90

ستارہ پرستی

زرتشتیوں کے عقیدے کے مطابق ستارے اور آگ بھی یزدانی مظاہر میں شمار کیے جاتے ہیں ۔ ان کے اسلاف آگ پر ستاروں کی پرستش کی عبادت کو مقدم رکھتے تھے اور ہر ستارے کے نام کا معبد میں اس کا خیالی بت بنا کر پرستش کیا کرتے تھے ۔

ان کا کہنا ہے کہ ستارے اور آسمان مجردہ کے سائے ہیں اور اسی بنا پر ساتوں ستاروں کے وجہ پر ان کے بت بنائے گئے تھے ۔ ہر ستارے کے لیے موزوں پتھر یا دھات کا مجسمہ محفوظ کیا ہوا تھا اور ہر ستارے کی مخصوص اوقات میں پرستش کی جاتی تھی ۔ انہیں خوشبوں میں بسایا اور ان کا احترام کیا جاتا تھا ۔ جس جگہ ان ستاروں کے کے بت رکھے جاتے تھے انہیں پیکر ستان شیدان اور پیکر سیداستان یعنی نورانی جسموں کے رہنے کے مقامات ۔ ان کی پوجا کی جاتی اور ہر طبقہ ان کے پاس حاضری دیتا تھا ۔

اگرچہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ستارہ بسیط ہیں اور ان کی شکل کرہ جیسی ہے ہیں ۔ لیکن ان کے بت ان جن شکلوں میں بنائی گئیں ہیں کہ عالم مثال میں ان سیاروں کی روحیں بعض انبیاء و اولیا اور حکماء کی نگاہوں کے سامنے ایسی ہی شکل و صورت میں جلوہ گر ہوتی ہیں اور ان شکلوں کے ساتھ بعض اثرات کا تعلق بھی فرض کیا گیا ہے اور بعض دوسروں کی نظر میں یہ ارواح دوسری شکلوں میں ظاہر ہوتی ہیں چنانچہ ان شکلوں میں یہ مجسمے بنا رکھے تھے ۔

یہ جس ستارے کے بت خانے میں جاتے اس کی طبعیت کے مطابق حلیہ ، لباس اور گفتگو کرتے تھے ۔ یہ زحل کے بت خانے میں نیلہ یا سیاہ لباس پہنتے تھے اور عاجزی سے گفتگو کرتے و خاموشی سے سرجھکاتے تھے ۔ مشتری کے بت خانے میں سبز رنگ کا لباس ادیبوں اور قاضیوں کی طرح پہنتے ۔ مریخ کے بت خانے میں وہ سرخ لباس پہنتے اور گستاخی سے گفتگو کرتے ۔ خورشید کے بت خانے میں بادشاہ اور پارسا کے اندازمیں جاتے ۔ زہرہ کے بت خانے میں خوش و خرم مسکراتے ہوئے جاتے ۔ عطارد کے بت خانے میں حکماء کے انداز فضاحت سے گفتگو کرتے ۔ قمر کے بت خانے میں بچوں اور چوبداروں کے انداز میں جاتے تھے ۔ یہ بڑے بت خانے تھے اور اس کے علاوہ لوگوں نے گھروں پر پر بھی ستاروں کے مجسمے بنا رکھے تھے ۔   

دساتیر کے مطابق خدانے اجزام فلکی اور ستاروں کی گردش کو ایسا بنایا ہے کہ عالم سفلی کے حوادث اس کے تابع رہیں اور ہر ستارے کو حالات سے خاص مطابقت رہے اور ہر برج کی مخصوص خصوصیت دوسرے برج کی خصوصیات سے جدا رہے ۔ لہذا پیغمبروں کو حکم الہی اور ریاضتوں سے ان برجوں اور ستاروں کے خواص و تاثیر جانتے تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ حالات بہتر نہ ہوں تو نتیجہ اچھا نہیں ہوتا ہے ۔ لہذا پیغمبر و دانش مند ستاروں کی چال کو دیکھتے ہیں کہ وہ درست برج و مقام میں ہوں ۔ اگر برج و مقام اگر درست ہو تو کوئی قدم اٹھانے سے درست نتیجہ نکلتا ہے ۔

فلاسفہ کا بھی اسی موقف کے قائل تھے ۔ ان کہنا ہے عالم سفلی کے واقعات و حرکات ستاروں کے تابع ہیں اور یہ بات ثابت ہوچکی ہے ۔ یہ سب اللہ تعالی کی مقرب مخلوق ہیں اور محل دعا اور کعبہ حقیقی اور قبلہ تحقیقی فلک ہیں اور ہر صاحب شریعت کسی ایک ستارے کی پرستش کرتا ہے ۔ چنانچہ حضرت موسی زحل کی پرستش کرتے تھے اور یہودیوں میں اس لیے ہفتہ کا دن محترم ہے اور ساحر و جادوگر جو زحل سے منسوب ہیں ان پر حضرت موسیٰ غالب آئے تھے ۔ حضرت عیسیٰ آفتاب کی پرستش کرتے تھے اور اس لیے عیسائی اتوار کے دن مقدس سمجھتے ہیں ۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم زہرہ کی پرستش کرتے تھے لہذا ان لیے جمعہ کا دن مبارک تھا ۔ چونکہ یہ بات وہ علانیہ نہیں کہہ سکتے تھے ۔ اس لیے لوگوں سے پوشیدہ رکھتے تھے ۔ مگر پیغمبر عربی کے طریقوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ زہرہ کی تعظیم کرتے تھے ۔ جو کہ خوشبو کی رغبت اور ان کی باتوں سے ظاہر ہوتا تھا ۔  

یہ پیغمبر جانتے تھے کہ دنیا میں واقعات و حادثات کے پیچھے ان ستاروں کی چال کا ہاتھ ہوتا ہے اور وہ مختلف اقسام کے ذائقے دار کھانے ، خوشبوئیں ، رنگ اور شکلیں جو ستارے سے تعلق رکھتی ہیں فراہم کرتے تھے اور پھر مستحکم عقیدے اور یقین محکم کے ساتھ غور و فکر کرتے تھے ۔ جب آسمانی ، زمینی ، جسمانی اور نفسانی اسباب جمع ہوجاتے تھے ۔ پھر وہ اپنی دعوت کو دوسروں تک پھیلاتے تھے ۔ جو شخص ان میں ماہر ہوتا ہے وہ علم حکمت اور اسرار اور نجوم میں کافی تجربہ حاصل کرچکا ہوتا ۔ چونکہ ان شرائط کا کسی شخص میں جمع ہونا بہت ہی نادر ہوتا ہے اس لیے صرف پیغمبر ہی ان پر اترتے ہیں اور اس کی حقیقت لوگوں سے پوشیدہ رہتی ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں