68

زر کا طلائی معیار

     
سونا تقریباً پانچ ہزار سال سے زر کی حیثیت سے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ یہ بڑی حد تک بذات خود مطلوب ہے ۔ اگر اسے زر کی حیثیت سے وسیع پیمانے پر استعمال نہیں کیا جائے تو اس کی قدر مبادلہ بڑی حد تک گھٹ جائے گی ۔ یہ دھات پائیداری ، تقسیم پذیری اور یکسانیت کی خصوصیت رکھتی ہے ۔ مزیدیہ کہ کانوں سے اس کی سالانہ رسد موجودہ ذخیرے کا صرف ایک معمولی حصہ ہوا کرتی ہے ۔ چنانچہ اس کی قدر میں مجموعی رسد کی تبدیلوں کی بناء پر جو تبدیلیاں واقع ہوتی رہتی ہیں وہ زوال پذیر اشیاء کے مقابلے میںبہت معمولی ہیں ، جن کی سالانہ رسد کل ذخیرے سے زیادہ رہتی ہے ۔ 
موجودہ دور سے پہلے جو چیز زر کے طور پر استعمال ہوتی تھی وہ خود مطلوب ہوا کرتی تھی ۔ اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ وہ زر کے طور پر استعمال ہو رہی اور اس کی مانگ میں اضافہ کے باعث اس کی قدر میں اضافہ کا موجب ہوا کرتی تھی ۔ یہی حال سونے کا ہے ۔ سونے کی ما نگ کا بڑا حصہ زری اغراض پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اگر امریکہ اور دوسرے ممالک سونے کے محفوظات رکھنا چھوڑ دیں تو سونے کی قدر گھٹ جائے گی ۔   
پہلے پہل سونے کا مبادلہ اشیاء کے ساتھ اسی طور پر کیا جاتا تھا اور اس کے سکے نہیں ڈھالے گئے تھے ۔ ہر شخص جو اسے حاصل کرتا تھا وہ اطمینان کرتا تھا کہ اس کا وزن اور کھرا پن درست ہے ۔ یہ عمومأٔ ٹکڑوں کی شکل میں ہوا کرتے تھے ۔ بعد میں اس کے سکے وجود میں آگئے ، جس پر کندہ تصویراور وزن اس کے درست ہونے کی تصدیق کرتا تھا ۔ اس طرح زحمت سے چھٹکارہ مل گیا ۔ 
سترویں صدی میں لندن میںمبادلہ میں ان رسیدوں کا کثرت سے استعمال ہونے لگا ، جو ان سناروں نے اس سونے کے بدلے جاری کی تھیں جوان کے پاس بطور امانت رکھا گیا تھا ۔ یہ رسیدیں بڑی مقبول ہوئیں ۔ کیوں کہ ان سے لین دین میں بڑی سہولت تھی ، اس سے کاروباری دنیا میں تیزی آگئی تھی ۔
ان رسیدوں کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بینک آف انگلینڈ نے انہیں جاری کرنے کی ذمہ داری سنبھالی ۔ یہ کرنسی نوٹ بھی بینک آف انگلینڈ کا وعدہ تھا ۔ جو حامل ہذا کو اس کے مطالبے پر سونے کی ایک خاص وزن شدہ مقدار جو سونے کے سکہ یا سکوں کی صورت میں ادا کرنے کا پابند تھا ۔  
طلائی معیار انیسویں صدی کی آخری تہائی او ربیسویں صدی تہائی میں مقبول ترین بین الاقوامی نظام زر تھا اور پہلی جنگ عظیم سے بیشتر یہ طلائی کرنسی معیار کی صورت میں رائج تھا اور اس کے سونے کے سکے زیر گردش ہواکرتے تھے ۔ لیکن پہلی جنگ عظیم کے بعد اس نظام کو جاری رکھنا ممکن نہ رہا ۔ کیوں کہ اس کی کامیابی کی شرائط کو پورا کرنا ممکن نہ تھا ۔ برطانیہ نے ۱۹۲۵؁ء میں طلائی سلاخوں کا معیار رائج کیا ، جس کے تحت کاغذی نوٹ جاری ہوئے ۔ لیکن یہ کرنسی نوٹ سونے میں تبدیل کیے جاسکتے تھے جو کہ سلاخوں کی صورت میں ہوا کرتا تھا ۔ 
پہلی جنگ عظیم سے پہلے برطانیہ کی تجارت زوروں پر تھی اور دنیا کے اکثر ممالک کے سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ میں (جو برطانیہ کا مرکزی بینک ہے) کے پاس جمع ہوتے تھے ۔ لیکن پہلی جنگ عظیم کے بعد امریکہ کو بہت اہمیت حاصل ہوگئی ۔ کیوں امریکہ کے پاس سونے کی بڑی مقدار میں جمع ہوگئی ۔ اس کے علاوہ برطانیہ کی تجارت بہت حد تک کم ہوگئی تھی ۔ جس کے نتیجے کے طور پر برطانیہ کے لیے طلائی معیار کو کامیابی سے چلانا ممکن نہ رہا ۔ 
پہلی جنگ عظیم کے بعد دوسری تبدیلی واقع ہوئی وہ یہ تھی کہ یورپ کے اکثر ممالک نے طلائی مبادلت معیار کانظام اختیار کرلیا ۔ ان کے سونے کے ذخائر زیادہ تر لندن ، نیویارک اور پیرس میں تھے ، اس وجہ سے بھی مالی بحران پیدا ہوگیا ۔ علاوہ ازیں سونے کی قلت کی وجہ سے بین الاقوامی نظام زر کی حیثیت سے طلائی معیار کی مقبولیت میں کمی ہوئی ۔
طلائی معیار کے ناکام ہونے کی درج ذیل وجوہات بتائی جاتی ہیں ۔ 
(۱) -جنگ عظیم اول کے خاتمہ پر مختلف ممالک کو تاوان جنگ اور قرض کی صورت میں بھاری رقوم کی ادائیگی کرنا پڑیں ۔ قرض خواہ ممالک نے یہ رقوم سونے کی شکل میں لینے پر اصرار کیا اس کے نتیجے میں امریکہ اور فرانس میں سونے کی کافی مقدار جمع ہوگئی ۔ اس کے برعکس دوسرے ممالک میں سونا بہت کم مقدار میں رہ جانے کی وجہ سے وہ اس نظام کو جاری نہیں رکھ سکے ۔ 
(۲) -جنگ عظیم کے بعد سیاسی بدامنی کی وجہ سے فرانس نے بینک آف انگلینڈ سے اپنی رقوم نکلوانے کا فیصلہ کیا ۔ اتنی بھاری رقوم کی ادائیگی کی وجہ سے طلائی معیار کا خاتمہ ہوگیا ۔ 
طلائی معیار اس وقت کامیاب ہو سکتاہے جب تمام ممالک آپس میں تعاون کریں اور اس کی شرائط کو پورا کریں ۔ یہ شرائط درج ذیل ہیں 
(۱) سونے کی نقل وحرکت آزادانہ ہو اور اس پر کسی قسم کی پابندی نہ ہو ۔
(۲) حکومتیں اس نظام کو چلانے میں کسی قسم کی دخل اندازی نہ کریں ۔    
(۳) سونے کو سکوں میں تبدیل کرانے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالے۔ 
	(۴) سونے کی تجارت کی آزادی ہو ۔ 
	جنگ عظیم اول کے بعد مختلف ممالک ان شرائط کو پورا نہیں کر سکے ۔ اس لیے یہ نظام ناکام ہوگیا۔   
	 ۱۹۳۰؁ء تا ۱۹۳۹؁ء کا درمیانی عرصہ بین الاقوامی زری امور کے بارے میں بنیادی تبدیلیاںلانے کا باعث بنا ۔ برطانیہ نے ۱۹۳۱؁ء میں طلائی معیار کو خیر باد کہہ دیا اور سٹرلنگ کی قدر کو سونے کی صورت میں کم کر دیا ۔ امریکہ نے ۱۹۳۳؁ء میں طلائی معیار کو خیر باد کہہ دیا اور ڈالر کی قدر گھٹادی ، جس کی وجہ سے برطانیہ کی حالت مزید کمزور ہوگئی ۔ اس کے بعدکچھ ممالک جن کا مرکز فرانس تھا انہوں نے اسے ۱۹۳۶؁ء تک جاری رکھا ۔       
تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں