78

زر کا ارتقاء


جب انسان نے تہذیب کی دنیا میں قدم رکھا تو اس کو لین دین کی ضرورت پیش آئی۔ اس نے لین دین کے لیے پہلے پہل اشیاء کے تبادلے کو استعمال کیا ۔ مگرجلد ہی اسے احساس ہو گیا کہ اس طرح لین دین آسان نہیں ہے ۔ اس لیے اس نے تبادلے کو آسان بنانے کے لئے سوچنا شروع کیا ۔ انسان نے تبادلے کے لیے مختلف اشیاء کو استعمال کیا اور صدیوں کے تجربات کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ اس کے لیے سونا سب سے بہتر ہے ۔ 
سونا اپنی چمک دمک اور پائیداری کے باوجود دنیا میں محدود مقدار میں ہے ۔ اس لیے اسے رفتہ رفتہ زر کی حیثیت حاصل ہو گئی اور جلد ہی اس کے سکے وجود میںآگئے اور اس نے زر مستحکم کی حیثیت حاصل کر لی ۔ یہ ہر طرح کے لین دین میں مستحکم طور پر تسلیم کیا جانے لگا ۔ اس سے نہ صرف لین دین آسان ہوگیا بلکہ کاروبار میں تیزی آگئی ۔ سونا چوں کہ دنیا میں محدود مقدار میں تھا اس لیے عام طور پر اس کی قدر مستحکم رہتی تھی ۔ اگرچہ کبھی کبھار کسی قوم یا ملک میں فتوحات یا کسی کان کی دریافت کی بدولت اس محدود خطے میں محدود وقت کے لیے سونے کی افراط ہوجاتی تھی ۔ لیکن اشیاء تعیش کی خریداری کی وجہ سے سونے کی کثیر مقدار اس خطے سے نکل کر تجار ت پیشہ لوگوں کے پاس چلی جاتی تھی ۔مگر چونکہ عام لوگوںکے پاس سونے کی محدود مقدار رہ جاتی تھی ۔ اس لیے وہ صرف اشیاء ضرورت ہی خرید پاتے تھے ۔ اس کے نتیجے میں تجارت اور دوسرے پیشوں کو زوال آجاتا تھا اور اس لئے دنیا صدیوں کے سفر میں بنیادی طور پر زر کی کمی کا شکار رہی ۔ 
کاغذی زر شروع شروع میں مختلف ساہوکاروںنے جاری کئے تھے ۔ یہ دراصل اس سونے کی رسیدیں تھیں جو ان کے پاس بطور امانت رکھا ہوتا تھا ۔ ان رسیدوں کے مطابق ساہوکار حامل ہذا کو درج شدہ مقدارا دا کرنے کا پابند تھا ۔ جلد ہی ان زری رسیدوں نے بڑی مقبولیت حاصل کر لی ،کیوں کہ یہ استعمال میں آسان اور محفوظ تھیں ۔ ان سے لین دین میں بڑی سہولت حاصل ہوگئی اور تجارتی سرگرمیاں بھی بڑھ گئیں ۔ لہذا ان کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بینک آف انگلینڈ نے انہیںجاری کرنے کی ذمہ داری سنبھال لی ۔ یہ کرنسی نوٹ بھی سونے کے بدلے جاری ہوئے تھے اور بینک آف انگلینڈ ان کے بدلے حامل ہذا کو سونے کی درج شدہ مقدار (سکے یا سکوں کی صورت میں) ادا کرنے کا پابند تھا ۔ یہ نظام اگرچہ مستحکم تھا لیکن غیر لچک دار تھا ، اس لیے یہ اب کسی ملک میں رائج نہیں ہے ۔ 
 1944؁ میں برٹن وڈ Bretton Wood کانفرنس میں یہ طے پایا کے کہ کرنسی کے نظام کو سونے سے علیحدہ کردیا جائے ۔ کیوں کہ برآمد بڑھانے کے لیے ہر ملک کوشش کر رہا تھا کہ اس کی کرنسی کی قدر کم رہے اور اس طرح اس کی اشیاء بیرونی ممالک میں سستی فروخت ہوں ۔ کرنسی کی قدر گرانے سے (جو سونے کے بدلے گردش کر رہی تھی) مقدار زر بڑھ جاتی تھی ۔ اس طرح ملک میں افراط زر پیدا ہوجاتا تھا اور کرنسی مقدار بڑھ جاتی تھی ۔ جس سے تجارتی سرگرمیں میں تیزی آجاتی تھی ۔ اس کا واحد حل سونے کی کرنسی سے علیحدگی تھا ۔ لہذاسونے کو کرنسی سے علیحد ہ کرنے کا عمل 1968 میں شروع کیا گیا اور 1071؁ تک کرنسی نوٹوں کو کرنسی سے مکمل طور پر علیحدہ کردیا گیا ۔ 
آجکل بیشتر زر کاغذی ہوتا ہے ، جس کی حیثیت صرف کاغذ کی ہے جس پر طبع کیا گیا ہے ۔ مزید یہ کہ بلعموم غیر بدل پزیر ہے ۔ یعنی بینک یا حکومت اسے سونے یا کسی اور چیز میں تبدیل کرنے کا وعدہ نہیں کرتی ہے ۔ اس کے باوجود یہ اپنا کام اچھی طرح انجام دیتا ہے اور ہر شخص اسے قبول کرلیتا ہے ۔ کیوں وہ جانتا ہے اس سے وہ اشیاء یا خدمات کے خریدنے یا اپنے قرضے کے تضفیئے کے لیے استعمال کرسکتا ہے ۔ اس اعتمادکی و جہ سے لوگ اپنی قیمتی اشیاء اور خدمات چند پرزوں کے بدلے دے ڈالتے ہیں اور یہ اعتماد اس وقت تک قائم رہتا ہے جب تک اس کی قدر مستحکم رہے ۔ تاہم اس کی اشاعت زیادہ ہوجاتی ہے تو بداعتمادی پیدا ہونے لگتی ہے اور اس صورت میںممکن ہے لوگ اسے قبول کر نے انکار کردیں ۔ 
یہ حقیقت ہے جب سے زر کا تعلق سونے سے ختم ہوا ہے ، دنیا کی کسی کرنسی میںاستحکام نہیں رہا ہے ۔ ہم اگر 1930؁ سے دنیا کی کرنسیوں کی قدر سے موازنہ کریں تو ہر ملک کی کرنسی سونے کے مقابلے میں گرتی رہی ہے ۔ یہ کرنسی کی گرتی قدر معاشی ترقی اور روزگار کے لیے ضروری ہے ۔ لیکن اس تیزی سے نہیں کہ ملک عدم استحکام کا شکار ہوجائے ۔ جیسا کہ 1997؁ میں آسیان کے ملکوں میں ہوا تھا ۔ اگرچہ اس کی بڑی وجہ غیر پیداواری سیکٹر میں یعنی پراپرٹی ، سٹے بازی اور سامان تعیش میں سرمایاکاری ہے ۔   
زر کو آلہ مبادلہ کی حیثیت سے عام مقبولیت حاصل ہے ۔ اس لیے کہ فطری طور پر اس کے ذریعے اشیاء کی قدریں ظاہر کی جاتیں ہیں ۔ معاہدات اور حسابات اسی کے ذریعے رکھے جاتے ہیں ۔ زر کے پیمانہ قدر کی حیثیت سے استعمال نے معاشی حساب کتاب میں بہت آسانیاں پیدا کردی ہیں ۔ کیوں کہ قدر اور مصارف کا موازنہ کرنے کے لیے کوئی مشترک پیمانہ ہو نہ تو حساب کتاب میں بے حد مشکلات پیش آئیں گی ۔ 
زر کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ ذخیرہ قدر کی حیثیت سے کام انجام دیتا ہے ۔ لیکن دنیا بھر کی کرنسیوں کی قدر جہاں گھٹ رہی ہو ، وہاں یہ کام سونا جواہرات اور دوسری قیمتی اشیاء کہیں بہتر طور پر انجام دے سکتی ہیں ۔ کیوں کہ زر اگرچہ تمام اثاثوں سے زیادہ سیال ہے ۔ لیکن زر کی حیثیت سے ایک خاص رقم ہمیشہ وہی رہتی ہے اگرچہ اس کی قوت مبادلہ بدل گئی ہو ۔ 
بعض لوگوں کے خیال میں زر ایک خاص کام انجام دیتا ہے ۔ یعنی ملتوی شدہ ادائیگیوں کے معیار کی حیثیت سے معاہدات بشمول قرض وغیرہ ۔ زر کی قدر اس کی قوت خرید معاہدات بشمول قرض وغیرہ کی شکل میں ہوتے ہیں ۔ اس وجہ سے کہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ زر کی قوت خرید معاہدے کی مدت کے اندر نہیں بدلے گی ۔ اگر خوف ہو کہ قدر بدل جائے گی تو لوگ اپنے معاہدے کسی اور چیز یعنی مثلاً سونا یا کسی غیر ملکی کرنسی مثلأً ڈالر میں کرنے لگیں گے یا پھر وہ طویل مدتی معاہدے سے احتراز کر نے لگیں گے ۔ چنانچہ 1930ء؁ کے دوران بین الاقوامی لین دین کا زیادہ رواج نہیں تھا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بیرونی سرمایا داروں کو خوف تھا کہ قرض دینے والے ملکوں کی کرنسی کی قدریں گرجائیں گی ۔ 
اگر یہ توقع ہو کہ زر کی قدر نہایت مستحکم رہے گی تو قرض اور طویل مدتی معاہدے جن کی مستقبل میں ادائیگی کرنی ہو زیادہ کئے جائیں گے اور زر کو چھوڑ کر کسی اور شے مثلأً سونا یا غیر ملکی کرنسی میں معاہدے نہیں کریں گے ۔ اس سے یہ نتیجہ باآسانی اخذکیا جاسکتا ہے کہ زر کی قدر مستحکم رہنا ضروری ہے ۔ 
ہم اگر زر کے پیچھے جھانک کر پیداوار اور حقیقی آمدنیوں کو دیکھیں تو یہ محض مبادلے کو ترقی دینے کا آلہ ہے ۔ لیکن یہ نہایت اہم آلہ ہے اور جدید زندگی کی آسائشیں جن کی بدولت قائم ہیں ، وہ زر کے بغیر ہر گز وجود میں نہیں آسکتی ہیں ۔ لیکن جو چیزہم کو مطلوب ہے وہ زر نہیں بلکہ وہ جو ہم زر کے عوض خرید سکیں ۔ 
کینز Keynes اور دوسرے لوگوں نے بالکل بجا طور پر اصرار کیا ہے کہ ایک زری معیشت میں زری تغیرات حقیقی تغیرات برپا کرنے میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ زر کی مقدار میں اضافہ ہو جائے تو ممکن ہے اس سے مکمل روزگار کی راہ کھل جائے ۔ اگر یہ تجویز حد سے بڑھ کر اختیار کی جائے تو بڑھتی ہوئی قیمتوں کا دروازہ کھل سکتا ہے ۔ اس کے نتیجے میں اشخاص اور طبقات کے درمیان آمدنی کی تقسیم کی صورت بدل سکتی ہے اور پہلے پہل موافق اثرات مرتب ہوتے دیکھائی دینگے ۔ لیکن بالآخر اس کے برعکس علامات نمودار ہونے لگیں گی ۔ 

تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں