45

سراما

رگ وید کی پراسرار دیوی جو توام بچوں کی ماں اور اس کا نام سراما ہے ۔ نام سے لگتا ہے کہ سرائیو (رات) سے مشابہ ہے ۔ کیوں کہ سرما کے معنی تیز رفتار یا ڈورنے والے کے ہیں ۔ اس کے توام بچے سرامے یا کتے جو یاما کے پیامبر ہیں ۔ معلوم ہوتا کہ وہ خود اندر کی خاص پیغامبر تھی جس سے جاسوسی کا کام لیا جاتا تھا ۔ جن کا رگ وید میں تفصیل دی گئی ہے ۔ پانی جو حریض تاجر اور لٹیرے تھے ۔ انہوں نے کی دودھ دینے والی گایوں کو چرالیا ۔ اندر گایوں کا چھڑانے کے لیے برہمستی (دعا کا دیوتا) اور نو انگراؤں (پجاریوں) کو ساتھ لے روانہ ہوا اور اس سے پہلے اس نے سراما کو بھیجا کہ پانیوں کو سمجھائیں ۔ وہ پانیوں کے پاس پہنچی وہاں گائیں ایک غار میں بند تھیں اور سراما نے ان کی آوازیں ایک سوراخ میں سے سنی ۔ بالآخر وہ پانی قوم کے چوروں کے پاس پہنچی اور ان سے جو گفتگو ہوئی وہ رگ وید (رگ وید دہم 108) میں دی گئی ہے ۔

ٍ سراما پانیوں کو اندر کا پیغام دیتی ہے کہ وہ گائیں واپس کردیں اور ان کو اندر کے عیض و غضب سے ڈراتی ہے ۔ مگر پانی نہیں مانتے ہیں اور سراما کو کہتے تو بھی ہمارے ساتھ رہ ۔ مگر سراما انکار کرتی ہے اور ناکام ہوکر واپس چلی جاتی ہے ۔ اس کے بعد سراما اندر کی رہبری کرتی اور اندر آسمانی راستہ پر تیز رفتاری اور ثابت قدمی کے ساتھ وہ اندر کے آگے آگے چلتی تھی تیزی سے اس مقام پر لے جاتی ہے جہاں غار میں گائے قید تھیں ۔ پہاڑ کے پینچ کر پہنچے تو انگئراؤں کا زور دار گانا گائیوں کی آواز سے مل گیا اور اندر اور برہسپتی بھی پہنچ گئے ۔ اندر نے اپنے عصا کو مار کر پہاڑ کر ریزہ ریزہ کر دیا اور گائے آزاد ہوگئیں اور برہسپتی گایوں کو ہانکتا ہوا لے گیا ۔ جیسے کہ ہوا بادلوں کو منتشر کرتی ہے ۔ پانی سخت خوف زدہ ہوگئے اور غار کا دیو اپنی خوب صورت گایوں کے لیے اس طرح روتا تھا جسیے کہ درخت اپنے پتوں کے لیے جب کہ وہ کہرے سے جھڑ جائیں ۔
یہ قصہ رگ وید میں بیان کیا گیا ہے اور بہت مقبول ہے کیوں کہ اس کا متعدد مقامات پر حوالہ ہے ۔ مگر سراما کا ذکر صرف پانچ یا چھ مقامات پر ہے ۔
یہ قصہ ایک ناٹک کی طرح ہے اور توضیح کا محتاج نہیں ۔ البتہ سراما کون تھی اس کے متعلق اختلاف ہے ۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ سپید صبح یا بادل ہے ۔ مگر بہ ظاہر باد باراں کے ایک زبردست طوفان کا پیش خیمہ معلوم ہوتی کہ فطرت کے لحاظ سے اگر کوئی توضیح ہوسکتی ہے تو یہ سراما سے مراد آندھی ہے جو زور کی بارش کا پیش خیمہ ہوتی ہے ۔ آندھی ہے جو زور کی بارش کا پیش خیمہ ہوتی ہے ۔ آندھی کو ہی آسمان کا جاسوس کہہ سکتے ہیں ۔ وہی گایوں (بادلوں) کو اس ٹھوس سیاہ پہاڑ سے نکالتی ہے جو افق پر ہے ۔ مگر اس کام کو وہ اس وقت تک نہیں کرسکتی جب کہ طوفان کا دیوتا اور اس کی فوج پہاڑ کو توڑ نہ دیں ۔ اس توضیح کی اس امر سے تصدیق ہوتی ہے کہ سراما کی اولاد کلبی کو سرامے کہا گیا ہے ۔ جس سے بلاشبہ شفق سے توام بھائیوں سے مراد ہے ۔ (اشونوں یعنی صبح کی شفق کے توام بھائیوں کے مقابلے میں) جنہوں نے جاسوسی اور مویشی کا ہانکنا اپنی ماں سے ورثے میں پایا ہے ۔ البتہ وہ جن مویشیوں کو وہ ہانکتے ہیں وہ انسان ہیں ۔ اس لیے اس سے مراد یقینا شفق سے ہے ۔ جس کا اور ہوا کا ہمیشہ ساتھ رہتا ہے ۔ کیوں کہ جنوبی ممالک میں بعد غروب آفتاب کے فوراً ہوا چلنے لگتی ہے ۔ یہ بھی قرین قیاس ہے کہ بوجہ مرور زمانہ اشونوں کی طرح یہ دونوں توام بھائی بھی علحیدہ ہو کر صبح و شام سے فرداً فرداًً متعلق ہوگئے ہوں ۔ ایک برہمن میں ایک شعر ہے جس میں دن اور رات کو موت کے پھیلے ہوئے ہاتھ کہا گہا ہے ۔
لسانیات کے ماہرین کا خیال ہے کہ سرامے وہی دیوی ہے جس یونانی ہر دیوتا کہتے ہیں ۔ جو دیوتاؤں کا پیامبر اور قانون دان ہے اور گایوں کو چرانے والا مزدوروں کا رہبر ہے ۔ ہرمس سے مراد بھی آندھی کے ہیں ۔
یہ واضح فطرتی افسانہ تو ختم ہوگیا مگر فطرتی افسانے رفتہ رفتہ مسخ ہوجایا کرتے ہیں اور رفتہ رفتہ زمین پر اتر کر زمانہ قدیم کے عقلمندوں اور سورماؤں سے متعلق نہ ہو جائیں ۔ جب بھی قومیت اور مرور زمانہ کی وجہ ان میں تغیرات پیدا ہوجاتے ہیں ۔ گو فوق الانسانی ہستیوں سے ان کا تعلق قائم رہے ۔ سراما کے قصے کا بھی یہی حال ہوا ۔ قبل اس کے کہ مدون اور مکمل ہوکر وید کے بھجنوں میں جگہ پائے ۔ کیوں کہ اس کی شکل میں زمانہ حال کے علما کی تلاش و جستجو نے اس میں روحانی یا مذہبی عناصر دریافت کیے ہیں جو پجاریوں کے ہمہ گیر اثر سے داخل ہوگئے تھے اور جن سے زمانہ بعد میں برہمنوں کا پیدا ہوا ۔ افسانے کی اس تعمیر شدہ صورت میں سراما بجائے قدرت کی ایک قوت کے انسان کی دعا یا منتر ہوجاتی ہے ۔ کیوں کہ قدیم ویدک زمانے میں بھی دعا سے مراد اس کیفیت قلبی سے باقی نہ رہی تھی ۔ جن میں انسان کو خدا کی قربت ہوتی ہے ۔ جو قدیم رشیوں کو ضرور حاصل رہی ہوگی ۔ جو بھجنوں کے لکھنے والے تھے ۔ مگر زمانہ زیر بحث میں دعا سے مراد صرف منتروں کے رٹنے سے تھی اور خیال کیا جاتا تھا کہ منتروں میں ایک طلسمی قوت ہے اور عناصر یعنی دیوتاؤں پر بھی ان کا اثر ہوتا ہے ، اس طور پر چونکہ سراما دعا کے مترادف ہے ۔ کہتے ہیں کہ وہ سیدھے راستے (ریت کا راستہ یا جسے زمین پر رسوم مذہبی کا راستہ کہتے ہیں) پر چلتی ہے ۔ گایوں کو تلاش کرتی ہے ۔ چوروں کو ڈراتی ہے اور پھر دیوتا کو زبردست اصطبل تک لے جاتی ہے اور جب وہ اس کو توڑتا ہے تو وہ پاس کھڑی ہوجاتی ہے ۔ یہ دوسری توضیح زیادہ وثوق ہوجائے گی ۔ اگر ہم اس امر کا لحاظ رکھیں کہ اس موقع پر اندر کے ساتھی ماروت تھے بلکہ انگیراس جو نیم دیوتا اور بپجاری تھے ۔ جن کے مطلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ زمانہ قدیم کے پجاری تھے جو مرنے کے بعد دیوتا ہوگئے تھے ۔ مگر دراصل ان پجاریوں سے مراد پاک بھجنوں سے ہے جو دیوتا ہوگئے ہیں ۔ جو ہمیشہ ہوائی راہ میں گاتی رہتی ہیں ۔ واضح رہے کہ مقدس گیت کی آسمانی شکل گرج کی آواز ہے جو بیان کیا جاتا ہے کہ انگیراؤں کے گانے کی آواز مقید گایوں کی آواز سے مل جاتی ہے ۔ اس سے یقینا مراد جنوبی ملک میں طوفان باد و باران کی گرج کی سے ہے جو باز گشت دور کے پہاڑوں سے آتی ہے ۔ اصطبل جس زور کی آواز سے کھلتا ہے اس سے متعلق بجلی کی گڑگڑاہٹ سے ہے جب کہ وہ گرتی ہے ۔ کیوں کہ آسمانی موسیقی کے باعث صرف تین چیزوں یعنی گرج ، آندھی اور بارش سے مراد مقدس بھجنوں سے ہے ۔ جو زمانہ قدیم ترین زبان میں ہیں جن کو صرف دیوتا سمجھ سکتے ہیں مگر انسان نہیں ہے ۔
تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں