65

سادہیہ

فعلی مصدر سادھ سے اشتقاق جس سے مراد ختم کرنا ، مکمل کرنا ، ماتحت کرنا اور ملکیت کرنا ہے ۔ مگر ہندو اساطیر میں اس سے مراد نیم الوہی فلکی وجود ہیں ۔ بینرجی کے نذدیک رتبے کے اعتبار سے انہیں وسطی درجہ کے دیوتا قرار دیا سکتا ہے ۔ رگ وید میں ان کا حوالہ قدما کے دیوتا کے طور پر دیا جاتا ہے ۔ جب کہ تیت سام کے مطابق ان کا انسانوں قبل موجود ہوتا تسلیم کیا گیا ہے ۔ امکان ہے کہ چاروں ویدوں کی یہ تجسیم ہوں ۔ بھرت سام میں بعد ازاں انہیں بادشاہ کی سالانہ تقدیس کی رسوم سے قبل پوترتا کی رسوم سے وابستہ کردیا گیا ۔ تیت سام میں انہیں یہی مقام اشو میدھ یا گھوڑے کی قربانی کی رسوم میں بھی حاصل رہا ۔ ست براہن کے مطابق قربانی کے گھوڑے سال بھر کھلے گھوم تے رہتے تھے اور ان کی حفاظت میں انہیں بھی حصہ دار ٹھہرایا گیا ۔ 
رگ کے ساتھ ست برہمن میں انہیں دیوتاؤں سے اوپر افلاک کا باسی قرار دیا گیا ۔ یاسک  نے ان کے علاقہ قیام کانا بھور لوک بتایا ہے ۔ منو سمرتی میں انہیں سوم سار انامی پتری اور وراج کی اولاد بتایا گیا ہے جب کے پرانوں کی رو سے یہ دکش کی بیٹی سدہیہ اور دھرم کی اولاد ہیں اور ان کی وجہ تسمیہ بھی ہے ۔ ان کی تعداد بارہ سے سترہ تک بتائی جاتی ہے ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں