62

سبت سندھو

آریا برصغیر میں آنے سے پہلے ایران میں اترے ۔ ان کی ایک شاخ ایران میں آباد ہوگئی تھی ۔ کیوں کہ مذہبی اور لسانی شہادتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ان میں علحیدیگی کا باعث مذہبی اختلافات تھے ۔ دہاؤس ، وارن ، مترا اگنی ، سوما یاما اور وایو ایرانی اور ہندویوں دونوں اقوام کے مشترک دیوتا تھے ۔ ایران میں ان کے درمیان اختلاف کے بعد آریاؤں کی بڑی جماعتیں ہندو کش کے دروں کو پار کرتی ہوئے دریائے سندھ کے کنارے ایک پرامن علاقہ پنجاب میں پہنچیں جس میں کئی دریا اور وسیع وادیاں تھیں ۔ جس کی زمین ذرخیز اور آب و ہوا معتدل ۔ اس کا نقشہ دیکھنے سے لگتا تھا کہ ایک توکونا باغ ہے ۔ جس کے دو طرف پہاڑ اور تیسری طرف ریگستان جو اسے ہند سے علحیدہ کرتا تھا ۔ اس کے دریا سوائے سندھ کے اس کی حدود میں شروع اور ختم ہوتے تھے اور یکے بعد دیگرے ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں اور بالآخر ایک ندی میں مل جاتے ہیں جو چوڑی گہری اور تیز بہنے والی ہے ۔ اس ندی کا نام پنچ ناد یعنی پانچ ندی ہے ۔ اسی نام سے بالآخر سندھو نام سے مشہور ہوگیا اور پنجاب اسی کا فارسی ترجمہ ہے ۔ 
ویدوں کے زمانے میں پنجاب کا نام سبت سندھو (سات ندیاں) ایرانی اس کو ہپت ہندو کہتے تھے اور اوستا میں اہورا نے جو زمینیں پنائی تھیں ان میں ایک سات دریاؤں کی سرزمین بھی تھی یعنی ہپتہ ہندو ۔ مقدس سرسوتی کو اس کی مشرقی حدود کہہ سکتے ہیں جو اب خشک ہوچکی ہے اور یہ واقع نہایت قدیم زمانے کا ہے ۔ کیوں کہ قدیم قلمی کتابوں میں اس کا ذکر اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ فلاں مقام سے جہاں سرسوتی زمین میں غائب ہوئی اتنی منزل دور ہے ۔ اب اس کے باقی ماندہ حصوں میں سے بالائی سرسوتی اور نشیبی گھکھر کہتے ہیں ۔ اس ندی کی اب جو کچھ اہمیت ہے وہ یہ ہے کہ وہ سات قدیم ندیوں میں سے ایک ہے جس کے کنارے آریا آکر آباد ہوئے اور وہ محبت سے اپنے گیتوں میں ندیوں کو سات بہنیں یا سات مائیں کہتے تھے ۔ 
پنجاب میں آریاؤں کے دو پیشے ہوسکتے تھے ۔ یعنی زراعت اور مویشیوں کی پرورش اور ان کے مرد اور عورتیں کھیتوں اور چراگاہوں میں مصروف رہتی ہوں گیں ۔ اس کے علاوہ مٹی کے برتن بنانے والے ، برھئی ، چمڑے کام کرنے والے ، اون بننا اور کاٹنے والے بھی ہوں ۔ ان کے پاس دریا اور ندیاں غبور کرنے کے لیے کشتیاں بھی ہوں گیں ۔ یہ علاقہ وسیع اور بہت سی وادیوں پر مشتمل ہے اس لیے بہت سے آزاد اور علحیدہ قبائل بھی وجود میں آگئے ہوں ۔ زرائع آمد و رفت کی کثرت سے ان میں تعلقات اور تجارت کا آغاز بھی ہوا ہوگا ۔ قومی بہبود اور فلاح کے ادارے موجود تھے مگر ان سے ان میں زنانہ پن پیدا ہوتا ہے ۔ زمین ذرخیز ضرور تھی مگر بغیر محنت و مشقت سے پیداوار نہیں ہوسکتی ہے ۔ یہاں کی آب و ہوا معتدل تھی مگر جاڑا بھی سخت پڑتا تھا ۔ برف باری بھی ہوتی تھی ۔ جنگلی جانور مثلاً بھیڑے اور ریچھ وغیرہ تھے ۔ جن کو دفع کرنا ضروری تھا ۔ جنگجو اور و قتل کے متعدد مواقع تھے ۔ کیوں کہ اصل باشندے جنگجو اور بہادر تھے اور صدیوں تک نوادروں سے برسر پیکار رہے ۔ اس جنگ و جدل میں صدیاں لگ گئیں اور آریا کئی صدیوں کے آبشار کو عبور کرکے گنگا کی وادی میں پہنچے ۔  

تہذیب و تدوین
ّ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں