75

سرسوتی

ابتدائی ویدک زمانے میں صرف ایک ندی سندھو کا ذکر ہے اور اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ سرسوتی سے مراد سندھو ہے جو اس کا اصلی نام تھا ۔ مگر رفتہ رفتہ اس کو صرف سندھو یعنی ندی کہنے لگے ۔ جب آریا ندی کو عبور کرتے ہوئے بہت دور مشرق کی طرف چلے گئے وہ ایک ندی کے پاس رگ گئے جہاں انہیں ایک زمانے تک ٹہرنا پڑا اور وہیں ان کی آبادیاں قائم ہوگئیں ۔ اس ندی کو بھی قدیم تعلقات اور ایام گزشتہ کے لحاظ سے سرسوتی کا نام دیا گیا جو آریاؤں کو بہت پیارا تھا ۔ کیوں کہ سرسوتی سنسکرت میں مترادف ہے قدیم ایرانی ہرقیتی کا جو اوستا میں نام ہے ۔ جو مشرقی ایران (افغانستان) کی بڑی ندی کا نام جسے اب ہلمند کہتے ہیں ۔ اس ندی کے کنارے غالباْ علحیدہ ہونے سے پہلے کچھ ہندی و ایرانی آریا قبائل یقینا مقیم ہوں گے ۔ جو بعد میں کوہ سلیمان کے تنگ دروں گزرتے ہوئے دریائے سندھ پہنچے ۔ اس لیے انہوں نے قدیم وطن کو یاد کرنے لیے سندھو ندی کو اس نام سے موسوم کیا ۔ اس کی تصدیق اتھرون وید کی ایک مختصر عبارت (ششم ، ۱۰) سے ہوتی ہے جس میں تین سرسوتیوں کا ذکر ہے ۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ پہلی ندی ہرقیتی ، دوسری سندھو ندی اور تیسری سوسوتی تھی ۔  
ان ندیوں میں ایک سرسوتی البتہ ایسی ہے جو بلحاظ اپنے انتہائی اعزاز اور متعدد شکلوں کے ایک اصلی دیوی خیال کی جاسکتی ہے جس کو چڑھاوے چڑھائے جاتے تھے اور سوما پینے کے لیے بلائی جاتی تھی ۔ آخری ویدک دور اور اس کے بعد کے عہد میں سرسوتی کا نام اور اس کا تقدس ایک چھوٹی سی ندی سے منسوب تھا جو اب صحرا کی ریت میں غائب ہوگئی ہے اور زمانہ قدیم میں بھی جب کچھ بڑی ہوگی اس اسقدر اہمیت ہوسکتی سوائے اس کے کہ وہ آریائی فتحوحات کی مشرقی حد تھی جس کے اس پار سے اگنی ویشو نارا یعنی قربانی کی آگ نہیں گئی تھی جس سے مراد آریائی فتوحات اور آریائی تمدن سے ہے ۔ نہ یہ ممکن ہے کہ جس ندی کی انتہائی تعریف کے ذیل کے اشعار میں کی گئی ہے ۔ وہ بھی سرسوتی ہو ۔ (رگ ویدساتوام ۹۵،ا۔۲)
’’سرسوتی آتی ہے ، شور و شغب کرتی ہوئی ، غذا لیے ہوئے ، ہماری جائے پناہ ہے ، پیتل کا قلعہ ہے ، مثل ایک سورما کے جو اپنے رتھ کو دوڑاتا ہو وہ سندھو (ندی) تیزی کے ساتھ آتی ہے ۔ دوسری ندیاں پیچھے رہ جاتی ہیں’’۔
سرسوتی ندیوں میں وہ سب سے پاک ہے ، وہ پہاڑوں سے آکر سمندر میں گرتی ہے ۔ دنیا کے لیے وہ دولت اور فلاح لے کر آتی ہے ۔ جو لوگ اس کے کناروں پر آباد ہیں ان کے لیے اس کے پانی میں دودھ اور شہد ہے’’۔
ویدک کے زمانے کے بعد سرسوتی کی پرستش زیادہ تر فضاحت و بلاغت کی دیوی کے ہوتی ہے ۔ گو ندی کی دیوی ہونے تخیل کبھی مٹا نہیں ۔ انگریزی میں ایسے فقرے مستعمل ہیں مثلاً الفاظ کا بہاؤ ، زبان کی روانی ، فضاحت کا دریا ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ندی کی دیوی سے فضاحت کی دیوی بن جانا دور از قیاس نہیں ہے ۔ رگ وید میں اس کی یہ خصوصیت نمایاں نہیں ہے ۔ مگر قربانی سے اس کا تعلق ظاہر ہے اور بھجنوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ رگ وید کے بعد کے حصوں میں سرسوتی سے نہ صرف مقدس نظموں کی بلاغت سے ہے ۔ بلکہ ان کی بحروں سے بھی جن کو برہمنوں میں بہت سرہایا گیا ہے اور دیوتاؤں کے برابر کردیا گیا ہے ۔

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں