76

ستی

تاریخ میں ستی پر کس حد تک عمل کیا گیا تھا یہ درست طور پر معلوم نہیں ہے تاہم مغل دور کے ہندو راجپوت قبیلوں سے ستی کا تصور وابستہ تھا ۔ انیسویں صدی کی ابتدا میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں اپنی حکمرانی کا دائرہ بڑھانے کی وجہ سے اسے برداشت کیا تھا ۔ ایک برطانوی مشنری ولیم کیری نے کلکتہ شہر میں ستی پر پابندی کے باوجود 1803 میں 30 میل یا 48 کلومیٹر کے دائرے میں 438 واقعات نوٹ کئے گئے ۔ 1815 سے 1818 کے درمیان بنگال میں ستی کے واقعات کی تعداد 378 سے بڑھ کر 839 ہوگئی ۔ کیری جیسے برطانوی عیسائی مبلغین اور رام موہن رائے جیسے ہندو اصلاح پسندوں کی ستی کی مخالفت کے نتیجے میں بالآخر برطانوی گورنر جنرل لارڈ ولیم بینٹینک نے بنگال ستی ریگولیشن 1829 نافذ کیا جس کے بعد ہندو بیواؤں کو زندہ جلانے یا دفن کرنے کے رواج کے جرم اور عدالتوں کے ذریعہ قابل سزا قرار دیا ہے ۔ ان کے ساتھ کے دیگر معاملات پر بھی قانون سازی کی گئی تھی ۔ جس میں ہندو بیوہ کی ازدواجی زندگی سے متعلق ایکٹ 1856 ، خواتین انفائڈسائڈ پروینشن ایکٹ 1870 اور ایج آف کانسنٹ ایکٹ ، 1891 شامل ہیں ۔

ٍٍ ستی پر پابندی کے باوجود 20 ویں صدی کے میں ہندوستان میں ستی کے مختلف واقعات پیش آئے ۔ جس کی روک تھام کے لیے بھارتی حکومت نے 1987 ایکٹ نافذ کیا ۔ جس میں ستی کی کوشش اور مدد کرنے والے کو مجرم قرار دیا جاتا تھا ۔ بھارتی کمیشن برائے ستی (روک تھام) ایکٹ 1987 حصہ اول سیکشن 2 (سی) نے ستی کو عمل کے طور پر بیان کیا ہے یا خود ہی اس کا تدارک کیا ہے ۔
ستی کے طریقہ کار
اگرچہ ستی عام طور پر اس طرح ہوتی ہے کہ بیوہ کو اپنے شوہر کی چتا کے قریب ہوتی ہے اور وہ موقع ملنے پر چتا میں چھلانگ لگا دیتی ہے ۔ لیکن علاقے کے لحاظ سے یہاں بھی ستی کے طریقہ کار میں علحیدہ ہوتے ہیں ۔ سترویں صدی کے وسط میں سیاح ٹرونر Tavernier کا نے بتایا تھا کہ کچھ علاقوں میں ایک چھوٹی سے جھونپڑی تعمیر کرکے اس کے اندر بیوہ اور اس کے شوہر کو نذر آتش کر دیا جاتا تھا ۔ جب کہ دوسرے علاقوں میں ایک گڑھا کھود کر اس میں شوہر کی لاش کو نذر آتش کیا جاتا تھا اور آگ بھڑکنے کے بعد بیوی نے چھلانگ لگا دیتی ہے ۔ انڈونیشیا کے ایک جزیرے لومبوک میں انیسویں صدی کے وسط میں مقامی بالیوں میں ایک بیوہ نے خود کشی کی تھی ۔ لیکن صرف شاہی نسل کی بیوہ خواتین خود کو زندہ جلا سکتی تھیں (دوسروں کو چھرا مار کر قتل کیا تھا) ۔ جب کہ آگ کے سامنے بانس کا ایک اونچا پلیٹ فارم کھڑا کیا گیا تھا اور جب آگ کے شعلے بلند ہوگئے تو بیوہ اس پلیٹ فارم پر چڑھ گئی اور آگ میں چھلانگ لگادی اور جل مریں ۔
اصلاحات
ستی کے معنی پاکیزہ اور اچھی کے ہیں اور اینگلو انڈین یا انگریزی مصنفین اس کے لیے سوٹی Suttee کی اصطلاح عام طور پر استعمال کرتے تھے ۔ ستی اس رسم کا نام ہے جو اصل میں عورت کو قربانی کے لیے نامزد کرتی ہے ۔ اس رسم کے تکنیکی ناموں میں سہاگامنا Sahagamana (ساتھ جارہے ہیں) ، سہمارنہ Sahamarana (مرنا) اور انواروہنا Anvarohana (چتا پر چڑھنا) بھی ملتے ہیں اور شرائط کے ساتھ ستیدہا Satidaha اور ستیپارتا Satipratha بھی بیواؤں کو زندہ جلانے کی اصطلاح کے طور پر استعمال ہوتی ہے ۔ ستی سے متعلق دو اور اصطلاحات ستی ورتا Sativrata اور ستی ماتاا Satimata ہیں ۔ ستی ورتا Sativrata ایک غیر معمولی اور شاذ و نادر استعمال شدہ اصطلاحاً اس عورت کی نشاندہی کرتی ہے جو اپنے شوہر کے زندہ رہنے کے وقت اس کی حفاظت کرنے کے لئے وراتا vrata (نذر) پیش کرتی ہے اور پھر اپنے شوہر کے ساتھ مرجاتی ہے ۔ ستی ماتا Satimata اس عورت کو پیش کرتی ہے جس نے ستی کا ارتکاب کیا ۔
ہندو عورت کی زندگی کے مراحل
بنیادی طور پر ایک ہندو شادی شدہ عورت کی زندگی کے تین مراحل تھے ۔ پتی ورتا pativrata، ستی ورتا sativrata اور ستی ماتا satimata ۔
شوہر کی چتا کے ساتھ زندہ جل جائے تو ستی ماتا satimata کا درجہ حاصل ہوجاتا ہے ۔
پتی ورتا pativrata
اپنے شوہر کی زندگی کے دوران ایک پتی ورتا یا فرض شناس بیوی ۔ پتی ورتا اپنے شوہر کہ عقیدت مند ، تابعدار اور اس کی محافظ بھی سمجھی جاتی ہے ۔ اس کا فرض ہے کہ وہ شوہر اور اس کے ماں باپ ، بچوں اور گھر کی سیوا اور حفاظت اور خیال رکھے ۔ لیکن اس کی پتی کی موت واقع ہوجاتی تو اس کا بھی کچھ قصور ہوتا ہے ۔ کیونکہ وہ اس کی موت سے حفاظت نہ کرسکی ۔ وہ اپنے پتی کی چتا کے مقام پر ایک پختہ یادگار بناتی ہے اور پتی ورتا وہ اپنی تک کہلاتی ہے ۔ یعنی یہ وہ مرحلہ ہے جب اس کی شادی کے بعد اور اس کی موت تک جاری رہتا ہے ۔
ستی ورتا sativrata
مگر ایک پتی ورتا عورت اپنے شوہر ے موت کے بعد اس کی لاش کے ساتھ زندہ جلنے یا ستی کی نذر مان لے تو اس پر سے شوہر کی موت الزام ختم ہوجاتا ہے اور وہ اس قابل ہوجاتی ہے کہ شوہر کی موت کے بعد کی زندگی کو نئے خطرات سے بچائے اور وہ ایک ستی ورتا بن جاتی ہے ۔
ستی ورتا کا مقام اس کے ستی ہونے تک جاری رہتا ہے ۔ اب وہ مقدس دیوی کا روپ اختیار کرلیتی ہے ۔ ستی ورتا کے بارے میں لوگوں کا عقیدہ ہوتا ہے کہ اسے مافوق الفطرت قوتیں مل جاتی ہیں اور اس کے منہ سے جو کچھ نکلتا ہے وہ لازمی پورا ہوتا ۔ اس کے خاندان کے افراد اور دوسرے لوگ اس کا احترام کسی دیوی کی طرح کرتے ہیں ، اس سے ڈرتے ہیں اور اس کو ناراض نہیں کرتے ہیں ۔ اس کی پیش گوئیاں ، بدعائیں اور دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں ۔ اس کے دی ہوئی چیزوں کو قیمتی اور مقدس ہوتی ہیں اور ستی ورتا کی طرح انہیں بھی پوجا جاتا ہے ۔ اس کا اپنے گھر سے مسان یا شمسان گھاٹ کا سفر اہم اور مقدس ہوتا اور اس دوران لوگ اس کے لباس اور وہ چیزیں جو اس کے بدن پر ہوتا ہے کو چھونے کی کو شش کرتے ہیں تاکہ انہیں برکت حاصل ہو ۔ اس سفر کے دوران وہ جس چیز کو چھولے وہ بھی مقدس ہوجاتی ہے ۔
ستی ماتا Satimata
یہ وہ مرحلہ ہے جب عورت ستی جاتی ہے اور اب وہ ستی ماتا کہلاتی ہے ۔ اس عورت کی ستی سے اس کے خاندان کا معاشرے میں مقام بلند ہوجاتا ہے اور اب ستی ماتا اپنے گھر اور خاندان کی محافظ بن جاتی ہے ۔ اب دیوی کا روپ دھار لیتی ہے جس کی باقاعدہ پوجا کی جاتی ہے ۔ ستی ماتا اپنے خاندان کا بھی خیال رکھتی ہے اور گھر و خاندان کو مشکلوں اور پریشانیوں سے بچاتی ہے ۔ وہ بچوں اور مویشوں کو بیمار ہونے نہیں دیتی ہے ۔ وہ گھر والوں کو مختلف ہدایات اور مشورے خوابوں اور اشاروں سے دیتی ہے ۔ گھر کے افراد کے بعض رنگوں کے لباس پر پہنے کی پابندی ہے ۔
یہ وہ مرحلہ ہے جب ستی ماتا باقاعدہ دیوی کا روپ دھار سکتی ہے ۔ اگر کا کوئی فرد اگر چالاک ہوتا ہے تو وہ اس دیوی کی رضا اور اور منتوں کو گھر سے نکال کر گائوں میں لے جاتا ہے اور گائوں کے لوگ اس کی باقاعدہ پوجا کرتے ہیں اور اس سے منتیں مانتے ہیں ۔ یہاں تک گائوں میں اس کا مندر بن جاتا تھا ۔
دیوی ستی
خرافات میں دیوی ستی کو ایک ایسی بیوی ہے ۔ جو اپنی مرضی سے جل کر مر جاتی ہے ۔ لیکن یہ ستی کا معاملہ نہیں ہے ۔ کیوں کہ دیوی بیوہ نہیں ہوتی ہے ۔ یہ کوئی معاملہ ہوتا ہے مثلاً خودکشی یا قتل ۔
زندہ تدفین
ہندو صرف دو سال سے کم عمر افراد کی لاشوں کو ہی دفن کرتے ہیں۔ دو سال سے زیادہ عمر کے افراد کا روایتی طور پر نذر آتش کیا جاتا ہے ۔ کچھ یورپی یاداشتوں میں ہندوستانی ستیوں کی تفصیلات پیش کی گئیں ہیں ۔ جس میں بیوہ کے اپنے مردہ شوہر کے ساتھ تدفین بھی شامل ہے ۔ جین بپٹسٹ ٹاورنیر Jean-Baptiste Tavernier جو سترویں صدی عیسویں کے سیاح اور جواہرات کے تاجر ہیں نے لکھا ہے کہ خواتین کو اپنے مردہ شوہروں کے ساتھ کورمینڈل کے ساحل میں دفن کیا گیا تھا اور لوگ آخری رسومات کے دوران ناچتے تھے ۔
اٹھاویں صدی کے فلیمش مصور فرانز بلتھازر سولوینسFrans Balthazar Solvyns provided نے تدفین میں شامل ایک ہندوستانی ستی کے بارے میں عینی شاہد کا بیان بتایا ہے ۔ جس نے سولوینس کو بتایا ہے کہ ستی سے پہلے عورت نے اپنا سر منڈوایا اور وہ موسیقی شامل تھی اور اس کی نگرانی ایسٹ انڈیا ٹریڈنگ کمپنی کے عہدیداروں نے کی تھی ۔ وہ اس ہندو عورت کی بہادری کی تعریف کرتے تھے مگر اسے وحشیانہ بھی کہتے تھے ۔
ستی (روک تھام) ایکٹ 1987 حصہ اول دفعہ 2 (سی) میں ستی کی تعریف کے تحت بیوہ عورت کو زندہ جلانا ہی بلکہ زندہ دفن کرنا بھی شامل ہے ۔ جو اس رواج کی طرف اشارہ ہے ۔
ماخذ ۔ انگش وکی پیڈیا
تہذیب و تدین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں