78

ستی پر ہندو مت میں بحث

قدیم ویدک متن
آج بھی ہندوؤں کے درمیان سب سے قدیم متن جو ودیش وید ہیں اور چار مجموعے جو تقریبا 1700–1100 قبل مسیح کے ہیں ۔ ان میں رگ وید اور اتھرا وید میں ستی کی بحث سے متعلق مواد موجود ہے ۔
رگ وید 
رگ وید میں ستی کے بارے میں ان دعوں سے مختلف لکھا ہوا ہے ۔ مثلاً ’’یہ خواتین جو بیوہ نہیں ہیں ، جن کے اچھے شوہر ہیں ، جو مائیں ہیں ، وہ بغیر کسی مشکل کے آسانی سے داخل ہوسکتی ہیں ۔
آنسوں ، غم کے بغیر ، پہلے وہ رہائش گاہ میں چلے جائیں ۔ 
ان خواتین کو جن کے شوہر قابل ہیں اور رہ رہے ہیں ، درخواست کے ساتھ کولیریریم (ان کی آنکھوں میں) گھر میں داخل ہوں ۔ (رگ وید منڈل ۷،۱۸)
ان بیویاں کو بغیر کسی تکلیف کے رکھے اچھے اور طریقہ سے انہیں آرستہ کرکے ۔ (کین 1941)
منتر 7 خود منتر 8 میں بیوہ کا ذکر نہیں ہے اور اس میں ایک لفظ یونی جس کے لغوی معنی نشست ، رہائش گاہ کے ہیں ۔ مگر ترجمہ و تشریح میں ایک دوسرا لفظ استعمال کیا جس کے معنی آگ کے ہیں اور اس طرح وید کا جواز پیدا کیا ۔
اس کے علاوہ ، مندرجہ ذیل منتر میں بیوہ عورت کی موت کے منافی ہے ۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بیوہ کو اپنے گھر واپس جانا چاہئے ۔
اٹھو ، دنیا کی زندگی میں آؤ ، اے عورت ، آؤ ، وہ بے جان ہے جس کے سہارے میں تم جھوٹ بولتے ہو ۔ آپ کے شوہر کے ساتھ اس کی زوجہیت آپ کا حصہ تھی ، جس نے آپ کا ہاتھ تھام لیا اور آپ کو ایک عاشق کی طرح بھڑکا دیا ۔
ڈیہجا Dehejia بیان کرتا ہے کہ ویدک ادب میں ستی سے مشابہت رکھنے والے کسی بھی رواج کا ذکر نہیں ہے ۔ ویدوں میں صرف ایک ہی ذکر ہے ، ایک بیوہ عورت جو اپنے مردہ شوہر کے پاس لیٹی ہوئی ہے جس سے کہا جاتا ہے کہ وہ غمگین ہونا چھوڑ دے اور زندہ واپس آجائے ۔ پھر اس کی اولاد اور دولت کے ساتھ خوشگوار زندگی کی دعا کی جاتی ہے ۔ ڈیہجا Dehejia لکھتا ہے کہ اس حوالہ سے ستی کا نہیں بلکہ بیوہ خواتین کی دوبارہ شادی کا اشارہ ملتا ہے ۔ دیہجیہ لکھتا ہے کہ بدھوں کی کتب میں ستی کا ذکر نہیں ملتا ہے ستی کا رواج ہوتا تو اس کا ذکر اور مذمت ضرور ہوتی ۔
عیسوی کے ابتدائی ہزار سال کے مذہبی حوالے
ڈیوڈ برک ساؤتھ ایشین اسٹڈیز کے پروفیسر کہتے ہیں کہ کسی بھی ویدک ادب (وید ، برہمن ، آرن نیک ، اپنشد) یا نہی کسی بھی دھرم سوتروں یا دھرم ساشتروں میں نہ تو ستی اور نہ ہی اس کی اصطلاحات کا ذکر کیا گیا ہے ۔ 
الٹیکر Altekar کے مطابق ویدیں ستی کے بارے میں مکمل خاموش ہیں ۔ اسی طرح گراہا سوتر میں ستی کا ذکر نہیں ہے اور جو کچھ بھی ذکر ہے وہ بیوہ کو اپنے شوہر کی آخری رسومات کے بعد شوہر کے بھائی کے ذریعہ یا کسی قابل اعتماد نوکر کے ذریعہ واپس لایا جانا ہے ۔ اسی وقت سے ہی تیتیریا آرن نیک Taittiriya Aranyaka میں یہ ہے کہ جاتے وقت بیوہ نے اپنے شوہر کے کمان ، سونا اور زیورات (جو پہلے اس کے ساتھ جلا دیا جاتا تھا) اٹھا کر اس امید کا اظہار کیا جاتا کہ بیوہ اور اس کے رشتے دار اس کے بعد خوشحال اور لمبی زندگی گزاریں گے ۔ الٹیکر کے مطابق یہ تو واضح ہے کہ اس سے بہت پہلے بیوہ جلانے کا رواج ختم ہو چکا تھا ۔
لہذا مشترکہ دور سے پہلے کے کسی بھی بنیادی دینی حوالے میں ستی کو رائج کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ اگرچہ ویدوں میں علامتی ستی کے اشارے ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ اپارکا کی بارہویں صدی عیسوی کی تفسیر میں دھرم سوتر اپستمبا Apastamba کے حوالہ سے یہ لکھا ہے کہ اگر کسی بیوہ نے انواہورنا Anvahorana (چٹا پر چڑھ جاؤ) خود کو جلانے کی منت مانی ہے تو نذر کے طور پر اسے لازم ہے کہ اس کو  گناہ سے پاک کیا جائے ۔
پیٹریک اولیویل  Patrick Olivelleکے مطابق چھٹی سے نویں صدی عیسوی کے درمیان وشنو سمریتی میں جب کسی عورت کے شوہر کی موت ہو جاتی ہے تو اسے برہنہ شوہر کی چتا پر ستی کرنی چاہئے ۔ (وشنو اسمرتی 25۔14)
برہمنوں اور ابتدائی دھرم شاستروں میں ستی کا ذکر ہی نہیں کیا گیا ہے ۔ شپٹھ براہمن میں آیا ہے کہ کسی کے ذریعہ خودکشی کرنا نامناسب ہے ۔ یہ ممنوعہ آروتی گیارہویں سے چودہویں صدی تک کے ہندو علماء مثلا کشمیر کے میدھاٹھی کے ستی کے خلاف پیش کردہ دلائل کی متعدد بنیادوں میں سے ایک ہے ۔
والمیکی رامائن
اننت ایس الٹیکر کا کہنا ہے کہ ستی کی مثالیں رامائن کے قدیم حصے میں نہیں ملتیں ہیں ۔ راماشریا شرما Ramashraya کے مطابق رامائن میں ستی کا کوئی حتمی ثبوت نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر تارا ، منڈودری اور راون کی بیویاں ہیں اور سب اپنے شوہر کی موت کے بعد بھی زندہ رہتی ہیں ۔ حالانکہ یہ سب اپنے شوہر کے لئے ماتم کرتے ہوئے مرنے کی خواہش کا کرتی ہیں ۔ پہلی دو نے اپنے دیوروں سے شادی کرلی تھی ۔ ستی کی واحد مثال اتھارا کُنڈا Uttara Kanda میں ملتی ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بعد کا اضافہ ہے ۔ جس میں کوشادہواجہ Kushadhwaja کی بیوہ ستی کرتی ہے ۔ تیلگو کی رامائن رنگناتھ رامائن جو چودہویں صدی کی ہے اس میں سلوچھنا Sulochana جو اندراجیت کی اہلیہ تھی اس کی موت کے بعد ستی کرلیتی ہے ۔
مہابھارت
ستی کی مثالیں مہابھارت میں پائی جاتی ہیں۔ پانڈو کی دوسری بیوی مدری نے ستی کرلیتی ہے ۔ کیوںکہ پانڈو کی موت کے لئے ذمہ دار وہ خود کو سمجھتی ہے ۔ کیوں کہ پانڈو کو جماع کرنے پر موت کی بدعا دی گئی تھی اور اس نے مدوری سے جماع کیا تو اس کی موت واقع ہوگئی ۔ نیز مدری کو سب نے ستی سے باز رکھنے کی کوشش کی ۔ مہابھارت کے مسالہ پروان میں واسودیو کی چار بیویاں ستی کرتی ہیں ۔ مزید برآں جیسے ہی کرشن کی موت کی خبر ہاستنا پور پہنچی تو اس کی پانچ بیویوں نے ستی کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں ۔
مہابھارت کی ان مثالوں کے برخلاف بیواؤں کی ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں جو ستی نہیں کرتی ہیں اور ان پر کوئی الزام نہیں لگایا جاتا ۔
سمرتیاں 200 ق م تا 1200 عیسوی
چار اہم سمرتیاں منو سمرتی 200 قبل مسیح عیسوی ، یجاوالکیا سمرتی 200–500 عیسوی ، نورد سمرتی 100 قبل مسیح تا 400 عیسوی اور ویو سمرتی 700-1000 عیسوی اہم ترین دہرم سوتریں ۔  پارسرا سمرتی ان کے بعد کی ہے ۔
ابتدائی مرحلہ یعنی 200 ق م – 700 عیسویں
منو ، یجاوالکایا اور نورڈا تین ابتدائی سمرتیوں میں ستی کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ 
بعد کی سمرتیاں یعنی 700تا1200 عیسوی کے درمیان ستی پر بحث
موریز ونٹرنیٹز Moriz Winternitz کا کہنا ہے کہ بریہاسپتی سمرتی میں ستی سے منع کیا ہے ۔ برہاسپتی سمرتی کو منو ، یجاوالکیہ اور نوردا کے بنیادی ماخذوں تصنیف کیا گیا تھا ۔
پارسارا سمرتی میں ہے کہ اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے مرنے کے بعد برہم پر عمل کرتی ہے تو مرنے بعد وہ جنت میں جاتی ہے ۔ چاہے اس نے پہلے کتنے ہی گناہ کیے ہوں مگر وہ اپنے شوہر کی وفادار رہی ہو وہ جنتی ہے ۔ ان میں کوئی بھی ستی کو لازمی قرار نہیں دیتا ہے ۔ لیکن پارسرا سمرتی نے زیادہ تفصیل سے ستی کے فوائد پر بات کرتی ہے ۔
پشکوں میں
ڈیوڈ برک David Brick 2010 کے قدیم ہندوستانی ادب کے جائزے میں لکھتے ہیں کہ ویدک ادب یا ابتدائی دھرم سوتروں یا دھرم ستروں میں سے کسی میں سہاگامن (ستی) کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ ابتدائی دھرم سوتروں یا دھرم ستروں کے ذریعہ جس میں خاص طور پر آپسٹمبا ، ہیرانیاکیسن ، گوتم ، بودھیانا اور واسیتھا کے ابتدائی دھرم سوتروں اور منو ، ناردا اور یجنوالکیا کے بعد کے دھرم ستروں دونوں شامل ہیں ۔
ستی کی ابتدائی علمی بحث خواہ وہ صحیح ہو یا غلط سنسکرت ادب میں دسویں سے بارویں صدی کی تاریخ میں پائی جاتی ہے ۔ ستی کے بارے میں قدیم کشمیری عالم میداتھی ستی کو خود کشی کی ایک شکل بتاتا ہے جسے ویدک میں ممنوع کہا گیا ہے ۔ بارویں صدی کے چلکیہ دربار کے وجنیسرا Vijnanesvara اور تیرویں صدی میں مادھو اچاریہ  Madhvacharyaستی کو خودکشی نہیں سمجھتے تھے ۔ وہ ستی کے حق میں اور ستی کے خلاف دلیلں دیتے ہیں ۔ 
آزادی بمقابلہ جنت میں جانا
دھرم شاستروں کی روایتوں میں ستی کو بیواؤں کا اختیار دیتا ہے مگر اس میں قربانی کا تصور برقرار ہے کہ ستی کرنے والی عورت اور اس کا شوہر دونوں سورگ میں داخل ہوسکتے ہیں ۔ لیکن وہ ابدی نہیں ہے ۔ جب کہ بیوہ برہم کی زندگی گزارے تو مکتی ہوسکتی ہے ۔ ستی اس وقت ضروری ہے جب بیوہ کی آنے والی زندگی میں وہ پاک نہ رہے ۔ 
برہمن بیواؤں کے احکام
اگرچہ کچھ سمرتیوں میں ستی کو اختیاری بتایا گیا ہے اور دوسروں نے ستی سے منع کیا ہے ۔ ابتدائی دھرم ستر اسکالر وججنیوارا Vijñanesvara 1076 تا 1127 کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگوں نے برہمن بیواؤں کی ستی پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے ۔ لیکن دوسری ذاتوں کے لیے ایسی کوئی بات نہیں کہی گئی ہے ۔ وجینیوارا اس کی حمایت میں پیتھیناسی Paithinasi اور انجیرس   Angirasکی کتابوں کا حوالہ دیتا ہے کہ وید کے حکم کی وجہ سے برہمن عورت ستی نہیں کرنی چاہئے ۔ لیکن دیگر معاشرتی طبقوں میں روایت ہے کہ جب برہمن ذات کی ایک عورت ستی کرتی ہے تو وہ خود اور اپنے شوہر کو جنت میں لے جاتی ہے ۔ 
تاہم ستیوں پر اسمرتی کی متضاد رائے اور اس کے میتاکارسرا Mitaksara میں وجیاناورا نے استدلال کیا کہ برہمن خواتین کو مرنے والے شوہروں کی چتا کے علاوہ دیگر مقامات پر ستی کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ وجیاورکا نے یجاوالکیا سمتی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک برہمن عورت کو الگ جگہ ستی نہیں کرنا چاہئے ۔ ڈیوڈ برک کا David Brick کہنا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ ستی کی ابتدا قرون وسطی کے جنگجو اور حکمران طبقے میں شروع ہوئی تھی ۔ ستی کی حمایت میں دلائل پیش کرنے کے علاوہ وجنیوارا اس رسم کے خلاف دلائل پیش کرتے ہیں۔
جو لوگ ستی کے حق میں تھے وہ بھی ان خواتین جن کے چھوٹے بچے ہوں ، جو حاملہ ہو حیض آرہی تھی وہ ستی نہ کریں ۔ ایسی عورت جس کے بارے میں شک ہو کہ وہ ستی کرلے گی اس کو متوفی کا بھائی یا کنبہ کا کوئی اور فرد اسے چتا سے ہٹا سکتا ہے ۔
وقت کے ساتھ ارتقاء
ڈیوڈ برک قرون وسطی برصغیر میں ستی کے تاریخی ارتقا کے بارے میں مختصر یہ کہتے ہیں کہ ستی پر دھرماسوتروں کی تحریروں کو تین تاریخی ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ ان میں جو تقریبا پہلی صدی عیسوی کے دوسرے نصف حصے سے مماثلت رکھتا ہے ، سمرتی کتابیں جو سہگامنہ Sahagamana نسخہ پیش کرتی ہیں ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ تاہم تقریبا اس دوران دوسرے برہمنی مصنفین نے بھی بہت ساری سمرتیں تحریر کیں جو خاص طور پر برہمن بیوہ خواتین کو پیش کرتی ہیں ۔ میداتھی Medhatithi خواتین کی ستیوں کا سخت مخالف تھا اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت بھی سہگامنہ کافی متنازعہ تھا ۔ بعد کے دور میں اس کے مخالفت کمزور ہوگئے اور مصنفین سہگامنہ کی حمایت کی جانے لگی ۔ بارہویں صدی کے اوائل میں وججنسورا Vijnanesvara بعد سہگامنہ کا کمتر ترین متبادل براہمکر یا (سنیاس) سمجھا جانے لگا ۔ کیونکہ اس کا نتیجہ صرف جنت ہے ۔ آخر کار تیسرے ادوار میں مصنفین نے سہگامنہ پر اعتراض کو رد کیا ہے اور اس کے نتیجے میں دائمی مسرت کا بتایا ہے جو کہ سہگامنہ بیوہ خواتین کے لئے برہماکریا سے زیادہ اعلیٰ درجہ ہے ۔ لہذا دھرم ساشتر کا لٹریچر سہگامنہ کی تائید اور برہماکریا مکمل طور پر رد کرتا ہے ۔
 لیسلی Leslie کا کہنا ہے تریامباکا کی سوچ کے تحت ستی ہونے سے بری بیوی کے لئے کفارہ ادا کرنے کا واحد واقعی مؤثر طریقہ تھا ۔
ستی کے خلاف میداتھی کی دلیل
ستی کے خلاف متعدد علما جیسے کہ نویں یا دسویں صدی کے کشمیری میداتھی نے کہا کہ نسوانی اصول کی ساکھ کے ساتھ صوفیانہ تانترک روایت بھی ہے ۔
الہیات کاموں کے مبصر میداتھی کی تنقیدوں میں دو دلائل پیش کیے ۔ وہ ستی کو خودکشی کی ایک شکل سمجھتا تھا جسے ویدوں نے منع کیا  تھا ۔ کسی کی زندگی کا دورانیہ ختم ہونے سے پہلے ہی کسی کی موت نہیں ہوگی ۔
میداتھی اسے دھرم (ادھرم) کے خلاف قرار دیا ۔ اس کا استدلال ہے کہ ویدک دھرم کی روایت میں جانداروں کے خلاف کسی بھی طرح کے تشدد کے خلاف پابندی ہے ۔ ستی کی بھی تشدد کا ثبوت ہے اور اس طرح ستی ویدک تعلیمات کے منافی ہے ۔ 
وججنیسراھ
وججنیسرا ستی کی حمایت اور اس کے خلاف دلیلیں پیش کرتا ہے ۔ اس کا پہلا استدلال ہے کہ وید دشمنوں کو روکنے اور جنت کی جستجو کے لئے قربانیوں کی ممانعت نہیں کرتی ہے اور اس وجہ سے ستی کی اجازت ہے ۔ اس کے بعد وہ ستی کے خلاف دو دلائل پیش کرتے ہوئے اسے بلاجواز قرار دیتا ہے ۔ پہلا تسپھا برہمن کے منتر 10,2,6,7 پر مبنی ہے جو خودکشی سے منع کرتا ہے ۔ دوسری دلیل انتخاب یعنی کسی عورت کی خواہش ہوسکتی ہے کہ وہ مردہ شوہر کے ساتھ جنت میں داخل ہوجائے ۔ لیکن زندہ رہنے سے اسے سیکھنے ، عکاسی کرنے اور غور کرنے کے ذریعے نفس کے علم کے ذریعہ موکشا تک پہنچنے کا امکان مل جاتا ہے ۔ ویدک روایت میں ، موکش آسمان سے زیادہ خوبیوں کا حامل ہے ۔ کیونکہ موکشا ابدی بے شک خوشی کی طرف جاتا ہے جبکہ آسمانی دائمی اور چھوٹی خوشی ہے ۔ وجنایسرا Vijnanesvara کے مطابق زندہ رہنے کی صورت میں اسے کہیں زیادہ خواہشوں کو پورا کرنے کا موقع ملتا ہے ۔
اپارکا Apararka
اپارکا نے تسلیم کیا کہ ویدوں میں جانداروں کے خلاف تشدد پر پابندی ہے اور کسی کو قتل نہیں کرنا چاہئے ۔ تاہم اس کی دلیل ہے کہ یہ قاعدہ دوسرے شخص کے خلاف تشدد کی ممانعت کرتا ہے  لیکن اگر کوئی چاہے تو اسے قتل کرنے سے منع نہیں کرتا ہے ۔ اس طرح ستی ایک عورت کا انتخاب ہے اور ویدک روایت سے اس کی ممانعت نہیں ہے ۔ 
ہندو مت کے جوابی دلائل
ہندو مت کے اندر اصلاحات اور بھکتی تحریکیں جو مساوات کی حامی تھیں اور عام طور پر بعض اوقات ستی کی مذمت کی ۔ بارویں صدی کی ویراشیوا تحریک نے ستی کی مخالفت کی ۔ بعدازاں ویشنویت سوام نارائن سمپرادیا Vaishnavite Swaminarayana sampradaya  کے بانی سہجنند سوامی Sahajananda Swami نے مغربی ہندوستان میں اٹھارویں صدی میں ستی کے خلاف 1818 میں برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کو دی گئی درخواست میں رام موہن رائے نے لکھا ہے کہ یہ تمام واقعات ہر شاسترکے مطابق قتل ہوتے ہیں ۔

ماخذ ۔ انگش وکی پیڈیا
تہذیب و تدین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں