسانیوں کے عہد میں مروج تھے اس زمانے میں جبر کا عقیدہ پید کرنے میں مدگار ثابت ہوئے ۔ جو کہ قدیم مزدایت کی روح کے لیے سم قاتل تھا ۔ خدائے قدیم زروان جو اہور مزد اور اہرمن کا باپ تھا نہ صرف زمان نامحدود کا نام تھا بلکہ تقدیر بھی وہی تھا ۔ کتاب دادستان مینوگ خرذ میں اس کا جابجا حوالہ دیا ہے کہ عقل آسمانی یا روح عقل ۔

کیوں کہ یہ فکر اس بات کا اعلان ہے کہ انسان خواہ کتنا ہی طاقت ور ذہین اور ذی علم کیوں نہ ہو تقدیر کا مقابلہ نہیں کرسکتا ۔ کیوں کہ تقدیر جب نیکی یا بدی کرنے پر آتی ہے تو عاقل عاجز رہ جاتا ہے اور ناکارہ میں کام کی اہلیت پیدا ہوجاتی ہے ، بزدل دلیر اور دلیر بزدل ہوجاتا ہے ۔ کاہل محنتی اور محنتی کاہل ہوجاتا ہے ۔ اگرچہ انسانی کوشش کو بالکل بیکار نہیں قرار دیا جاتا ہے کیوں کہ کہا جاتا ہے عقبیٰ میں عمل کو میزان عدل میں تولا جائے گا ۔

با ایں ہمہ اس کتاب میں انسانی کوشش کو بالکل بیکار نہیں قرار دیا گیا ۔ جیسا کہ یہ لکھا ہے کہ عقبیٰ میں کوشش کو میزان عمل میں تولا جائے گا ۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ عقیدہ جبر اپنی جگہ پر موجود ہے جو ضعیف الاعتقادی کا ذمہ دار ہے اور یہ نکتہ ایک کتاب سے واضح ہوتا ہے جس کا نام سکند گمانیگ وِزار (شکوک کو رفع کرنے والی) اور جو ساسانیوں کے زمانے کے بعد تصنیف ہوئی ۔ اس میں لکھا ہے کہ جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ خدا نہیں ہے اور اپنے آپ کو دہری کہتے ہیں اس بات کے قائل ہیں کہ کوئی مذہبی فرض انسان کے ذمے نہیں ہے اور کوئی نیک عمل اس پر واجب ہے ۔ لایعنی باتیں جو وہ بکثرت کرتے رہتے ہیں ان کی ایک مثال یہ ہے کہ ان کے نذدیک یہ دنیا اور وہ تمام تغیرات جو اس سے رونما ہوتے رہتے ہیں اور ترتیب اجسام اور وسائل عمل اور اشیاء کا باہمی ربط و تضاد وغیرہ یہ سب زمان نامحدود کے ارتقا کے نتیجے ہیں ۔ ان کا دعویٰ کہ نہ اچھے اعمال کے جزا ہے اور نہ برے اعمال کے لیے کوئی سزا ۔ بہشت ہے نہ ذوزخ اور نہ کوئی ایسی چیز ہے جو انسان کو اچھے یا بڑے کاموں پر مجبور کرسکے ۔ جتنی چیزیں دنیا میں ہیں سب مادی ہیں اور روح کا کوئی وجود نہیں ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں