72

ستی پر پابندی

ستی کے خلاف مہم چلانے والے ولیم کیری اور رام موہن رائے عیسائی اور ہندو اصلاح پسند شامل تھے ۔ 1799 میں انگلینڈ کے ایک بپٹسٹ مشنری کیری Carey نے ایک عورت کی ستی کا مشاہدہ کیا ۔ اس واقع سے گھبرا کر کیری اور ان کے ساتھی کارکنوں جوشوا مارش مین Joshua Marshman اور ولیم وارڈ William Ward نے ستی کی مخالفت اس کے خاتمے کے لئے تحریک چلائی ۔ جو سیرام پور ٹریو Serampore Trio کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ انہوں نے ستی کے خلاف اخبار میں مضامین شائع کیے اور اس نے اس وقت کے گورنر جنرل لارڈ ویلزلی  Wellesley کو ستی کے خلاف ایک یاداشت پیش کیا ۔
1812 میں برہمو سماج کے بانی اور رہنما راجہ رام موہن رائے نے ستی پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ۔ کیوں کہ وہ اپنی بھابی کو ستی ہونے سے روکنے پر ناکام رہے تھے ۔ وہ عورتوں کو ستی ہونے سے روکنے کے لیے کلکتہ کے شمشان گڑھ جاتے تھے ۔ راجہ رائے موہن نے ستی کے مخالف لوگوں کا ایک گروپ بنایا جس کو بنگال کے اشرافیہ کی حمایت حاصل ہوگئی ۔ انہوں نے ستی خلاف اخبارات میں مضامین لکھے اور لوگوں کو یہ بتایا کہ ستی کا ہندو مذہب سے تعلق نہیں ہے ۔ تاہم ہندو مذہبی گروہوں نہیں چاہتا تھا حکومت مذہبی معاملات میں مداخلت کرے ۔
1815 تا 1818 کے دوران تک ستی کے واقعات دوگنے ہوگئے ۔ رام موہن رائے نے جب ستی کی مخالفت کی تو ہندوؤں کے مذہبی طبقہ ان کے خلاف ہوگیا ۔ یہاں تک ان کی جان کو خطرہ پیدا ہوگیا ۔ مگر انہوں نے 1821 میں ستی میں ایک ٹریکٹ شائع کیا اور 1823 میں کیری نے سیرام پور مشنریوں کی مدد سے رام موہن رائے کے اخبارات میں شائع مضامین جو ستی کی مخالفت میں تھے ایک کتاب شائع کی ۔ جن میں سے پہلے تین ابواب ستی کی مخالفت میں تھے ۔ ایک اور عیسائی مشنری نے 1927 میں ستی کے خلاف ایک ٹریکٹ شائع کیا ۔
گجرات میں سوامنارائن پنٹھ کے بانی سہجنند سوامی نے ستی کے آواز بلند کی ۔ ان کا  استدلال تھا کہ ستی کا ویدوں سے کو تعلق نہیں ہے اور صرف خدا ہی کسی کی زندگی لے سکتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ بیوہ عورتیں ایسی زندگی گزار سکتی ہیں جو ان کی نجات کا باعث ہو ۔ بمبئی کے گورنر سر جان میلکم Sir John Malcolm نے سہجند سوامی کی کوششوں کی حمایت کی ۔
1828 میں لارڈ ولیم بینٹینک William Bentinck ہندوستان کے گورنر جنرل کی حثیت سے تقرر ہوا ۔ جب وہ کلکتہ پہنچے تو انہوں نے کہا کہ انہیں اس دنیا اور اس کے اگلے حصے میں بھیانک خوف کی ذمہ داری لپیٹ رہی ہے ، اگر وہ ایک لمحے کے لیے اس انسانیت سوز جرم (ستی) کو جاری رکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔
بینٹینک نے ستی کا فوری خاتمہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ رام موہن رائے نے ستی کے فوری خاتمہ سے اس کے نتیجہ میں ہونے والی شورش سے لاڑد بینٹینک کو اپنے خدشات سے آگاہ کیا ۔ تاہم عدالتوں کے جج متفقہ طور ستی پر پابندی کے حق میں تھے ۔ لارڈ بینٹینک اپنی کونسل کے سامنے ستی پر پابندی کے مسودے کو پیش کیا ۔ تاہم گورنر کے ممتاز مشیر چارلس میٹکلیف Charles Metcalfe نے خدشے کا اظہار کیا کہ ستی پر پابندی کی صورت میں ہندوؤں میں مایوسی پیدا ہوگی اور اس کے نتیجے میں بغاوت کی صورت حال پیدا ہوجائے گی ۔ لیکن وہ اس انسانیت سوز خوفناک رواج کے خلاف تھا جس کے ذریعہ بہت سی بے گناہ جانیں ضائع ہوجاتی ہیں ۔ مگر گورنر جنرل ستی پر پابندی کے فیصلے کو برقرار رکھا ۔

ٍ یوں 4 دسمبر 1829 کی اتوار کی صبح لارڈ بینٹینک نے ریگولیشن XVII جاری کیا جس میں ستی کو غیر قانونی اور جرم اور عدالتوں کے ذریعہ قابل سزا قرار دیا گیا۔ یہ ترجمہ کے لئے ولیم کیری کو پیش کیا گیا تو اس نے اپنا کالا کوٹ اتار کر پھینکتے ہوئے چیخا آج کے دن میرے لئے چرچ بھی اہم نہیں ہے اور میں اس کا ترجمہ اور شائع کرنے میں ایک گھنٹہ تاخیر کرتا ہوں تو بہت سی بیوہ عورتوں کی جان ضائع ہوسکتی ہیں اور اس کے ترجمہ جت گیا اور شام تک اس نے شام تک اس نے اس قانون کا ترجمہ کرلیا ۔
2 فروری 1830کو اس قانون کا دائرہ مدراس اور بمبئی تک بڑھا دیا گیا ۔ ستی پر پابندی پر بنگال ، بہار اور اڑیسہ وغیرہ کے ہزاروں ہندووں نے اپنی دستخط کردہ درخواست میں اس قانون کو چیلنج کیا اور یہ معاملہ لندن میں پریوی کونسل میں چلا گیا ۔ اس پر ستی پر پابندی کے حق میں رام موہن رائے کی قیات نے ستی کے خاتمے کے قانون کی حمایت میں برطانیوی پارلیمنٹ میں جوابی درخواستیں پیش کیں ۔ برطانوی پریوی کونسل نے 1832 میں اس قانون کے خلاف درخواست مسترد کردی اور ستی پر پابندی برقرار رکھی گئی ۔
ستی پر پابندی کے بعد سندھ کے علاقہ میں ہندوؤں نے شکایت کی کہ برطانوی نوآبادیاتی حکومت ہمارے مذہبی معاملات میں مداخلت کر رہی ہے ۔ مگر چارلس نیپئر Charles Napier نے 1843 میں واضح کیا کہ کسی فرد نے کسی عورت کو ستی کرنے کی کوشش کی تو اسے پھانسی اور اس کی جائیداد ضبط کرلی جائے گی ۔ اس کے بعد سندھ میں نیپیئر کے زیر انتظام علاقہ میں کوئی ستی کا واقعہ نہیں ہوا ۔
دیسی ریاستیں
ستی پر پابندی کے بعد ستی کچھ ریاستوں میں ستی جاری رہی ۔ بڑودا اور کاٹھیوار ایجنسی کی ریاستوں نے 1840 میں ستی پر پابندی عائد کردی ۔ جب کہ کولہا پور نے 1841 میں اور 1844 ریاست اندور نے پابندی لگائی ۔ جب کہ 1842 میں ایسٹ انڈیا ہاؤس میں ایک اسپیکر کے مطابق ، ستارا ، ناگپور اور میسور کی ریاستوں نے ستی پر پابندی عائد کردی تھی ۔ جے پور نے 1846 میں اور حیدرآباد ، گوالیار اور جموں و کشمیر نے 1847 میں ستی پر پابندی لگائی ۔ اودھ اور بھوپال کی مسلم ریاستوں میں 1849 تک ستی برقرار رہی ۔ 1852 میں کچھ ریاستوں نے اس قانون پر پابندی پر عمل نہیں کیا مگر جودھ پور نے اس وقت ستی پر پابندی عائد کردی ۔
جے پور میں 1846 میں اور 4 ماہ کے بعد راجپوتانہ کی 18 ریاستوں میں سے 11 ریاستوں نے جے پور کی پیروی کی ۔ ایک ماخذ کے مطابق 1846 تا 1847 کے دوران ہندوستان کی 23 دیسی ریاستوں نے ستی پر پابندی عائد کردی تھی اور 1861 تک ہندوستان کی تمام دیسی ریاستوں میں اس پر پابندی عائد ہوچکی تھی ۔ سب سے آخر تک میواڑ میں ستی جاری رہی اور وہ اس قانون کے خلاف مزاحمت کرتا رہا اور اس ریاست میں ستی جاری رہیں ۔ اس ریاست میں ستی کا آخری واقعہ میواڑ کے دارالحکومت ادے پور میں 1861 میں پیش آیا ۔ لیکن جیسا کہ اننت ایس الٹیکرAnant S. Altekar نے لکھا ہے کہ رائے عامہ اس کے خلاف ہوگئی اور مہارانا سروپ سنگھ کی موت کے بعد ان کی بیواؤں میں ایک عورت کے سوا سب نے ستی ہونے سے انکار کردیا تھا ۔ اس سال کے آخر میں ملکہ وکٹوریہ نے سلطنت برطانیہ کی حدود میں ستی پر عام پابندی کا اعلان کردیا ۔
ماخذ ۔ انگش وکی پیڈیا
تہذیب و تدین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں