51

زروانیت

اوستا کے باب گاتھا (یاسنا ۳۰۔۳) میں روح خیر اور رفع شر کے متعلق لکھا ہے کہ وہ دو ابتدائی روحیں جن کا نام امان اعلیٰ ہے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ زرتشت نے ایک قدیم تر اصل جوان کو دونوں روحوں کا باپ تسلیم کیا ہے ۔ لیکن اس نے اس باپ کا نام نہیں لیا ہے ۔ ارسطو کے ایک شاگرد یوڈیموس روڈیوس کی ایک روایت کے مطابق ہخامنشیوں کے زمانے میں خدائے اولین کی نوعیت کے بارے میں بہت اختلافات تھے ۔ بعض اس کو مکاں (اوستائی۔ تھواش) سمجھتے ہیں اور بعض اس کو زماں (اوستائی۔زرون ، پہلوی۔زُروان یا زروان) تصور کرتے تھے ۔ بالآخر زروانی کے عقیدے کو مان کر متھرا پرستوں نے بھی اسے اختیار کرلیا تھا ۔ کماژین کے بادشاہ انٹیوکس اول کے ایک کتبے میں زرون اکرن (زمان نامحدود) کو یونانی الفاظ کرونوس اپیروس میں ادا کیا گیا ہے ۔ مانی پیغمبر نے جو شروع کے ساسانی بادشاہوں کے زمانے میں اپنے نئے مذہب کی دعوت دے رہا تھا اس نے بھی خدائے برتر کو زروان کے نام سے موسوم کیا ہے ۔

پروفیسر کرسٹین کے خیال میں مزدائیت اور زروانیت دو الگ الگ مذہب نہیں ہیں ۔ زروانیت آفرئنش کے بارے میں ایک خاص مسلک کا نام ہے جس میں کسی حد تک مسائل حیات کے متعلق اعتقادات شامل ہیں ۔ یہ مسلک ممکن ہے کہ مزدائیت بلکہ مذہب مہر پرستی اور مانویت میں بھی موجود ہو ۔ چنانچہ سابق میں ایک زروانیت مزدائیت اور ایک غیر زروانی مزدائیت کا وجود تھا ۔    

اس بات کا ثبوت ہے کہ ساسانیوں کی مزدانیت زروان پرستی کی شکل میں مروج تھی ۔ یہ کلمہ اشخاص کے ناموں میں کثرت سے آیا ہے  جو ساسانیوں کے زمانے میں کلمہ زروان کے ساتھ مرکب پائے جاتے ہیں ۔ بلکہ ان بے شمار مقامات سے بھی جو یونانی ، ارمنی اور سریانی مصنفین کی کتابوں میں ملتے ہیں ۔ ان مصنفین میں سب سے قدیم تھیوڈور آف موپسوئسٹ Theodore of Mposueste ہے ۔ جو ۳۶۰ء؁ تا ۴۲۸ء؁ میں گزرا ہے ۔ اس کی اصل تصنیف تو ضائع ہوچکی ہے لیکن فوٹیوسن Footeusen نے اس کا ایک اقتسبات دیا ہے ۔ اس نے اپنی کتاب ایرانیوں کے نفرت انگریز عقیدے کو بیان کیا ہے جو زردس (زردشت) نے رائج کیا تھا ۔ زردرم (زروان) جس کو سارے جہاں کا بادشاہ بتایا ہے اور اسے قضاء قدر بھی کہتا ہے ۔ زرورم نے قربانی دی تاکہ اس کے بیٹا ہو تب اس کا بیتا ہرمزدس (اہور مزد) پیدا ہوا ۔ لیکن اس کے ساتھ اس کا دوسرا بیٹا شیطان پیدا ہوا ۔

آرمینیہ کے علاقائی مصنف ازنیکExnik  اور اہلزے Elisee (پانچویں صدی عیسوی) بطریق مارابہا (چھٹی صدی) سریانی مصنیفین آذر ہرمزد اور اناہید نے ایک بڑے زرتشتی موبد کے مقابلے پر ( پانچویں صدی میں یا اس کے کچھ بعد) تحریری مباحثے لکھے ہیں ۔ سریانی مصنف تھیوڈور بارکوئی (آٹھویں یا نویں صدی) اور گمنام سریانی مصنف جس کی کتاب کا اقتباس نیبرگ نے دیا ہے ۔ ان سب نے آفرنیش کائنات کا قصہ لکھا ہے ۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ خدائے اصلی زروان ہزار سال تک قربانیاں دیتا رہا تاکہ اس کے یہاں بیٹا پیدا ہو ۔ جس کا نام اہور مزد رکھے ۔ لیکن ہزار سال کے بعد اس کے دل میں شک پیدا ہونا شروع ہوا کہ اس کی قربانیاں کارگر نہیں ہوئیں ۔ تب اس یہاں دو بیٹے پیدا ہوگئے ۔ ایک اس کی قربانیوں کا نتیجہ تھا اور دوسرا اہرمن اس کے شک کا نتیجہ تھا ۔

زروان نے عہد کیا ہے میں دنیا کی بادشاہی اس کو دوں گا جو پہلے سامنے آئے گا ۔ تب اس کے سامنے اہرمن آگیا ۔ زروان نے پوچھا تو کون ہے ؟ اہرمن نے جواب دیا میں تیرا بیٹا ہوں ۔ زروان نے کہا تو میرا بیٹا ہوتا تو معطر اور نورانی ہونا چاہیے اور تو متعفن اور ظلماتی ہے ۔ تب اہورا مزد اپنے معطر اور نورانی جسم کے ساتھ سامنے آیا ۔ زروان نے اسے بطور اپنے فرزند کے شناخت کیا اور اس سے کہا میں تیرے لیے قربانیاں دیتا رہا اب آئندہ تو میرے لیے قربانیاں دیا کرے ۔ اہرمن نے باپ کو یاد دلایا کہ تو نے کہا تھا کہ جو پہلے میرے سامنے آئے گا اس کو بادشاہ بناؤں گا ۔ زروان نے کہا میں نو ہزار سال کی بادشاہی تجھے دیتا ہوں ۔ لیکن اس مدت کے بعد اہور مزد اکیلا حکومت کرے گا ۔

کائنات کی مدت عمر کے بارے میں بہت اختلافات ہیں ۔ کہیں نو ہزار سال اور کہیں بارہ ہزار سال بتائی گئی ہے ۔ بین ونسٹ کا خیال ہے کہ نو ہزار سال زروانی عقیدے کے مطابق ہے اور بارہ ہزار سال غیر زروانی مزدائیوں کا عقیدہ ہے ۔ جب کہ نیبرگ کی رائے کہ زروانی عقیدے کے مطابق بارہ ہزار اور غیر زروانی مزدائیوں کے نذدیک نو ہزار سال ہے ۔ اگرچہ بندہشن کے غیر زروانی اجزا میں بارہ ہزار سال کی تصریح موجود ہے اور پروفیسر کرسپین کی رائے ہے کہ مدت کا یہ اختلاف زروانیوں یا غیر زردانیوں کے عقیدے کا اختلاف نہیں ہے بلکہ زروانیوں نے بھی کائنات جنینی حالت کو کبھی شمار کیا ہے اور کبھی نہیں کیا ہے۔ تمام روایات میں خواہ وہ زروانی ہوں یا غیر زروانی مدت جنگ کو نو ہزار سال بتایا ہے ۔ لیکن اگر( ازنیک اور ایلزے نے لکھا ہے) اہرمن اور اہورا مزد کی پیدائیش سے پہلے زروان ہزار سال تک قربانیں دیتا رہا تو پھر ظاہر ہے کہ زروانی عقیدے کے مطابق نو ہزار سال کی مدت سے پہلے ایک ہزار سال کا عرصہ کائنات کی عمر اور زیادہ تھا ۔       

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کا وہ تصور جو زروانیوں کا عقیدہ تھا عہد ساسانی کی زرتشت پر غالب تھا ۔ چنانچہ عیسائی مصنفین نے آفرنیش کے کائنات اس قصہ کو عامیہ اور نامہذب میں پیش کیا ہے ہے ۔ لہذا زروانیوں کے متعلق معلومات کے لیے ہمیں پہلوی کتابوں کی طرف رجوع کرنا چاہیے جیسا کہ نیبرگ کا کہنا ہے ۔ خصوصاً بندہشن کے ایرانی نسخے میں زروانی عقیدہ میں ملا ہے ۔ اگرچہ اس کتاب میں کائنات کے مسائل پر بحث نہیں کی گئی ہے ۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ ابتدا میں کائنات جینی یا امکانی حالت (مینو گیہا) میں تھی ۔ اس عرصے میں زوران جس کو زمان اور قضا و قدر بھی کہا گیا ہے ایک موثر وجود رکھتا تھا ۔

قدیم عامیانہ اساطیر میں زروان کو نر و مادہ کا مرکب کا تصور پیدا پایا جاتا ہے ۔ لیکن زمانہ متاخر کی ایک روایت کی رو سے اس کی بیوی جس کا نام خوشیزگ ہے جس کو نیبرگ نے خوش کی تصغیر بتایا ہے اور اس کے معنی عمدہ یا خوبصورت کے ہیں ۔ مانوی مخطوطات میں اسے زندوں کی ماں یعنی بادشاہ کی بیوی اور اولین انسان اہور مزد کی ماں کا نام رام راشخ جس کے معنی بخشندہ مسرت کے ہیں ۔

بقول شہرستانی زروانیوں کا دعویٰ تھا کہ نور ازلی نے متعدد اشخاص پیدا کیے جو سب کے سب نور سے پیدا کیے گئے تھے اور روحانی طبعیت رکھتے تھے اور ان سب سے بزرگ زروان تھا ۔ شہر ستانی کے اس غیر واضح بیان کو سریانی مصنفین مثلاً تھیوڈور باکونائی ، آذر ہزمزد اور گمنام مصنف نے جس کا اوپر ذکر کیا گیا لکھتے ہیں کہ پیران زرتشت عناصر اربعہ کی طرح اصول اربعہ یعنی اشوکاز ، فرشوکار ، زردکار اور زروان خدا مانتے تھے ۔ اس میں زروان اہور مزد اور اہرمن کا باپ تھا ۔ جب کہ گمنام مصنف کا کہنا ہے کہ اہورمزد کا باپ فرشوکار تھا ۔ نیبرگ نے شیڈر کی تحقیقات کی روشنی میں ثابت کیا کہ زروان خدا چہار کی صورت میں تصور کیا جاتا تھا ۔ یعنی اس طرح کے تین تین ناموں کے کئی سلسلے بنائے گئے ہیں ۔ ہر ایک سلسلے میں زروان بلحاظ اپنے افعال و صفات کے تین مظہروں میں تصور کیا گیا ہے اور چوتھی خود اس کی ذات شامل ہوکر چوکڑی بن جاتی ہے ۔ ان چوکڑیوں میں زروان کو کبھی متعلق بہ فلک اور کبھی خدائے قدر و قضا تصور کیا جاتا ہے اور بعض روایات میں ان دونوں نقطہ نظر ملادیئے گئے ہیں ۔ بقول نیبرگ ان چوکڑیوں کے علاوہ سریانی مصنفین ایک اور شکل جسے وہ اربعہ زروانی ارضی کے نام سے موسوم کرتا ہے وہ اربعہ حیات منازل ہے ۔ اشوکار (بجائے ارشوکار) بمعنی بخشندہ رجولیت و توائی ۔ فرِشوکار بمعنی درخشاں کنندہ اور زروکار بمعنی بخشدہ پیری ۔ مطلب زروان کے تین مظاہر اس کی ذات منازل حیات کی تین حالتوں کی جامع یعنی جوانی ، ادھیڑ پنا اور بڑھاپا ۔

ایک اور نقطہ نظر جس میں زروان دو صورتوں میں جلوہ گر ہوتا ہے ۔ ایک تو وہ زروان اکنارگ (زمان ابدی و نامحدود) ہے اور دوسرے وہ زروان ویرنگ خوذای (زماں طویل التسلط) ہے ۔ یعنی وہ کائنات کی بارہ ہزار کی مدت کا حاکم ہے ۔

زروان کے توام بیٹے اہرمن اور اہور مزد یعنی روح خیر و روح شر یا نور ظلمت پیدا ہوئے ۔ لیکن چونکہ اہرمن پہلے پیدا ہوا تھا اس لیے وہ ابتدا میں ہی دنیا کی سلطنت کا مالک بن گیا اور مجبوراً اہورا سلطنت حاصل کرنے کے لیے اہرمن سے جنگ کرنے پر مجبور ہوا ۔ روح شر کے تقدم اور اولیت کا عقیدہ قنوطیت پر مبنی ہے اور عرفانیوں کے عقیدے سے مشابہ اور زرتشت کی اس اصولی نوعیت کے خلاف ہے جو ہمیں گاتھا میں نظر آتی ہے ۔ یہ بھی حقیت ہے مختلف زرتشتی فرقوں کے خیالات و عقائد میں جو تضادات ہیں انہیں ختم کرنے کی کوشش مختلف تاویلوں سے کی گئی ہے ۔ کبھی یہ کہا گیا ہے کہ اہرمن نے اپنے تسلط کے زمانے میں اہور مزد کا ماتحت اور تابع تھا اور کبھی اہرمن کی سلطنت کو زمانہ جنگ کے ابتدائی تین ہزار سال تک محدود کیا گیا ۔ زروانیوں کے عقیدے کے مطابق اہرمن اور اہورا مزد کی طاقت برابر تھی مگر ￿آخری تین ہزار سال میں اہور مزد اہرمن پر غالب ہوگیا ۔ یہ آخری تین ہزار کا عرصہ زرتشت کے ظہور سے شروع ہوتا ہے اور اس فیصلہ کن جنگ پر ختم ہوگا جس میں اہرمن شکست کھا کر ہمیشہ کے لیے مغلوب ہوجائے گا اور کائنات کی ہیئت تبدیل ہوجائے گی ۔ اس اہم مسلے پر غیر زروانی مزرائیوں کی رائے کتاب بندہشن کے پہلے باب میں یوں بیان کی گئی ہے ۔

اہور مزد کو اپنے علم ازلی کی بدولت معلوم تھا کہ نو ہزار سال میں سے تین ہزار سال تک وہ بغیر کسی رکاوٹ کے حکمرانی کرے گا ۔ پھر تین ہزار سال کی مدت میں جو کہ آمیزش کا دور ہوگا اہور مزد اور اہرمن دونوں کی حکمرانی کا ہوگا ۔ لیکن جنگ آخیر میں اہورا روح شر کو مغلوب کر لے گا ۔

جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے کہ ہخامنشیوں کے زمانے کائنات کے مبدا کے بارے میں دو مختلف خیالات تھے ۔ ایک خیال کے مطابق وہ زمان (زروان) اور بعض کے نذدیک مکاں (تھواش) ہے ۔ نیبرگ نے ٹھوس دلائل سے ثابت کیا ہے کہ تھواش ، دیو (ہوا یا فضا) کے مترادف ہے جو پہلوی میں وای (دیو) اور اوستا میں دای پرستی کے آثار ملتے ہیں جو زروانیت کا مد مقابل تھا ۔

تھیوڈور بارکومائی ، اہورمزد اور اہرمن کی پیدائش کا زروانی فسانہ اور ان کی مخلوق کے بارے میں لکھا ہے کہ جب اہورا مزد نے نیک لوگوں کو عورتیں بخشیں مگر وہ اہرمن کے پاس چلی گئیں ۔ جب اہور مزد نے نیک لوگوں کو امن اور سعادت مندی بخشیں تو شیطان (اہرمن) نے بھی ان عورتوں کو اپنا سعادت مند بنالیا اور انہیں اجازت دی کہ جو وہ چاہیں اس سے طلب کرسکتیں ہیں ۔ اس پر اہور مزد کو خدشہ ہوا کہ وہ عورتیں نیک لوگوں کی رفاقت طلب نہ کرلیں اور اس سے ان نیک لوگوں پر عذاب نازل نہ ہو ۔ اس لیے اس نے ایک ترکیب سوچی اور ایک خدا نرسائی جو پانسو سال کا ایک جوان تھا پیدا کیا اور اسے ان عورتوں کے پیچھے لگادیا کہ وہ اہرمن سے اسے طلب کریں ۔ چنانچہ عورتوں نے شیطان (اہرمن) سے کہنے لگیں اے شیطان ؛ اے ہمارے باپ ؛ نرسائی خدا ہم کو عطا کر ۔ نرسائی اوستائی زبان میں نائرسنہا ہے جو خداؤں کا قاصد ہے جو دنیا کو ترقی کے راستے پر چلاتا ہے ۔ یہ ایک مقبول عام خدا تھا جس کا ذکر پہلوی کتابوں میں اکثر آیا ہے ۔ اس افسانے سے فطرت نسوانی کا زرتشتی مذہب میں جو تصور ہمارے سامنے آتا ہے وہ تعجب کا باعث ہے ۔ نبرگ کا کہنا ہے کہ یہ اس کی میلان قنوطیت کا نتیجہ ہے جو زروانی عقائد کی خصوصیت ہے ۔

 تھیوڈور بعض اور ایرانی افسانوں میں مخلوق کی پیدائش کی طرف اشارہ کیا ہے لیکن مبہم الفاظ میں ۔ مثلاً زمین ایک دوشیزہ تھی جو پریسگ کے ساتھ منسوب تھی ۔ آگ ذی عقل تھی اور کون رپ (جنگلوں کی رطوبت) کے ساتھ مصاحبت رکھتی تھی ۔ پریسگ کو کبھی فاختہ ، کبھی چیونٹی اور کبھی بڈھا کتا بتایا گیا ہے اور کوم جو کبھی مچھلی اور کبھی مرغا بتایا گیا ہے جو پریسگ کا خیر مقدم کرتا تھا ۔ کیکو اوز ایک پہاڑی مینڈھا تھا جو اپنے سینگوں سے آسمان کو مارتا تھا ۔ زمین اور گوگی نے آسمان کو نگل جانے کی دھمکی دی وغیرہ وغیرہ ۔

 ونسٹ کی رائے میں یہ غالباً چہرداؤ نشک سے تعلق رکھتی ہیں اور وہ اساطیری تاریخ کے ایرانی ماخذ کی داستانوں اور افسانوں سے انہیں جوڑتا ہے ۔ پرمیگ فراسیاگ ہے جو استائی زبان میں فرنگ رشین اور فردوسی کے یہاں افراسیاب ہے ۔ کوم سے مراد ہاؤما دیوتا ہے جو پہلوی اور فارسی میں ہوم ہے ۔ کیکواوز کاؤس ہے ، کورن رپ گرشتاسپ کی بگڑی شکل ہے ۔ (اوستا میں گزساشپ) ۔ گوگی کے متعلق زرتشت کے متعلق ونسٹ کا کا خیال ہے کہ وہ ایک دیو (شیطان) ہے جو مانوی مذہب میں کونی (اوستا کوندی) کے نام سے معروف ہے ۔   

زروانی مذہب سلطنت ساسانی کے خاتمہ کے بعد متروک ہوگیا اور اگرچہ عہد ساسانی کے زرتشتی مصنفوں نے پہلوی کتابیں لکھتے وقت کوشش کی ہے کہ وہ روایات میں سے زروانی عقائد کو بالکل غائب کردیں اور اس کوشش میں وہ بہت حد تک کامیاب رہے اور زرتشتی مذہب میں اس کے بہت کم آثار رہ گئے ہیں ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں