73

ستی کا ریکاڈ

گپتا سلطنت (عیسوی 400 عیسوی) سے قبل ستی کے کچھ حوالے ملتے ہیں ۔ ان لوگوں میں جو ستی کا حوالہ دیتے ہیں یونان کے مورخ ارسطو بلس Aristobulus جو سکندر کے ساتھ ہندوستان گیا تھا اور 327 قبل مسیح اسٹربو Strabo کے کچھ بیانات جو محفوظ رہ گئے محفوظ ہیں ۔ 
ارسطو بلس کے مطابق ٹیکسلا کچھ قبائل میں بیوائیں اپنے شوہر کے قبر پر خود کو قربان کرتی ہیں ۔ ایک اور مصنف کے مطابق قربانی نہ کرنے والی عورتوں کو برا سمجھا جاتا ہے ۔ مگر میگھنیز Megasthanese (300 ق م) اس کا ذکر نہیں کرتا ہے ۔
ڈیوڈورس Diodorus نے کیٹس Ceteusکی بیویوں کے بارے میں لکھا ہے جو یمینز Eumenes کے ہندوستانی سردار کی پیراٹاکینی  Paraitakene 317 قبل مسیح کی جنگ میں موت کے بعد لکڑیوں کے ایک الاؤ میں کود کر خود کو نذر آتش کرلیا ۔ 

ٍ دو دیگر واقعات دمشق کے سیسرو Cicero اور نیکولس Nicolaus نے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اپنے شوہروں کی موت کے بعد رضاکارانہ طور پر اپنے کو جلا کر ہلاک کرلیا تھا ۔
 ماہر آثار قدیمہ ایلینا ایفیموانا کوزیمینا Elena Efimovna Kuzmina قدیم ایشیا کے میں (1800 تا 1400قبل مسیح) اور ویدک عہد کے تدفین کے خیال میں ستی کو دوہری تدفین سمجھا جاتا ہے ۔ یعنی ایک مرد اور عورت یا شوہر اور بیوی کا مشترکہ جنازہ ۔ جس کی ایک خصوصیت دونوں ثقافتوں میں پائی جاتی ہے ۔ کوزمینہ بیان کرتی ہے کہ انڈروو ثقافت اور ویدک دور میں اس یہ علامتی تھا ۔
ابتدائی سنسکرت کے کچھ مصنفین جیسے داؤکوما کاراکیریتDasakumaracarita میں داؤن Dandin اور ہرشیچاریت Harshacharita میں بنا بھٹ Banabhatta نے ذکر کیا ہے ۔ بانا Bana یاسمومتی Yasomati کے بارے میں بتاتا ہے کہ اس نے ستی ہونے کا ارادہ کرلیا تھا اور اپنے رشتہ داروں اور نوکروں کو الوداع کرنے بعد وہ اپنے زیورات وغیرہ لوگوں میں بانٹ دیئے ۔ جب کہ پربھاکار واردھن کی موت واقع ہوچکی تھی ۔ اروند شرما Arvind Sharma نے بتایا کہ یہ ستی کی ایک اور شکل ہے ۔ اسی کام میں ہرشا کی بہن راجیاسری کا ذکر ہے کہ وہ اپنے شوہر کے مرنے کے بعد ستی کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ کدامبری Kadambari میں ہے کہ بانا Bana ستی کی بہت مخالفت کرتا ہے اور ایسی خواتین کی مثالیں پیش کرتا ہے جنہوں نے سہگامنا sahgamanaکا انتخاب نہیں کیا تھا ۔
ایکسل مائیکلز Axel Michaels کے مطابق ستی کا سب سے قدیم ثبوت 464 عیسوی میں نیپال سے اور 510 عیسوی میں ہندوستان سے ستی کے کتنے کی صورت میں ملا ہے ۔ ابتدائی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ عام لوگوں میں بیوہ جلانے کا عمل شاذ و نادر ہی ہوتا تھا اور صدیوں کے بعد ستی کے یادگاری کتبے ملنا شروع ہوئے ۔ جے سی ہارلے J.C. Harle کے مطابق قرون وسطی کے یہ یادگاری کتبہ دو شکلوں ویرگل (ہیرو کتبے) اور ستی گل (ستی کتبے) ملے ہیں – یہ کتبات ہندوستان کے بہت سے علاقوں میں پائے جاتے ہیں ۔ بیشتر کتبات 11 ویں صدی کے ہیں اور شاذ و نادر ہی آٹھویں یا نویں صدی کے ہیں ۔ یہ زیادہ تر راجستھان میں ملے ہیں ۔ جب کہ جنوبی ہندوستان میں چولا سلطنت میں ستی کی بہت کم کتبے ملتے ہیں ۔ وان راج مہولاوی Vanavan Mahadevi ، راجراج چولا اول Rajendra Chola I (گیاویں صدی) کی ماں اور راجندر چولا اول Rajendra Chola I (دسویں صدی) کی ملکہ ویرامہاڈوی Viramahadevi نے اپنے شوہر کی موت کی بعد ستی کا ارتکاب کیا تھا ۔
گوپراجا کا ایرن کتبہ گپتا راجہ بھانگوپت Bhanugupta (510 عیسوی) کے دور کا ابتدائی ستی کا کتبہ سمجھا جاتا ہے ۔ آنند اے یانگ Anand A. Yang کے مطابق ستی جنگجو اشرافیہ میں مروج تھی اور یہ ہندوستان کے مسلمان حملوں کی وجہ سے یہ زیادہ پھیل گئی تھی ۔ یعنی وہ عورتیں اپنی عزت بچائیں جن کے مرد مارے گئے ہوں ۔ جوگن شنکر کا کہنا ہے کہ مسلم فتوحات کے دوران جوہر کی رسم کی وجہ سے بھی ستی کا رواج راجپوتوں میں ہوا ۔ لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ ستی راجپوتوں میں ساتویں صدی عیسوی میں مروج ہوئی اور اٹھارویں صدی میں بنگال میں اس میں تیزی آگئی ۔ تاہم یہ نظریہ قبل از اسلام کے زمانے میں ستی کے کبھی کبھار واقعات ملتے ہیں ۔ 510 عیسوی کے ایرن میں لکھے گئے گوپاراجا کی بیوی کا ذکر ہے جو بھنگوپت کی ایک سل پر ہیں جو ستی پتھر سمجھا جاتا ہے ۔ ودیا دیہیجا Vidya Dehejia کا کہنا ہے کہ 500 عیسوی کے بعد ہی ستی باقاعدہ شروع ہوئی ۔ یہ کشتریوں میں شروع ہوئی اور یہ زیادہ تر جنگجو طبقے تک ہی محدود رہی تھی ۔ ینگ Yang کا کہنا ہے کہ یہ رسم ان لوگوں نے شروع کی جو شاہی حقوق اور اعلی جنگجوؤں درجہ چاہتے تھے ۔
نیپال
ستی کے بارے میں برصغیر سب سے قدیم کتبہ پانچویں صدی عیسویں کا نیپال میں پایا گیا ہے ۔ جس میں راجہ نے اپنی ماں کو راضی کرلیا تھا کہ وہ اس کے باپ کی موت کے بعد ستی نہ کرے ۔ اس شیلا لاٹھ سے پتہ چلتا ہے کہ ستی کا رواج تھا ۔ جب کہ نیپال نے 1920 میں ستی پر پابندی عائد کی ۔
کونکن/مہاراشٹر
نارائن ایچ کلکرنی کا خیال ہے کہ راجپوت نسل کا دعوی کرنے والے مراہٹوں میں قرون وسطی کے مہاراشٹرا میں ستی کا رواج بڑھا ۔ کلکارنی کے مطابق اس خطے میں مسلم ترقی کے پیش نظر ستی کے رواج اور ذات پات کے امتیازات میں اضافہ ہوا ۔ لیکن راجستھان یا بنگال میں یہ امتیازات کبھی بھی حاصل نہیں ہوسکا اور بیوہ عورت کو ستی سے روکنے کے لیے معاشرتی رواج ہیں ۔ بظاہر ستی کی ایک بھی مثال سترویں اور اٹھارویں صدی عیسوی میں تصدیق نہیں کی گئی ہے ۔
ٍٍ وجیانگر سلطنت
وجیا نگر ریاست میں کئی ستی پتھر ملے ہیں ۔ یہ پتھر بیوی کی شوہر کی موت کے بعد ستی کی یادگار نشان کے طور پر کھڑے کیے گئے تھے ۔ مگر اس سلطنت کے دور کے ستی کتبہ نایاب ہیں اور صرف 50 مختلف کتبات واضح طور وجیانگر کے دور کے شناخت ہوئے ہیں ۔ اس طرح کارلا ایم سونوپولی Carla M. Sinopoli نے ورگیز Verghese کے حوالے سے یورپی سیاحوں ستی کی نشاندہی کی ہے ۔
مدورائی
ایسا لگتا ہے کہ مدورائی کا نائک خاندان (1529 تا 1736) نے بڑے پیمانے پر ستی کو اپنایا تھا ۔ ایک جیسوٹ پادری نے 1609ء مدورائی میں نایک متو کرشنپپا کی موت پر 400 خواتین کی ستی کو دیکھا تھا ۔
کانگو ناڈو
تامل ناڈو کے علاقے کانگو ناڈو میں تمام مقامی کانگو ذاتوں کے سب سے زیادہ ویرا مہا ستی یا ویرماتی مندر ہیں ۔
میسور کی شہزادی
میسور کی ریاست کے دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ایک راج کماری کو ستی کی اجازت دی گئی تھی ۔ دیوان پورنیا نے 1805 میں ایک برہمن بیوہ کو ستی کی اجازت دی تھی ۔ جبکہ 1827 میں بنگلور میں ایک بیوہ کی ستی کو دیکھنے والے شخص نے کہا یہاں عام بات ہے ۔
گنگا سادہ
بالائی گنگا کے میدان میں ستی ہوئی کے بارے کوئی اشارہ نہیں ملتا ہے ۔ اس وسیع علاقہ ستی کو روکنے کی ابتدائی کوشش سلطنت دہلی کے محمد تغلق بادشاہ نے چودویں صدی کی تھی ۔
نچلے میدان میں ستی کا رواج زیادہ ہوچکا تھا ۔ اس خطے اٹھارویں صدی کے آخر میں اور انیسویں صدی کے اوائل میں بنگال اور بہار میں بڑی تعداد میں ستیاں ہوئیں تھیں ۔
تعداد
ستی کے شواہد پورے برصغیر میں ملتے ہیں ۔ تاہم مختلف علاقوں میں اور معاشروں میں بڑا فرق موجود ہے ۔ مزید برآں عام طور پر ستی میں مرنے والیوں کے کوئی قابل اعتماد اعداد و شمار موجود نہیں ہیں ۔
ایک مسیحی مشنری تنظیم کی 1829 کی رپورٹ میں دیگر چیزوں کے علاوہ ستی کے اعداد و شمار بھی شامل ہیں ۔ یہ رپوٹ اس اعلان سے یہ شروع ہوتی ہے کہ تمام قوموں کے مشنوں کا مقصد ان کے مسیح کی انجیل کو ان نظاموں کا متبادل بنانا ہے ۔ اس کے بعد 1815 تا 1824 کے عرصے کی سالانہ ستی کی فہرست ملتی ہے جس کی مجموعی تعداد 5,369 ہے ۔ اس کے بعد ایک بیان سامنے آیا ہے کہ بنگال کی برطانوی حکومت کے علاقہ میں 10 سال کے عرصہ میں 5,997 خواتین کو جلایا یا زندہ دفن کیا گیا ۔ یعنی ہر سال اوسطاً 600 ۔ اسی رپورٹ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ مدرس اور بمبئی کے برطانوی علاقہ میں نے اسی دس سالہ مدت کے دوران ستی کی مجموعی طور پر 635 واقعات ہوئے ۔ 1829 کی مشنری رپورٹ اپنے ذرائع سے رپوٹ فراہم نہیں کرتی ہے اور تسلیم کرتی ہے کہ سوتھیوں کے ذریعہ ہونے والی ستیوں کی تعداد مستند نہیں ہیں اور کہا گیا ہے کہ کچھ اعداد و شمار قیاس پر مبنی ہیں ۔ ینگ Yang کے مطابق یہ رپوٹ ابہام سے بھری ہوئی ہے ۔
ولیم بینٹینک نے 1829 کی ایک رپورٹ میں سال یا مدت کی وضاحت کیے بغیر کہا ہے کہ فورٹ ولیم کے زیر دست علاقہ میں 463 ستیاں ہوئیں ۔ بنگال ، بہار اور اڑیسہ کے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہوئے اور ان میں سے 287 واقعات صرف کلکتہ ڈویژن میں ہوئے ۔ بالائی صوبوں کے لئے لارڈ بینٹینک نے بتایا کہ ان صوبوں میں بیس لاکھ کی آبادی میں ستیوں کی تعداد تینتالیس ہے ۔ یعنی اوسطاً ایک ستی فی 465,000 افراد پر ۔
معاشرتی ترکیب اور عمر کی تقسیم
آنند یانگ Anand Yang انیسویں صدی عیسوی کے اوائل میں ستی کے رجحان کے بارے میں کہتا ہے کہ ستی کا رجحان صرف اعلی طبقے کے رجحان محدود نہیں تھا ۔ بلکہ ہر طبقے یا ذاتوں میں اس کا پھیلا ہوا تھا ۔ مثال کے طور پر 1823 میں 575 میں واقعات درج ہوئے ۔ ان میں 41 فیصد برہمن ، 6 فیصد کشتری ، 2 فیصد ویش اور 51 فیصد شودر تھے ۔ بنارس میں 1815 تا 1828 کے برطانوی ریکارڈوں میں اعلی ذاتوں کی نمائندگی 70 فیصد سے بھی کم تھی ۔ مگر 1821 میں وہاں تمام ستی ہونے والی عورتوں کا تعلق اعلیٰ ذاتوں سے تھا ۔
ٍ یانگ نے نوٹ کیا کہ بیوہ عورتوں کو جوانی میں ستی پر زور یا گیا تھا ۔ تاہم 1815 سے 1828 تک کے برطانوی اعداد و شمار کے مطالعے سے یانگ کا کہنا ہے کہ ستی ہونے والی خواتین کی اکثریت بڑی عمر کی عورتیں تھیں ۔ 1825 تا 1826 کے اعداد و شمار کے مطابق بشتر ستی کرنے والی عورتیں 40 سال سے زیادہ عمر کی تھیں ۔
واقعات کی علاقائی تغیرات
آنند یانگ نے ستی کے واقعات میں علاقائی تغیر کا خلاصہ اس طرح پیش کیا ہے ۔
ستی کبھی بھی عام نہیں رہی بلکہ یہ کچھ علاقوں تک ہی محدود تھی ۔ شمال میں گنگاکی وادی ، پنجاب اور راجستھان ۔ مغرب میں جنوبی کونکن علاقے میں اور جنوب میں مدورائی اور وجیاناگرا تک ۔
ماخذ ۔ انگش وکی پیڈیا
تہذیب و تدین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں