46

سرائیو

مگر ابھی توشتار کا ذکر ختم نہیں ہوا ۔ اس کا ذکر ایک دوسرے افسانے میں بھی آتا ہے جو پیالے کے افسانے کی طرح قابل ذکر ہے اور اس کی تشریح میں سخت اختلافات ہیں ۔ ہندوستان کے شارحین میں اور یورپ میں بھی ۔ یہ اشونوں کی پیدائیش کا افسانہ ہے جو ذیل کی مشہور عبارت میں حسب عادت مبہم طریقے سے بیان کیا گیا ہے ۔ (رگ وید دہم ۱۷،ا۔۲) 
توشتار اپنی بیٹی کی شادی کا سامان کرتا ہے اور تمام دنیا اس میں شریک ہوتی ہے ۔ یاما کی ماں جو مہا ووسوت کی بیوی تھی غائب ہوگئی ۔ دیوتاؤں نے اس غیر فانی کو فانیوں سے چھپا دیا اور اس کی ایک ہمشکل پیدا کرکے ودسوت کے حوالے کیا ۔ تب سرانیو نے دونوں اشونوں کو جنا اور اس کے بعد دونوں توام بھائیوں کو چھوڑ دیا ۔
بچوں کے دو جوڑے ہیں اس طرح یاما کی توام بہن یامی بھی اس میں شریک ہوجائے گی ۔ اس کا ذکر نہیں ہے ۔ یاما کے ساتھ ایک عجیب و غریب مکالمے ہیں اس ذکر رگ وید کے ایک جزو میں ذکر آیا ہے ۔ مگر یہ جزو مشکوک ہے اور زمانہ بعد کے برہمنی عقائد سے متاثر معلوم ہوتا ہے ۔ یامی کے نام کا اضافہ بعد میں غالباً ہوا ہوگا ، کیوں کہ یاما کے معنی توام کے ہیں ۔  
پہلے بیان ہوچکا ہے کہ یاما وِوَسوت کا بیٹا تھا ۔ اب ہمیں یہ معلوم ہوا کہ اشون بھی ووسوت کے بیٹے ہیں اور توشتار کے نواسے اور ان کی ماں تنگ دل دیوتا کی بیٹی تھی ۔ اس سے ہمیں سرائیو کے حسب و نسب کا علم ہوگیا ۔ مگر اس کی ذات سے فطرت کے کس منظر سے مراد ہے ۔ اس میں علمائے افسانیات کی مختلف جماعتوں میں اختلاف ہے ۔ جو لوگ کہ آسمانی جوڑوں سے مراد زیادہ تر سوریا اور اشاس سے لیتے ہیں ۔ اس میں میکس میلر اور اینجیلو ڈی گوبر ناٹس شامل ہیں ۔ جب کہ دوسری جماعت جس کا سربرا اڈالبرٹ کہن ہیں کا خیال ہے کہ پنجاب کے آریا سوائے باد و باران کے جملہ دیگر مناظر فطرت سے بالگل غافل تھے ۔ وہ اس کو بارش کا بادل سمجھے ہیں ۔ مگر ان دونوں تشریحوں میں کچھ نہ کچھ سقم ہے ، کیوں کہ اوشاس (سپیدہ صبح) شفق کی ماں نہیں ہوسکتی ہے ۔ جو اس سے قبل نمودار ہوتی ہے ۔ گو ویدوں میں اس قسم کے اختلافات موجود ہیں ۔ جس میں اشاس کو اشونوں کی بہن یا بیوی بیان کیا گیا ہے اور ایک موقع پر اس کے رتھ میں بیٹھتی تھی ۔ دوسرے قیاس پر یہ اعتراض ہوتا کہ بارش کے بادل کو نور کے کسی منظر سے کیا تعلق ہے ۔ کیوں کہ دو عالموں سے تعلق ہے ؟ بادل کا کرہ ہوائی سے اور نور کا آسمان سے ۔ مگر سرائیو کے لفظی معنی تیزرو اور ڈورنے والے کے ہیں اور جن محققین نے ابتدا میں اس مسلے پر غور کیا انہون نے بھی یہ خیال کیا ہوگا کہ لقب سپیدہ صبح یا بادلوں کے لیے موزوں ہوسکتے ہیں ، مگر ایک نوجوان محقق نے اس کو خوب حل کی جو قابل تسلیم ہے ۔    
بیان کیا گیا ہے کہ اشون رات کی آخر گھڑی میں آتے ہیں اور رفتہ رفتہ تمام افق پر پھیل جاتے ہیں یا تاریکی کو دور کرکے تمام مخلوقات کو روشنی پہنچاتے ہیں ۔ اس لیے ہم سپید صبح یا بارش یا بادل کو اس کی ماں قرار نہیں دے سکتے ہیں ۔ بلکہ تسلسل کے لحاظ سے کسی دوسرے منظر فطرت کی تلاش کرنی چاہیے ۔ جو اشاس (سپید صبح) اور شفق (اَشُوِن) سے ماقبل ہوا وہ سوائے رات کے دوسرا نہیں ہوسکتا ہے ۔ سرائیو کی ایک صفت ہے جس کے ساتھ نکھٹے کا اسم آنا چاہیے اور دونوں کے معنی مل کے تیزرو رات کے ہوں گے جو جلدی سے آتی ہے اور غائب ہوجاتی ہے ۔

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں