69

ستی کی ترقی کے نظریات

مسلمانوں اور ہندوؤں کی لڑائیوں میں راجپوتوں نے جوہر کی رسم سے ستی کو اجتماعی اور ایک الگ شکل میں پیش کیا ۔ ایسا لگتا ہے کہ ہندو اور مسلمانوں کی لڑائیوں کی وجہ سے ستی کو وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا ۔ 

ٍ قرون وسطی کے زمانے میں ہندو عورتوں و بیوائوں نے مسلمانوں کی ریاستوں میں غلامی کے طریقوں کی وجہ سے انتہائی ذلت کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ لہذا بیوہ ہونے والی عورتوں نے ستی کا انتخاب کیا ۔ 1885 میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی میں ولیم جونس William Jones نے ایک جیوری کے سامنے بنگال میں غلاموں کی حالت کو یوں بیان کیا ۔
ہمارے دائرہ اختیار میں غلاموں کے حالات جو ہمارے علم میں ہیں ۔ اس شہر کے کسی کونے میں شاید ہی کوئی مرد یا عورت ایسی ہو جس کے پاس کم از کم ایک نوکرانی نہیں ہو ۔ میرا خیال ہے کہ آپ میں سے بہت سوں نے بڑی تعداد میں دریا میں بچوں سے بھری ہوئی کشتیاں دیکھی ہوں گیں جو کلکتہ میں فروخت کے لئے آتی ہیں ۔ 
ستی کے پھیلاؤ کے دوسرے نظریات میں کشتریوں سے دوسری ذاتوں میں پھیلنا جنگوں کی وجہ سے نہیں بلکہ ہندو مذہب کی ترقی اور ثقافتی مظہر نے ستی کو ذات پات کی علامت قرار دیا ہے ۔ مگر اس نظریہ کو رد کیا گیا کیونکہ کشتریوں سے برہمنوں میں ستی کے پھیلاؤ کا ثبوت نہیں ملتا ہے اور برہمنوں کو کھتریوں سے کمتر ذات کا درجہ نہیں سمجھا جاتا ہے ۔ روشن دلال کے مطابق کچھ پرانوں میں اس کا اشارہ ہے کہ آہستہ آہستہ اس میں پانچویں تا ساتویں صدی کے دوران ستی میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ۔ بعد میں اعلی طبقوں خاص طور پر راجپوتوں میں دسویں عیسوی کے آس پاس اس کا رواج ہوگیا ۔
ییل Yale یونیورسٹی کے ڈیوڈ برک David Brick نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی پہلی صدی کے دوسرے نصف حصے میں ستی کشمیر کے برہمنوں میں رائج تھی ۔ ہوسکتا ہے کہ پشک کے مصنف نے اپنی ہی برادری میں موجود طریقوں کا ذکر کیا ہو ۔ کیوں کہ خیال کیا جاتا ہے کہ وشنو سمرتی کشمیر میں لکھی گئی ہیں۔ اینریکا گارزلی Enrica Garzilli نے بتایا ہے کہ ستی پہلی صدی قبل مسیح میں سیاہ یجوروید black Yajurveda کے کتھا کے درمیان موجود تھا ۔ برک کے مطابق سہگامنا کا ذکر کرنے والے دھرم سترا کے کی تاریخیں یقین کے ساتھ معلوم نہیں ہیں ۔ اگرچہ ہندوستان بھر میں مذہبی طبقہ ستی سے واقف تھا اور بارویں صدی تک یہ عام ہوچکا تھا ۔
ایک اور نظریہ یہ ہے کہ ستی ایک غیر منطقی طبقاتی آدرش کے نظریہ کے طور پر شروع ہوا ۔ لیکن بعد میں بہادری ، غیرت ، پاکیزگی اور جوہر کی علامت کی حیثیت سے پھیل گیا جو ستی سے مختلف تھا ۔ اگرچہ اسیری سے بچنے کے لیے مسلم فتوحات اور دیگر غیر ملکی حملوں میں عصمت دری ، تشدد اور دیگر ذلتوں سے بچنے کے لئے اپنایا گیا اور بعد میں برہمنوں نے اسے اپنالیا ۔ ہوسکتا ہے کہ یونانی فاتحین کا عورتوں کی غلامی کا رد عمل ہوسکتا ہے ۔
ان نظریات میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ نوآبادیاتی عہد کے دوران خاص طور پر نوآبادیاتی بنگال صدارت (جدید بہار ، جھارکھنڈ ، مغربی بنگال ، بنگلہ دیش اور آسام) میں نمایاں تعداد میں ستی کا عمل دوبارہ شروع کیوں ہوا ۔ اس بارے میں تین نظریے ہیں ۔ پہلا یہ کہ سمجھا جاتا ہے کہ انیسویں صدی میں ستی کو ہندو صحیفوں کی تائید حاصل تھی ۔ دوسرا ستی کی غیر مہذب لوگوں نے حوصلہ افزائی کی ۔ کیونکہ ایک بیوہ عورت سے جائیداد وابستہ تھی اور اپنے مردہ شوہر کی وارث تھی ۔ ہندو قانون اور ستی نے اس وراثت کو ختم کرنے میں مدد کی اور تیسرا نظریہ یہ ہے کہ انیسویں صدی کے دوران غربت اس قدر حد تک بڑھ چکی تھی کہ ستی عورت کے بچنے کا واحد ذریعہ تھا جس کے پاس بقا کی کوئی امید نہیں تھی ۔
لتا مانی Lata Mani کا کہنا ہے کہ برطانوی نوآبادیاتی دور کو خواتین کے سنہری دور سے تعبیر کیا جس میں مسلم فتوحات سے کمی آئی تھی ۔ اس کے نتیجہ میں انگریزوں کا ہندو ہندوستان کو اسلامی ظلم سے بچانے کے نظریہ کو فروغ ملا ۔ انگریزوں نے باضابطہ تشریحات سے یہ بتانے کے لئے کی کوشش کی کہ ستی کو مینڈیٹ نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ ان کے تہذیبی مشن کا حصہ تھا ۔ ڈینیئل گرے Daniel Grey کا کہنا ہے کہ انیسویں اور بیسویں صدی میں ہندوؤں کے نظریات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی وجہ سے نوآبادیاتی دور میں ستی کے پھیلاؤ کی تفہیم کو مسخ کیا گیا ۔
مغل سلطنت
انیمری شمل Annemarie Schimmel کے مطابق مغل شہنشاہ اکبر ستی کے خلاف تھا ۔ لیکن اس نے ان عورتوں کی تعریف کی ہے جنہوں اپنے شوہروں کے مرنے کے بعد ستی کرلی تھی ۔ تاہم اکبر زبردستی ستی کا مخالف تھا اور 1582 میں اکبر نے زبردستی ستی کو روکنے کے لئے ایک حکم جاری کیا تھا ۔ جنوبی ایشین اور عالمی تاریخ کے ماہر پروفیسر ایم رضا پیر بھائی کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ اگر اکبر نے ستی پر پابندی عائد کی گئی تھی اور اس کی کسی ذرائع سے تصدیق نہیں ہوتی ہے ۔ ستی کے واقعات اکبر کے دور اور اس کے بعد بھی جاری رہے ۔ مثال کے طور پر محمد رضا نوئی 1610)و) کی ایک نظم ’سوز گداز’ میں ذکر ہے کہ اکبر نے ایک بیوہ کو مال و دولت کا لالچ دے کر اسے ستی سے کوشش کی ۔ یہ شاعر اکبر کے تیسرے بیٹے شہزادہ دانیال کو اس کی اطلاع دیتا ہے ۔ ہندو مذہب کے ماہر پروفیسر اروند شرما کے مطابق بیوہ نے برہمنوں کو بھی مسترد کردیا جو آگ کے سوا کچھ نہی بولتے تھے یا سنتے تھے ۔
جہانگیر جو اکبر کا جانشین تھا اس نے راجور (کشمیر) کے مسلمانوں میں بھی ستی کا رواج پایا ۔ ان مسلمانوں نے سلطان فیروز نے اسلام قبول کیا تھا ۔ اس دور میں بہت سے مسلمان اور ہندو اس رسم پر عمل کرتے تھے ۔ شواہد سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ستی کی تعریف ہندوؤں نے کی تھی ۔ لیکن دونوں ہندو اور مسلمان بڑی تعداد میں ستی کر رہے تھے ۔ رضا پیر بھائی کے مطابق ، جہانگیر کے دور حکومت میں ستیاں جاری تھیں اور ہندوؤں اور مسلمانوں میں اس کا رواج تھا ۔ کشمیری مسلمان بیوائیں نے ستی کی پیروی میں یا تو خود کو جلایا یا اپنے مردہ شوہروں کے ساتھ خود کو زندہ دفن کردیا تھا ۔ جہانگیر نے کشمیر میں ستی اور دیگر روایتی رواجوں پر پابندی عائد کردی تھی ۔
شیخ محمد اکرام نے لکھا ہے کہ اورنگ زیب نے 1663 میں کشمیر سے واپس آنے کے بعد مغل سلطنت کے علاقوں میں عورتوں کے ستی ہونے پر پابندی عائد کردی اور حکم دیا کہ کسی عورت کو نذر آتش نہیں ہونے دینا چاہیئے ۔ شیخ محمد اکرام کے مطابق پابندی کے باوجود اورنگ زیب کے عہدیداروں نے رشوت لے کر ستیوں سے ان سنی کردی ۔ تاہم یوروپی سیاحوں کے بیانات سے معلوم ہات ہے کہ مغل سلطنت میں ستی کا رواج زیادہ نہیں تھا اور بہت کم عورتیں ستی ہوئیں ۔ ان میں کچھ راجاؤں کی بیویاں اور کچھ دوسری عورتیں تھیں ۔
یورپی تاجروں کی یادداشتوں میں اور برطانوی ہند کے نوآبادیاتی دور کے مسیحی مشنریوں نے مغل حکمرانوں کے دور میں ستی کے مختلف طریقوں کو بیان کیا ہے ۔ ہسپانوی مشنری ڈومنگو نیولارٹی Domingo Navarrete نے 1670 اورنگ زیب کے زمانے میں ستی کے مختلف طریقوں کے بارے میں لکھا ہے ۔
رالف فچ Ralph Fitch نے 1591 میں لکھا ہے جب شوہر کی موت واقع ہو گئی تو اس کی بیوی اس کے ساتھ جلا دی جاتی ہے ۔ اگر وہ نہیں مانے اور زندہ رہنا چاہتی ہے تو اس کا سر منڈوا دیا گیا ہے اور اس کو نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔ فرانسواس برنیئر François Bernier نے لاہور میں میں نے ایک خوبصورت عورت ستی ہوتے دیکھا اس کی تفصیل بیان کی ہے ۔ وہ لکھتا ہے کہ اس کی عمر بارہ سال سے زیادہ نہیں ہوگی ۔ وہ غریب چھوٹی سی مخلوق جب خوفناک گڑھے کے قریب پہنچی تو وہ زندہ سے زیادہ مردہ دکھائی دیتی تھی ۔ وہ اذیت کی وجہ سے جو اس کی برداشت سے باہر تھی میں کانپ اٹھا ۔ وہ بری طرح سے رو رہی تھی لیکن تین یا چار برہمنوں نے اس بوڑھی عورت کی مدد سے جس نے اسے بازو کے نیچے تھام رکھا تھا اسے ایک لکڑی پر بیٹھا کر اس کے ہاتھ پاؤں باندیئے تھے کہ ایسا نہ ہو کہ وہ بھاگ جائے اور پھر اس معصوم کو زندہ جلا دیا گیا ۔
ماخذ ۔ انگش وکی پیڈیا
تہذیب و تدین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں