46

سراما

ایک اور پراسرار دیوی جو توام بچوں کی ماں جس کا نام سراما ہے ۔ نام سے معلوم ہے کہ وہ سرائیو سے مشابہ ہے ۔ کیوں کہ اس کے معنی (تیز رفتار) یا ڈورنے والے کے ہیں ۔ اس کے توام اولاد سرامے یا کتے جو یاما کے پیامبر ہیں ۔ معلوم ہوتا کہ وہ خود اندر کی خاص پیغامبر تھی جس سے جاسوسی کا کام لیا جاتا تھا ۔ اس کے ایک ایسے کارنامے کا رگ وید میں مفصل ذکر ہے ۔ بیان کیا گیا ہے کہ پانیوں کی قوم نے جو لٹیرے اور حریض تاجر تھے ۔ ان کی دودھ دینے والی گایوں کو چرالیا تھا جس سے بنی نوع انسان غذا حاصل کرتے تھے ۔ اندر گایوں کا چھڑانے کے لیے برہمستی (دعا کا دیوتا) اور نو انگراؤں (آسمانی پجاری) کو ساتھ لے روانہ ہوا ۔ مگر روانگی سے قبل اس نے سراما کو جاسوسی کے لیے بھیجا ۔ وہ سیدھی وہاں پہنچی اور دیکھا کہ گائیں مظبوط اصطبل میں مقید ہیں جو ایک غار میں ہے ۔ اس نے ان کی آوازیں ایک سوراخ میں سے سنی ۔ بالآخر وہ پانی قوم کے چوروں کے پاس پہنچی اور ان سے جو گفتگو ہوئی وہ رگ وید (رگ وید دہم ۱۰۸) میں عجیب و غریب چیز ہے ۔

ٍ پانی ۔ ’’سراما یہاں تو کس لیے آئی ہے ؟ کیوں کہ یہ راہ نہایت دور دراز اور پر پیج ہے ؟ تجھے ہم سے کیا کام ہے ؟ تو نے سلامتی کے سفر کیا ؟
سراما ۔ ’’اندر نے مجھے پیغام دے کر بھیجا ہے ۔ اے پانیو وہ تہارے خزانوں کا خواہشمند ہے ۔ اسی پیام کی حامل ہونے کی وجہ سے میں راسا ندی (ایک خیالی ندی جو گہری اور خطرناک ہے ۔ یعنی تاریکی یا موت کی ندی) کو عبور کرنے سے نہ ڈری اور اس کے پار آگئی’’۔
پانی ۔ ’’پر اندر کون ہے ۔ جس کا پیام تو اتنے دور سے لائی ہے ۔ اس کی شکل کیسی ہے ۔ اگر وہ یہاں آئے ہم اسے دوست بنالیں گے ۔ اسے اپنی گائے کا چرواہا بنا دیں گے’’۔
سراما ۔ ’’تم اسے جس کا پیام میں لائی ہوں نقصان نہیں پہنچاسکتے ہو ، مگر وہ تمہیں نقصان پہنچا سکتا ہے ۔ گہری ندیاں اسے روک نہیں سکتیں ہیں ۔ اے پانیوں اندر آتے ہی تمہارا صفایا کر دیے گا’’۔
پانی ۔ ’’اے سراما ! جن گایوں کو ڈھونڈنے آئی ہے وہ دنیا کے کنارے پر اڑ رہی ہیں ۔ پیاری تجھے اپنے مویشی کون لڑے بغیر دے سکتا ہے ۔ کیوں کہ سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے ہتھیار بھی تیز ہیں’’۔
سراما ۔ ’’تمہاری باتوں سے مجھے چوٹ نہیں لگتی ہے ۔ اے پانیوں ! لیکن تمہارے جسموں پر تیر اثر نہ کرتے ہوں اور راستہ حد سے درجہ دشوار گزار ہو ۔ مگر برسپتی اس کی پروا نہ کرے گا’’۔
پانی ۔ ’’وہ خزانہ اے سراما ! پہاڑ میں بند ہے ۔ یہ خزانہ گایوں ، گھوڑوں اور سیم و زر سے پر ہے ۔ پانی اس کی نگہبانی کرتے ہیں جو اپنے کام میں طاق ہے تیرا آنا بے سود ہے’’۔
سراما ۔ رشی یہاں سوما سے مخمور ہوکر آئیں گے ۔ آیا سیا آئے گا اور نوانگیراس آئیں گے ۔ وہ اصطبل کو تقسیم کرلیں گے ۔ تب پانی اپنے الفاظ تھوک دیں گے ۔ (یعنی خیال کریں گے کہ کاش ہم ان الفاظ کو زبان سے نہ نکالتے)’’۔
پانی ۔ اے سراما تو یقینا دیوتاؤں کی خفگی سے یہاں بھاگ آئی ہے ۔ آہم تجھے اپنی بہن بنالیں ۔ یہاں سے نہ جا ۔ اے پیاری ہم تجھے اپنی کچھ گائے دیں گے’’۔
سراما ۔ میں نہ بھائی جانوں نہ بہن ، اس معاملے کو اندر خوب جانتا ہے اور غضب ناک انگرا ۔ وہ لوگ اپنی گایوں کے لیے پریشان تھے اس لیے اے پانیوں ! یہاں سے چلے جاؤ ۔ دور جلے جاؤ’’۔
سراما کی جاسوسی اس کی حسن تدبیر سے زیادہ کارگر ہوئی اور وہ واپس آکر اندر کی رہبر بن گئی ۔ تیز رفتاری اور ثابت قدمی کے ساتھ وہ ان کے آگے آگے چلتی تھی اور ان کے چوڑے اور قدیم آسمانی راستے سے لے گئی جو سیدھا اس مقام تک گیا ہے ۔ جب وہ پہاڑ کے پاس پہنچے تو انگئراؤں کا زور سے گانا گائیوں کی آواز سے مل گیا ۔ اندر اور برہسپتی بھی پہنچ گئے ۔ اندر کے عصا کی چوٹ سے پہاڑ شق ہوگیا اور برہسپتی گایوں کو ہانکتا ہوا لے گیا ۔ جیسے کہ ہوا بادلوں کو منتشر کرتی ہے ۔ پانی سخت خوف زدہ ہوگئے ۔ غار کا دیو اپنی خوب صورت گایوں کے لیے اس طرح روتا تھا جسیے کہ درخت اپنے پتوں کے لیے جب کہ وہ کہرے سے جھڑ جائیں ۔
یہ قصہ رگ وید میں بیان کیا گیا ہے مگر اس قدر مخصر اور منتشر ہیں ۔ یہ افسانہ ہر دلعزیز معلوم ہوتا ہے ، کیوں کہ اس کا متعدد مقامات پر حوالہ ہے ۔ مگر سراما کا ذکر صرف پانچ یا چھ مقامات پر ہے ۔
یہ قصہ جس میں ناٹک کی چاشنی موجود ہے توضیح کا محتاج نہیں ۔ البتہ صرف سراما کی اصلیت کے متعلق اختلاف ہے ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ سپید صبح یا بادل ہے ۔ مگر بہ ظاہر باد باراں کے ایک زبردست طوفان کا پیش خیمہ معلوم ہوتی کہ فطرت کے لحاظ سے اگر کوئی توضیح ہوسکتی ہے تو یہ سراما سے مراد آندھی ہے جو زور کی بارش کا پیش خیمہ ہوتی ہے ۔ آندھی ہے جو زور کی بارش کا پیش خیمہ ہوتی ہے ۔ آندھی کو ہی آسمان کا جاسوس کہہ سکتے ہیں ۔ وہی گایوں (بادلوں) کو اس ٹھوس سیاہ پہاڑ سے نکالتی ہے جو افق پر ہے ۔ مگر اس کام کو وہ اس وقت تک نہیں کرسکتی جب کہ طوفان کا دیوتا اور اس کی فوج پہاڑ کو توڑ نہ دیں ۔ اس توضیح کی اس امر سے تصدیق ہوتی ہے کہ سراما کی اولاد کلبی کو سرامے کہا گیا ہے ۔ جس سے بلاشبہ شام کی شفق کے توام بھائیوں سے مراد ہے ۔ (اشونوں یعنی صبح کی شفق کے توام بھائیوں کے مقابلے میں) جنہوں نے جاسوسی اور مویشی کا ہانکنا اپنی ماں سے ورثے میں پایا ہے ۔ البتہ وہ جن مویشیوں کو وہ ہانکتے ہیں وہ انسان ہیں ۔ اس لیے اس سے مراد یقینا شفق سے ہے ۔ جس کا اور ہوا کا ہمیشہ ساتھ رہتا ہے ۔ کیوں کہ جنوبی ممالک میں بعد غروب آفتاب کے فوراً ہوا چلنے لگتی ہے ۔ یہ بھی قرین قیاس ہے کہ بوجہ مرور زمانہ اشونوں کی طرح یہ دونوں توام بھائی بھی علحیدہ ہو کر صبح و شام سے فرداً فرداًً متعلق ہوگئے ہوں ۔ ایک برہمن میں ایک نادر شعر ہے جس میں دن اور رات کو موت کے پھیلے ہوئے ہاتھ کہا گہا ہے ۔
لسانیات کے ماہرین کا خیال ہے کہ سرامے وہی دیوی ہے جس یونانی ہر دیوتا کہتے ہیں ۔ جو دیوتاؤں کا پیامبر اور قانون دان ہے اور گایوں کو چرانے والا مزدوروں کا رہبر ہے ۔ ہرمس سے مراد بھی آندھی کے ہیں ۔
یہ واضح فطرتی افسانہ تو ختم ہوگیا مگر فطرتی افسانے رفتہ رفتہ مسخ ہوجایا کرتے ہیں اور رفتہ رفتہ زمین پر اتر کر زمانہ قدیم کے عقلمندوں اور سورماؤں سے متعلق نہ ہو جائیں ۔ جب بھی قومیت اور مرور زمانہ کی وجہ ان میں تغیرات پیدا ہوجاتے ہیں ۔ گو فوق الانسانی ہستیوں سے ان کا تعلق قائم رہے ۔ سراما کے قصے کا بھی یہی حال ہوا ۔ قبل اس کے کہ مدون اور مکمل ہوکر وید کے بھجنوں میں جگہ پائے ۔ کیوں کہ اس کی شکل میں زمانہ حال کے علما کی تلاش و جستجو نے اس میں روحانی یا مذہبی عناصر دریافت کیے ہیں جو پجاریوں کے ہمہ گیر اثر سے داخل ہوگئے تھے اور جن سے زمانہ بعد میں برہمنوں کا پیدا ہوا ۔ افسانے کی اس تعمیر شدہ صورت میں سراما بجائے قدرت کی ایک قوت کے انسان کی دعا یا منتر ہوجاتی ہے ۔ کیوں کہ قدیم ویدک زمانے میں بھی دعا سے مراد اس کیفیت قلبی سے باقی نہ رہی تھی ۔ جن میں انسان کو خدا کی قربت ہوتی ہے ۔ جو قدیم رشیوں کو ضرور حاصل رہی ہوگی ۔ جو بھجنوں کے لکھنے والے تھے ۔ مگر زمانہ زیر بحث میں دعا سے مراد صرف منتروں کے رٹنے سے تھی اور خیال کیا جاتا تھا کہ منتروں میں ایک طلسمی قوت ہے اور عناصر یعنی دیوتاؤں پر بھی ان کا اثر ہوتا ہے ، اس طور پر چونکہ سراما دعا کے مترادف ہے ۔ کہتے ہیں کہ وہ سیدھے راستے (ریت کا راستہ یا جسے زمین پر رسوم مذہبی کا راستہ کہتے ہیں) پر چلتی ہے ۔ گایوں کو تلاش کرتی ہے ۔ چوروں کو ڈراتی ہے اور پھر دیوتا کو زبردست اصطبل تک لے جاتی ہے اور جب وہ اس کو توڑتا ہے تو وہ پاس کھڑی ہوجاتی ہے ۔ یہ دوسری توضیح زیادہ وثوق ہوجائے گی ۔ اگر ہم اس امر کا لحاظ رکھیں کہ اس موقع پر اندر کے ساتھی ماروت تھے بلکہ انگیراس جو نیم دیوتا اور بپجاری تھے ۔ جن کے مطلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ زمانہ قدیم کے پجاری تھے جو مرنے کے بعد دیوتا ہوگئے تھے ۔ مگر دراصل ان پجاریوں سے مراد پاک بھجنوں سے ہے جو دیوتا ہوگئیں ہیں ۔ جو ہمیشہ ہوائی راہ میں گاتی رہتی ہیں ۔ واضح رہے کہ مقدس گیت کی آسمانی شکل گرج کی آواز ہے جو بیان کیا جاتا ہے کہ انگیراؤں کے گانے کی آواز مقید گایوں کی آواز سے مل جاتی ہے ۔ اس سے یقینا مراد جنوبی ملک میں طوفان باد و باران کی گرج کی سے ہے جو باز گشت دور کے پہاڑوں سے آتی ہے ۔ اصطبل جس زور کی آواز سے کھلتا ہے اس سے متعلق بجلی کی گڑگڑاہٹ سے ہے جب کہ وہ گرتی ہے ۔ کیوں کہ آسمانی موسیقی کے باعث صرف تین چیزوں یعنی گرج ، آندھی اور بارش سے مراد مقدس بھجنوں سے ہے ۔ جو زمانہ قدیم ترین زبان میں ہیں جن کو صرف دیوتا سمجھ سکتے ہیں مگر انسان نہیں ہے ۔
تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں